ستاروں کی قبر: قرآن اور بلیک ہولز کا حیرت انگیز تعلق
Al-Khunnas، At-Tariq، سورۃ الواقعہ — وہ قرآنی الفاظ جو جدید سائنس سے ملتے ہیں
مقدمہ: قرآن سائنس کی کتاب نہیں — نشانیوں کی کتاب ہے
قرآن کریم کا بنیادی مقصد انسان کی ہدایت اور تزکیہ نفس ہے۔ یہ فزکس، کیمسٹری یا فلکیات کی درسی کتاب نہیں۔ اس کے باوجود اس میں ایک ہزار سے زیادہ آیات ایسی ہیں جو کائنات، زمین، آسمان، پہاڑوں، سمندروں، نباتات اور خود انسانی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ بار بار الفاظ آتے ہیں: “أَفَلَا تَعْقِلُونَ”، “أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ”، “لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ”۔
اللہ تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا:
“عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں اور خود ان کے اندر دکھائیں گے، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ وہی حق ہے۔” سورۃ فصلت 41:53
۱۴۰۰ سال پہلے جب نہ دوربین تھی، نہ ٹیلی سکوپ، نہ Hubble، نہ James Webb — اس وقت قرآن نے ایسی چیزوں کی طرف اشارہ کیا جنہیں انسان نے ۲۰ویں اور ۲۱ویں صدی میں جا کر دریافت کیا۔اس لیے آج ہم بلیک ہول اور قرآن کے درمیان پائے جانے والے ان حیرت انگیز اشاروں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ ان میں سے تین بڑے انکشافات ہیں: بلیک ہولز، نیوٹران ستارے/پلسار، اور کائنات کا مسلسل پھیلاؤ۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یا یہ اس ذات کا کلام ہے جس نے کائنات بنائی؟ فیصلہ آپ کے غور و فکر پر چھوڑتے ہیں۔
بلیک ہول کیا ہے؟ — 6 نکات میں آسان وضاحت
بلیک ہول کو سمجھنے کے لیے راکٹ سائنس نہیں چاہیے۔ 6 باتیں یاد رکھیں:
- مُردہ ستارے کی قبر: جب ہمارے سورج سے 20 سے 30 گنا بڑا ستارہ اپنا سارا ایندھن جلا لیتا ہے، تو وہ ایک زبردست دھماکے “سپرنووا” کے ساتھ پھٹ جاتا ہے۔ اس کا بچا ہوا مرکز اپنے ہی وزن سے پچک کر بلیک ہول بن جاتا ہے۔ یہ ستارے کی آخری منزل، اس کی قبر ہے۔
- کثافت کا کمال: تصور کریں کہ پورے ماؤنٹ ایورسٹ کو دبا کر ایک چینی کے دانے جتنا کر دیا جائے۔ بلیک ہول کی کثافت اس سے بھی کھربوں گنا زیادہ ہوتی ہے۔ ایک چائے کے چمچ بھر بلیک ہول کا وزن پوری زمین کے برابر ہو سکتا ہے۔
- Event Horizon — واپسی کا راستہ نہیں: بلیک ہول کے گرد ایک پوشیدہ سرحد ہوتی ہے جسے Event Horizon کہتے ہیں۔ اسے پار کرنے کے بعد کوئی چیز واپس نہیں آ سکتی — روشنی بھی نہیں۔ اس لیے یہ کالا نظر آتا ہے اور اس کا نام “بلیک ہول” پڑا۔
- وقت سست پڑ جاتا ہے: آئن سٹائن کے نظریۂ اضافیت عمومی کے مطابق جتنی زیادہ کششِ ثقل، اتنا وقت سست۔ بلیک ہول کے قریب وقت کی رفتار انتہائی سست ہو جاتی ہے۔ اگر آپ وہاں 1 گھنٹہ گزاریں، زمین پر شاید 100 سال گزر چکے ہوں۔ یہ فلم “Interstellar” میں دکھایا گیا — اور یہ سائنسی حقیقت ہے۔
- Spaghettification — پاستہ بنا دیتا ہے: بلیک ہول کی کشش اتنی شدید اور غیر متوازن ہے کہ وہ قریب آنے والی ہر چیز کو لمبا کھینچ کر پاستہ کی طرح بنا دیتا ہے۔ آپ کے پاؤں سر سے زیادہ زور سے کھنچیں گے۔ سائنسدان اسے “Spaghettification” کہتے ہیں۔
