تاریخ نامہ
ہر واقعہ، ہر کہانی

‏600 پَروں والا عظیم فرشتہ — جبرائیل علیہ السلام کے چونکا دینے والے واقعات

Spread the love

وہ ہستی جو عرش سے زمین تک پلک جھپکتے پہنچ جاتی ہے۔ جس کے ایک پَر کے کنارے سے پوری بستیاں زمین سے اکھڑ کر الٹ جاتی ہیں۔ ایک ایسا وجود جس کی اصل شکل دیکھ کر افق تک بھر جائے۔ یہ کوئی افسانوی کردار نہیں — یہ اللہ کے سب سے عظیم فرشتوں میں سے ایک، حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ آئیے آج ان کے بارے میں وہ باتیں جانتے ہیں جو قرآن اور صحیح احادیث میں محفوظ ہیں، مگر عام لوگوں تک کم ہی پہنچتی ہیں۔

اصل شکل — 600 پروں والا عظیم منظر

نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل، تخلیقی شکل میں پوری زندگی میں صرف دو مرتبہ دیکھا۔ ایک مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے قریب، اور دوسری مرتبہ مکہ کے مقام اجیاد پر۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل شکل میں دیکھا، جن کے چھ سو (600) پَر تھے، اور ہر پَر پورے افق کو بھر دیتا تھا (صحیح بخاری، تفسیرِ سورۃ النجم)۔ امام احمد نے مسند احمد میں یہ اضافہ بھی روایت کیا کہ ان کے پَروں سے موتی اور یاقوت جیسی چیزیں جھڑ رہی تھیں، اور ان کے پَروں و پاؤں کے تلووں کا رنگ سبز تھا — امام ابن کثیر نے البدایہ میں اس روایت کی سند کو “جَیِّد” (اچھی اور قابلِ قبول) قرار دیا ہے، اگرچہ یہ صحیح بخاری و مسلم کے اسی درجے کی نہیں جتنا خود 600 پَروں والا بنیادی حصہ ہے۔

میری آنکھوں نے جبرائیلؑ کو دیکھا۔ چھ سو پَر تھے ان کے۔ ہر ایک پَر افق کی وسعتوں کو اپنی آغوش میں لے لیتا تھا۔ اور ان مقدس پَروں سے موتی اور لعل ایسے جھڑ رہے تھے کہ ان کے شمار سے قلم بھی عاجز ہے۔ وہ شمار صرف اللہ کے علم میں ہے۔ (مسند احمد، سند: جَیِّد — ابن کثیر)

بعض کتب میں یہ بھی مذکور ہے کہ ایک بار نبی ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے اپنی اصل شکل میں سامنے آنے کی خواہش ظاہر کی، جب وہ عظیم ہستی ظاہر ہوئی تو نبی ﷺ اس کی ہیبت سے بہت متاثر ہوئے۔ تاہم اس واقعے کی مکمل تفصیل کی سند، 600 پَروں والی روایت کے مقابلے میں کمزور ہے، اس لیے اسے قطعی حقیقت کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا — البتہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کی اصل شکل کتنی عظیم الشان اور ہیبت ناک ہے۔

جبرائیل علیہ السلام
الله کے سب سے معتبر فرشتے جبرائیل علیہ السلام
کیا آپ جانتے ہیں؟
جب جبرائیل علیہ السلام انسانی شکل میں آتے تھے، تو زیادہ تر صحابی حضرت دِحیہ بن خلیفہ الکلبی رضی اللہ عنہ کی صورت اختیار کرتے — جو صحابہ میں سب سے خوبصورت مانے جاتے تھے، اور انہیں “یوسفِ بنو کلب” بھی کہا جاتا تھا۔

وہ صفات جو انہیں سب فرشتوں میں ممتاز کرتی ہیں

روح الامین — امانت دار روح: قرآن میں اللہ نے انہیں “الرُّوحُ الْأَمِينُ” کہا (سورۃ الشعراء 26:193) — یعنی وہ وحی پہنچانے میں ایک ذرا برابر بھی کمی بیشی نہیں کرتے۔