بلیک ہول اور قرآن کی پہلی نشانی — سورۃ الواقعہ: ستاروں کے گرنے کی جگہ
“پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی — اور بے شک یہ بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانتے۔” سورۃ الواقعہ 56:75-76

قرآن اوربلیک ہول :لفظ “مَوَاقِع” کی گہرائی
عربی لغت میں “مَوَاقِع” کا مطلب ہے: گرنے کی جگہ، حتمی ٹھکانہ، منزل، اختتام۔ یہ “موقع” سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے گرنا۔
سائنس کیا کہتی ہے؟ جب بڑا ستارہ مرتا ہے تو وہ اپنے ہی مرکز میں اندر کی طرف گر کر منہدم ہو جاتا ہے۔ اس عمل کو “Gravitational Collapse” کہتے ہیں۔ اس گرنے کا نتیجہ بلیک ہول ہے۔ یعنی “ستارے کے گرنے کی جگہ” ہی بلیک ہول ہے۔
سب سے اہم بات: اللہ نے ساتھ ہی فرما دیا “وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ” — “یہ بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانتے”۔ یعنی ۱۴۰۰ سال پہلے مکہ کے عرب اس کی عظمت نہیں سمجھ سکتے تھے کیونکہ انہوں نے بلیک ہول دیکھا ہی نہیں تھا۔ آج جب سائنس نے بلیک ہول دریافت کیا تو پتا چلا کہ واقعی یہ کائنات کی سب سے پُراسرار، طاقتور اور حیرت انگیز چیز ہے۔ قرآن نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ “عظیم” ہے۔
ڈاکٹر زغلول النجار اور ڈاکٹر ضیاء الدین سردار جیسے مسلم سائنسدانوں نے اس آیت کو بلیک ہول کی طرف ممکنہ اشارہ قرار دیا ہے۔ لیکن وہ بھی احتیاط کرتے ہیں اور حتمی دعویٰ نہیں کرتے، کیونکہ سائنسی نظریات بدل سکتے ہیں۔
بلیک ہول اور قرآن کی دوسری نشانی— سورۃ التکویر: الخُنَّس الکُنَّس — سب سے مضبوط مماثلت
“پس میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والوں، چھپ جانے والوں، جھاڑو دینے والوں کی۔” سورۃ التکویر 81:15-16
یہ آیت سب سے زیادہ حیران کر دینے والی ہے کیونکہ قرآن کے 3 الفاظ اور بلیک ہول کی 3 سائنسی خصوصیات 100% میچ کرتی ہیں۔ یہ اتفاق نہیں ہو سکتا:
| قرآنی لفظ | لغوی معنی | بلیک ہول کی خاصیت |
|---|---|---|
| الخُنَّس | چھپنے والے، پیچھے ہٹنے والے، نظر نہ آنے والے | بلیک ہول مکمل طور پر نظر نہیں آتا۔ روشنی بھی اس سے نکل نہیں سکتی۔ ہم اسے صرف اس کے اثرات سے پہچانتے ہیں |
| الکُنَّس | جھاڑو دینے والے، سمیٹنے والے، صاف کرنے والے | بلیک ہول اپنے راستے میں آنے والے ہر ستارے، سیارے، گیس کو کھینچ کر “صاف” کر دیتا ہے۔ سائنسدان اسے “Cosmic Vacuum Cleaner” کہتے ہیں |
| الجَوَارِ | چلنے والے، بہنے والے، مدار میں گھومنے والے | بلیک ہولز ساکن نہیں ہوتے۔ وہ کہکشاؤں کے مرکز میں مخصوص مدار میں گھومتے ہیں اور پوری کہکشاں کو اپنے ساتھ گھماتے ہیں |
ڈاکٹر موریس بوکائے اپنی مشہور کتاب The Bible, The Quran and Science میں لکھتے ہیں: “یہ الفاظ بلیک ہول کی خصوصیات کو حیران کن درستگی سے بیان کرتے ہیں — ایک ایسی چیز جسے انسانی آنکھ دیکھ نہیں سکتی مگر جس کے اثرات ہر طرف موجود ہیں۔”