روح القدس — پاک روح: سورۃ البقرہ اور سورۃ النحل میں انہیں “روح القدس” کہا گیا ہے — پاکیزگی اور تقدس ان کی فطرت میں شامل ہے۔

شدید القویٰ — نہایت طاقتور: سورۃ النجم (53:5-6) میں اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن انہیں ایک “شدید القویٰ” ہستی نے سکھایا۔ مفسرین کے مطابق، یہی وہ طاقت تھی جس سے جبرائیل علیہ السلام نے قومِ لوط کی پوری بستیاں اپنے ایک پَر کے کنارے سے زمین سے اکھاڑ کر آسمان تک بلند کیں اور پھر انہیں الٹ کر واپس زمین پر دے مارا۔

عرش والے کے نزدیک مقتدر اور امانت دار: سورۃ التکویر (81:20-21) میں فرمایا گیا: “وہ عرش والے (اللہ) کے نزدیک صاحبِ قوت، بلند مرتبہ، وہاں اطاعت کیے جانے والے اور امانت دار ہیں۔”

اللہ کا خوف: بعض روایات میں منقول ہے کہ جب ان سے جہنم کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ رو پڑے اور کہا: “مجھے اللہ کا خوف سب سے زیادہ ہے۔” لیکن یہ بات صحیح بخاری و مسلم میں نہیں آئی، اس لیے ہم اسے پکی حدیث نہیں کہہ سکتے۔ اسے صرف ایک روایت کے طور پر لیا جا سکتا ہے — پھر بھی یہ خوفِ الٰہی کے تصور کو خوب اجاگر کرتا ہے۔

ہمارے لیے سبق
اگر اللہ کا سب سے مقرب اور طاقتور فرشتہ بھی اتنا خوفِ خدا رکھتا ہے، تو ہم جیسے کمزور اور گناہ گار انسانوں کو کتنا زیادہ ڈرنا چاہیے؟

رفتار — وہ جو پلک جھپکتے پہنچ جاتے ہیں

قرآن و حدیث میں جبرائیل علیہ السلام کی رفتار کا کوئی عددی پیمانہ (جیسے میل فی گھنٹہ) بیان نہیں ہوا — لیکن ان کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی رفتار انسانی تصور سے کہیں باہر ہے۔ معراج کی رات وہ نبی ﷺ کو ساتوں آسمانوں کی سیر کرا کر سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے — ایک ایسا سفر جو عام حالات میں ہزاروں سال لے لیتا۔

جبرائیل علیہ السلام
معراج کا ایک مقدس مقام: سدرۃ المنتہیٰ
ایک احتیاطی نوٹ
انٹرنیٹ پر ایک مشہور روایت گردش کرتی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کو تین مواقع پر “زمین پر پہنچنے سے پہلے” پہنچنے کا حکم ملا — حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالے جانے پر، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی چھری چلنے سے پہلے، اور حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں گرائے جانے پر۔ یہ کہانی مقبول عام ہے، لیکن اس کی سند کسی مستند حدیث کتاب (بخاری، مسلم) میں نہیں ملتی — اس لیے اسے “مشہور روایت” کے طور پر ہی لیا جانا چاہیے، حتمی حدیث کے طور پر نہیں۔

وہ گھر جہاں جبرائیل نہیں آئے

ایک دن جبرائیل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے ملنے کا وعدہ کیا، لیکن مقررہ وقت پر نہ آئے۔ بعد میں آ کر بتایا: “ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا تصویر ہو۔” یہ روایت صحیح بخاری اور مسلم دونوں میں موجود ہے، اور اس سے یہ اصول ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے ایسے گھروں میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا (بلا ضرورت) یا جاندار کی تصویر ہو۔

وہ خاموشی جس نے نبی ﷺ کو پریشان کر دیا

ایک عرصے تک جبرائیل علیہ السلام کا آنا رک گیا۔ نبی ﷺ اس خاموشی سے شدید پریشان ہوئے — کچھ مشرکین نے طعنہ دینا شروع کر دیا کہ “محمد ﷺ کے رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔” اسی موقع پر اللہ نے سورۃ الضحیٰ نازل فرمائی: “آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ ناراض ہوا ہے۔” اس واقعے (فترۃ الوحی) نے یہ سکھایا کہ وحی کا وقفہ بھی اللہ کی حکمت کا حصہ ہوتا ہے۔

حدیثِ جبرائیل — جب خود آ کر دین سکھایا

ایک دن سفید کپڑوں میں ملبوس، سیاہ بالوں والا ایک اجنبی شخص مسجد میں آیا۔ اس پر سفر کے کوئی آثار نہ تھے، اور صحابہ میں سے کوئی اسے پہچانتا نہ تھا۔ وہ نبی ﷺ کے اتنا قریب بیٹھا کہ اپنے گھٹنے نبی ﷺ کے گھٹنوں سے ملا دیے، اور ہاتھ رانوں پر رکھ کر اسلام، ایمان، اور احسان کے بارے میں سوالات کرنے لگا۔ ہر جواب پر وہ خود کہتا: “آپ نے سچ فرمایا۔” جانے کے بعد نبی ﷺ نے صحابہ کو بتایا: “یہ جبرائیل تھے، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔” (صحیح مسلم)

سینہ چاک کرنا — دو مرتبہ

بچپن میں، جب نبی ﷺ حضرت حلیمہ سعدیہ کے ہاں پرورش پا رہے تھے، جبرائیل علیہ السلام نے آ کر آپ ﷺ کا سینہ مبارک چاک کیا، دل نکال کر زم زم کے پانی سے دھویا، اور اس میں سے “شیطان کا حصہ” نکال کر دوبارہ سینہ بند کر دیا۔ یہی عمل معراج سے پہلے دوبارہ دہرایا گیا — تاکہ نبی ﷺ کا دل اس عظیم سفر کے لیے مکمل طور پر پاک اور تیار ہو۔

قرآن کا سالانہ دَور

ہر رمضان میں جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے ساتھ اس وقت تک نازل شدہ پورے قرآن کا دَور (دہرانا) کرتے تھے۔ یہ عمل ہر سال ایک مرتبہ ہوتا، جس میں نبی ﷺ اور جبرائیل علیہ السلام باری باری قرآن کی آیات پڑھ کر سناتے، تاکہ ترتیب اور الفاظ میں کسی قسم کی غلطی یا فراموشی نہ رہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ رمضان کی ہر رات جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات کرتے، اور اس ملاقات میں آپ ﷺ کی سخاوت ہوا سے بھی زیادہ تیز ہو جاتی (صحیح بخاری)۔ لیکن جس سال نبی ﷺ کی وفات ہوئی — یعنی ہجرت کے دسویں سال — اس سال یہ دَور معمول کے برعکس دو مرتبہ ہوا (صحیح بخاری)۔ نبی ﷺ نے خود اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات بتائی، اور یہی وہ لمحہ تھا جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کا انتقال قریب ہے — یہی وجہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس خبر پر رو پڑیں، اور نبی ﷺ نے انہیں یہ بھی بتایا کہ اہلِ بیت میں سب سے پہلے وہی آپ ﷺ سے آ ملیں گی، جس پر وہ ہنس پڑیں (صحیح بخاری)۔ صحابہ نے بعد میں اسی واقعے سے سمجھا کہ دَور کا دو مرتبہ ہونا دراصل نبی ﷺ کی زندگی کے اختتام کا ایک خاموش اشارہ تھا۔