سوال: ۱۴۰۰ سال پہلے صحرا میں رہنے والے ایک انسان کو بلیک ہول کا تصور کہاں سے آیا؟ جب کہ بلیک ہول کا نظریہ خود ۲۰ویں صدی میں آئن سٹائن کے بعد آیا، اور پہلی تصویر 2019 میں بنی۔
بلیک ہول اور قرآن کی تیسری نشانی— سورۃ الطارق: النَّجْمُ الثَّاقِب — چھیدنے والا ستارہ
“قسم ہے آسمان کی اور رات کو کھٹکھٹانے والے کی — اور تمہیں کیا معلوم رات کو کھٹکھٹانے والا کیا ہے — وہ چمکدار چھیدنے والا ستارہ۔” سورۃ الطارق 86:1-3
“ثاقب” اور “طارق” کا مطلب:
مطلب سمجھتے ہیں“ثاقب” یعنی چھیدنے والا، آر پار کرنے والا، سوراخ کرنے والا۔ “طارق” یعنی رات کو کھٹکھٹانے والا، دستک دینے والا۔
جدید سائنس: 1967 میں سائنسدان Jocelyn Bell نے Pulsars دریافت کیے۔ یہ نیوٹران ستارے ہیں — جب درمیانے سائز کا ستارہ مرتا ہے تو بلیک ہول نہیں بلکہ نیوٹران ستارہ بنتا ہے۔ یہ اتنے کثیف ہوتے ہیں کہ ایک چمچ کا وزن اربوں ٹن ہوتا ہے۔
یہ ستارے انتہائی طاقتور X-rays اور Gamma rays کی شعاعیں خارج کرتے ہیں جو لوہے کی موٹی چادر کو بھی آر پار چھید دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مسلسل ریڈیو سگنل بھیجتے ہیں — بالکل کھٹکھٹانے کی آواز کی طرح۔ اسی لیے ان کا نام “Pulsar” رکھا گیا، یعنی “Pulse کرنے والا”۔
اہم فرق: یہ بلیک ہول نہیں بلکہ Pulsar/Neutron Star کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ دونوں مردہ ستارے ہیں، مگر بلیک ہول زیادہ کثیف ہوتا ہے اور روشنی بھی نہیں چھوڑتا، جبکہ پلسار روشنی اور ریڈیو ویوز چھوڑتا ہے۔ سید قطب شہید نے فی ظلال القرآن میں اسے “غیر معمولی کائناتی روشنی” کہا ہے، جو حیران کن طور پر پلسار پر صادق آتا ہے۔
علما کی رائے: احتیاط اور اعتدال کیوں ضروری ہے؟
بڑے علما اور مفسرین نے “سائنسی تفسیر” میں جلد بازی اور غلو سے منع کیا ہے۔ ان کی 3 بڑی وجوہات ہیں:
- 1. مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ — تفہیم القرآن: “قرآن کو بدلتی ہوئی سائنسی تھیوریوں پر نہیں پرکھنا چاہیے۔ سائنس آج کچھ کہتی ہے، کل تحقیق آگے بڑھ کر بدل جاتی ہے۔ قرآن کا لفظ اٹل اور ابدی ہے، سائنس عارضی ہے۔”
- 2. مفتی تقی عثمانی صاحب — علوم القرآن: “بہتر اور محفوظ طریقہ یہ ہے کہ ہم کہیں: ‘اس آیت کا ایک ممکنہ مفہوم یہ ہو سکتا ہے’۔ یہ نہ کہیں: ‘سائنس نے قرآن کو سچ ثابت کر دیا’۔ قرآن پہلے سے سچ ہے، اسے کسی سائنس کی تصدیق کی ضرورت نہیں۔ سائنس صرف ہمارے فہم میں اضافہ کرتی ہے۔”
- 3. بنیادی اصول جو ہمیشہ یاد رکھیں:
◄ سائنس انسانی کوشش اور مفروضہ ہے، قرآن الہی وحی اور حقیقت ہے
◄ “اشارہ ہو سکتا ہے” کہیں، “یہی حتمی ثبوت ہے” نہ کہیں
◄ آیت کا بنیادی مقصد ہدایت، توحید، اور آخرت کی یاددہانی ہے — سائنسی تفصیل ثانوی ہے
◄ اگر کل سائنس اپنا نظریہ بدل دے تو ہمارا ایمان متزلزل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ہمارا ایمان آیت پر ہے، سائنسی تشریح پر نہیں
قرآن اور بلیک ہول کا نتیجہ: اصل سبق کیا ہے؟
ان آیات اور سائنسی انکشافات سے ہمیں قرآن اور بلیک ہول کے بارے 3 بڑے سبق ملتے ہیں:
۱۔ اللہ کی عظمت اور قدرت لامحدود ہے: جس ذات نے بلیک ہول جیسی چیز بنائی — جہاں وقت رک جاتا ہے، روشنی قید ہو جاتی ہے، اور مادہ فنا ہو جاتا ہے — وہی ذات قرآن کی خالق ہے۔ انسان کی عقل، ٹیلی سکوپ، اور کمپیوٹر وہاں تک نہیں پہنچ سکتے جہاں اللہ کا علم ہے۔ یہ آیات ہمیں اپنی اوقات یاد دلاتی ہیں۔
۲۔ غور و فکر عبادت ہے: قرآن بار بار کہتا ہے “أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ” — کیا تم غور نہیں کرتے؟ “أَفَلَا تَعْقِلُونَ” — کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ سائنس، فلکیات، اور تحقیق اسی قرآنی حکم کی تعمیل ہے۔ مسلمانوں کو لیبارٹری اور رصدگاہوں میں سب سے آگے ہونا چاہیے تھا۔
۳۔ ایمان اور عقل میں تضاد نہیں: یہ مماثلت ملحد کے لیے مجبور کن دلیل نہیں بن سکتی، کیونکہ وہ کہے گا “یہ تشبیہ ہے”۔ لیکن مومن کے لیے یہ ایمان تازہ کرنے کا سامان ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ ۱۴۰۰ سال پہلے نازل الفاظ آج کی سائنس سے مل رہے ہیں، تو اس کا دل کہتا ہے “بے شک میرا رب سچا ہے”۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ہواؤں، جنات اور پرندوں پر حکومت عطا فرمائی تھی۔ یہ اسی اللہ کی قدرت ہے جس نے بلیک ہول جیسی حیرت انگیز چیز بھی بنائی ہے جس کے راز آج کی سائنس بھی پوری طرح نہیں جان سکی۔
آخری اور سب سے اہم بات: اگر کل سائنس بلیک ہول کی تھیوری بدل بھی دے، یا کہے کہ بلیک ہول نہیں ہوتے، تو قرآن کے الفاظ اپنی جگہ قائم رہیں گے۔ کیونکہ قرآن کا مقصد فزکس پڑھانا نہیں، رب سے جوڑنا ہے۔ سائنس بدلے گی، قرآن نہیں بدلے گا۔ ہمارا ایمان الفاظِ قرآنی پر ہے، انسانی تشریحات پر نہیں۔
“عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں اور خود ان کے اندر دکھائیں گے، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے کہ وہی حق ہے” — سورۃ فصلت 41:53
حوالہ جات اور مصادر
۲۔ Bucaille, Maurice. The Bible, The Quran and Science. Paris: Seghers, 1976
۳۔ El-Naggar, Zaghloul R. The Geological Concept of Mountains in the Quran. Cairo: Al-Falah Foundation, 2008
۴۔ Qutb, Sayyid. فی ظلال القرآن. جلد 6، بیروت: دار الشروق
۵۔ Maududi, Abul Ala. تفہیم القرآن. جلد 6، لاہور: ادارہ ترجمان القرآن
۶۔ Usmani, Mufti Muhammad Taqi. علوم القرآن. کراچی: مکتبہ معارف القرآن، 2005
۷۔ NASA Science. Black Holes — Overview. science.nasa.gov/universe/black-holes, Accessed 2024
۸۔ Event Horizon Telescope Collaboration. First M87 Event Horizon Telescope Results. The Astrophysical Journal Letters, 2019
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا قرآن میں بلیک ہول کا ذکر ہے؟
سورہ تکویر آیات 15-16 میں “الخنس الجوار الکنس” کا ذکر ہے۔ بہت سے محققین اسے بلیک ہول سے تشبیہ دیتے ہیں کیونکہ چھپنےوالے ستارے ہیں۔ واللہ اعلم
بلیک ہول کیا ہوتا ہے؟
بلیک ہول خلا کا وہ علاقہ ہے جہاں کشش ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ روشنی بھی وہاں سے فرار نہیں ہو سکتی۔
کیا سائنس اور قرآن میں تضاد ہے؟
نہیں۔ قرآن ہدایت کی کتاب ہے اور سائنس کائنات کو سمجھنے کا ذریعہ۔ دونوں اللہ کی تخلیق کو ہی بیان کرتے ہیں

Leave a Reply