معراج کی حد — جہاں جبرائیل بھی رک گئے

معراج کی رات، جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کو ساتوں آسمانوں کی سیر کراتے ہوئے سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے — وہ آخری حد جہاں مخلوق کا علم و ادراک ختم ہو جاتا ہے اور جس کے بارے میں سورۃ النجم میں تفصیل سے ذکر ہوا ہے۔ لیکن اسی مقام پر جبرائیل علیہ السلام رک گئے اور آگے بڑھنے سے معذرت کر لی۔ بعض روایات میں منقول ہے کہ انہوں نے عرض کیا: “اگر میں اس سے ایک انگلی برابر بھی آگے بڑھوں تو جل جاؤں گا۔” یہ جملہ اگرچہ صحیح بخاری و مسلم کے عین الفاظ میں نہیں ملتا، لیکن یہ ایک نہایت گہری بات کی طرف اشارہ کرتا ہے — دنیا کا سب سے طاقتور اور مقرب فرشتہ، جو 600 پَروں کا مالک تھا، جس نے قومِ لوط کی بستیاں تک اکھاڑ دی تھیں، وہ بھی ایک ایسی حد پر رک گیا جسے صرف نبی ﷺ کی ذات نے عبور کیا۔ نبی ﷺ اکیلے آگے بڑھے، رفرف (نور کا ایک خاص واسطہ) پر سوار ہو کر، اور اللہ تعالیٰ سے وہ قربت حاصل کی جو کسی اور مخلوق کو، فرشتوں سمیت، کبھی نصیب نہ ہوئی۔ یہ واقعہ نبی ﷺ کے مقام کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے — جہاں جبرائیل علیہ السلام جیسا عظیم فرشتہ بھی رک گیا، وہاں نبی ﷺ کا سفر جاری رہا۔

اسرا کی رات — براق پر سفر کا آغاز

معراج سے پہلے اسرا کا سفر ہوا — مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک۔ جبرائیل علیہ السلام خود براق نامی سواری لے کر آئے، ایک ایسی مخلوق جس کی رفتار کے بارے میں نبی ﷺ نے خود فرمایا کہ وہ اپنا قدم وہاں رکھتی تھی جہاں تک اس کی نظر پہنچتی۔ یعنی نظر جہاں تک جائے، اگلا قدم وہیں پڑے — ایک ایسی رفتار جس کا انسانی ذہن تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کی رہنمائی کرتے رہے، اور آسمانوں پر مختلف انبیاء سے ملاقات ہوئی، اور بالآخر معراج کی سیڑھی (مِعراج کا لفظی مطلب ہی “سیڑھی” ہے) کے ذریعے آسمانوں کی سیر کروائی۔

جبرائیل علیہ السلام خود براق نامی سواری لے کر آئے

ہر آسمان کے دروازے پر جبرائیل علیہ السلام نے خود دستک دی، اور ہر بار فرشتوں نے پوچھا: “کون ہے؟” جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا: “جبرائیل۔” پھر پوچھا گیا: “تمہارے ساتھ کون ہے؟” جواب ملا: “محمد ﷺ۔” اس طرح ساتوں آسمانوں کے دروازے، جبرائیل علیہ السلام کی گواہی اور رہنمائی سے، نبی ﷺ کے لیے کھلتے چلے گئے — یہاں تک کہ وہ مقام آ گیا جہاں خود جبرائیل علیہ السلام بھی رک گئے۔

قومِ لوط کی تباہی — ایک پَر کے کنارے سے

قرآن میں قومِ لوط کی سرکشی اور بدکاری کا ذکر آتا ہے، اور اس قوم کی تباہی کا ذمہ خود جبرائیل علیہ السلام کو سونپا گیا۔ مفسرین کے مطابق، جبرائیل علیہ السلام نے اپنے ایک پَر کے کنارے کو ان بستیوں کے نیچے داخل کیا، اور پوری کی پوری آبادیوں کو — گھروں، لوگوں، مویشیوں سمیت — زمین سے اس طرح اکھاڑ کر آسمان کی بلندی تک لے گئے کہ اوپر کے فرشتوں نے مرغوں کی آواز اور کتوں کے بھونکنے تک سنی۔ پھر ان بستیوں کو الٹا کر کے واپس زمین پر دے مارا، اور اوپر سے پتھروں کی بارش برسائی گئی۔ یہی وہ “شدید القویٰ” (نہایت طاقتور) صفت ہے جس کا ذکر سورۃ النجم میں ہوا۔

قوم لوط کی تباہیجب اللہ کا حکم آیا تو زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پتھر برسائے گئے۔ عبرت کا مقام ہے۔
عبرت کا واقعہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے قوم لوط کی بستیوں کو اپنے پَروں سے اٹھا کر الٹ دیا۔ اللہ کی نافرمانی کا انجام۔

یہ واقعہ اس بات کی سب سے بڑی مثال ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کی طاقت کسی عام مخلوق سے موازنہ نہیں کی جا سکتی — پھر بھی وہ ہر لمحہ مکمل طور پر اللہ کے حکم کے تابع ہیں، بغیر کسی سوال یا تاخیر کے۔

غزوہ بدر کے دن، جب مسلمانوں کی تعداد دشمن کے مقابلے میں انتہائی کم تھی، اللہ نے ایک ہزار فرشتے مدد کے لیے بھیجے۔ روایات کے مطابق جبرائیل علیہ السلام ان فرشتوں کی قیادت کر رہے تھے، دشمن کے دلوں میں خوف ڈال رہے تھے اور مسلمانوں کے حوصلے بلند کر رہے تھے۔

غزوہ بدرجہاں ایمان نے لشکر کو شکست دی۔
یوم الفرقان – جنگِ بدر حق اور باطل کا پہلا معرکہ۔ تعداد کم تھی، ایمان بڑا تھا۔ اللہ نے فرشتوں کی فوج سے مدد فرمائی۔

مریم علیہا السلام کے پاس انسانی شکل میں

جبرائیل علیہ السلام کا آنا صرف نبیوں کے لیے خاص نہ تھا۔ سورۃ مریم گواہ ہے کہ ایک دن حضرت مریم علیہا السلام نے دنیا سے کنارہ کر کے مشرق کی جانب تنہائی اختیار کی اور اپنے گرد پردہ تان لیا۔ اسی تنہائی میں ایک نورانی ہستی “ایک مکمل انسان” کے روپ میں ان کے سامنے جلوہ گر ہوئی۔ حضرت مریم علیہا السلام لرز گئیں اور بے ساختہ پکار اٹھیں: “میں رحمٰن کی پناہ چاہتی ہوں، اگر تجھے خدا کا خوف ہے۔” (سورۃ مریم 19:18)

حضرت مریم علیہا السلامجب وہ مشرق کی طرف الگ ہو گئیں اور خود کو پردے میں چھپا لیا۔ پھر اللہ نے اپنی روح کو بھیجا۔ فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا [مریم:
بشارت کا لمحہ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام کے پاس ایک کامل انسان کی شکل میں نور بن کر آئے
جبرائیل علیہ السلام نے فوراً وضاحت کی: “میں تو صرف تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہوں، تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ بیٹے کی خوشخبری دوں۔” (19:19) حضرت مریم علیہا السلام نے حیرانی سے پوچھا کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں، اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا: “ایسا ہی ہو گا، تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے آسان ہے، اور ہم اسے لوگوں کے لیے ایک نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں گے، اور یہ ایک طے شدہ امر ہے۔” (19:20-21)یہ واقعہ کئی لحاظ سے منفرد ہے: یہ واحد موقع ہے جہاں قرآن میں جبرائیل علیہ السلام کی کسی خاتون سے براہِ راست گفتگو کی مکمل تفصیل بیان ہوئی ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ کے اہم ترین پیغامات پہنچانے کی ذمہ داری جبرائیل علیہ السلام کو کسی بھی موقع پر، کسی بھی شکل میں، اور کسی بھی مخاطب کے سامنے سونپی جا سکتی تھی — چاہے وہ نبی ہو، رسول ہو، یا ایک نیک خاتون جسے اللہ نے چن لیا ہو۔

دیگر مذاہب میں جبرائیل کا ذکر

دلچسپ بات یہ ہے کہ جبرائیل (Gabriel) صرف اسلام تک محدود نہیں — یہودیت اور عیسائیت میں بھی ان کا ذکر ملتا ہے، اگرچہ ہر مذہب میں ان کا کردار قدرے مختلف انداز میں بیان ہوا ہے۔

یہودیت میں: عبرانی بائبل کی کتابِ دانیال (Book of Daniel) میں جبرائیل کا ذکر آتا ہے، جہاں وہ حضرت دانیال علیہ السلام کے پاس آ کر ان کے خوابوں اور رویاؤں کی تعبیر بیان کرتے ہیں۔ یہودی روایت میں انہیں چار عظیم فرشتوں میں سے ایک مانا جاتا ہے — میکائیل، جبرائیل، رافیل اور اوریل۔ بعض یہودی روایات میں انہیں اللہ کے عرش کے اطراف کھڑے فرشتوں میں شمار کیا گیا ہے، اور بعد کی یہودی روایات میں انہیں اسرائیل کا محافظ فرشتہ بھی کہا گیا ہے۔

عیسائیت میں: انجیل لوقا (Gospel of Luke) کے مطابق، جبرائیل ہی وہ فرشتہ تھے جنہوں نے حضرت زکریا علیہ السلام کو ان کے بیٹے یحییٰ (John the Baptist) کی پیدائش کی خوشخبری دی، اور پھر حضرت مریم علیہا السلام کے پاس آ کر عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت سنائی — جسے عیسائی روایت میں “The Annunciation” کہا جاتا ہے۔

یعنی تینوں ابراہیمی مذاہب — یہودیت، عیسائیت، اور اسلام — ایک ہی عظیم فرشتے کو مانتے ہیں، مگر ہر مذہب نے ان کے کردار کو اپنی اپنی روایت کے مطابق بیان کیا۔ اسلام میں ان کا سب سے بڑا اور مرکزی کردار یہی ہے کہ وہ خاتم الانبیاء محمد ﷺ پر مکمل قرآن نازل کرنے کے ذمہ دار رہے — ایک ایسی ذمہ داری جو دوسرے مذاہب میں بیان کردہ ان کے کرداروں سے کہیں زیادہ مرکزی اور فیصلہ کن ہے۔

آخری سبق
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا وجود ہمیں سکھاتا ہے کہ سب سے بڑی طاقت، سب سے تیز رفتار، اور سب سے مقرب مقام رکھنے کے باوجود بھی، حقیقی عظمت اطاعت اور خوفِ الٰہی میں ہے — نہ کہ طاقت کے اظہار میں۔ ایک ایسی مخلوق جو گناہ کر ہی نہیں سکتی، پھر بھی اللہ کے خوف سے روتی ہے — یہ ہمارے لیے سب سے بڑا سبق ہے۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وجود کا ہر واقعہ ہمیں ایک ہی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے — طاقت، رفتار، اور مقام جتنا بھی بلند ہو، اصل عظمت اطاعت اور فرمانبرداری میں ہے۔ یہی وہ سبق ہے جو ایک عام مومن کی زندگی کو بھی بدل سکتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات 

سوال: جبرائیل علیہ السلام کے کتنے پَر تھے؟
جواب: صحیح بخاری کے مطابق ان کے چھ سو (600) پَر تھے، جن میں سے ہر ایک پورے افق کو بھر دیتا تھا۔

سوال: کیا جبرائیل علیہ السلام دیگر مذاہب میں بھی مذکور ہیں؟
جواب: جی ہاں، یہودیت اور عیسائیت دونوں میں ان کا ذکر ملتا ہے، اگرچہ ان کا کردار ہر مذہب میں مختلف انداز میں بیان ہوا ہے۔

سوال: جبرائیل علیہ السلام کو “روح الامین” کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب: کیونکہ وہ اللہ کی وحی کو انبیاء تک بغیر کسی کمی بیشی کے، مکمل امانت داری سے پہنچاتے تھے۔

سوال: کیا جبرائیل علیہ السلام معراج کی رات نبی ﷺ کے ساتھ آخر تک گئے؟
جواب: نہیں، وہ سدرۃ المنتہیٰ تک ساتھ گئے، اس کے بعد نبی ﷺ اکیلے آگے بڑھے۔


حوالہ جات (References):
صحیح البخاری — کتاب التوحید، سورۃ النجم کی تفسیر (600 پَر والی روایت)
صحیح مسلم — کتاب الایمان (حدیثِ جبرائیل، اسلام/ایمان/احسان)
تفسیر ابن کثیر — سورۃ النجم، آیات 5-18
سورۃ الشعراء 26:193 (روح الامین)
سورۃ التکویر 81:19-21
سورۃ الضحیٰ — شانِ نزول (فترۃ الوحی)
سورۃ مریم 19:16-21 (جبرائیل کا مریم علیہا السلام کے پاس آنا)
صحیح بخاری — کتاب فضائل القرآن (سالانہ دَور کی روایت)
صحیح بخاری و مسلم — واقعۂ اسرا و معراج

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.