تاریخ نامہ
ہر واقعہ، ہر کہانی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول: نشانیاں، اور 40 سالہ زندگی

Spread the love

تصور کریں: دنیا اپنی تاریخ کے سب سے بڑے فتنے کی لپیٹ میں ہے۔ ایک جھوٹا مسیح، جسے دجال کہا جاتا ہے، زمین پر تباہی مچا رہا ہے۔ ایمان کمزور پڑ رہا ہے، لوگ اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں۔ عین اسی لمحے، دمشق کی ایک مسجد کے مشرقی مینار پر، آسمان سے ایک روشنی نازل ہوتی ہے۔ دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے، زعفرانی رنگ کے دو کپڑوں میں ملبوس، ایک ہستی زمین پر اترتی ہے۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں — یہ ہے قیامت کی سب سے بڑی نشانیوں میں سے ایک: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ نزول۔

مقدمہ: قیامت کی نشانیوں میں سب سے اہم کیوں؟

قیامت کی نشانیاں دو قسم کی ہوتی ہیں: چھوٹی نشانیاں، جو صدیوں پہلے شروع ہو چکیں اور اب بھی جاری ہیں، اور بڑی نشانیاں، جو قیامت کے قریب ترین وقت میں ایک کے بعد ایک ظاہر ہوں گی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ان بڑی نشانیوں میں سب سے نمایاں اور اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ واحد نشانی ہے جس میں ایک عظیم نبی خود دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے۔ قرآن مجید اور صحیح احادیث دونوں اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم نزول کے مقصد، وقت، نشانیوں اور اس سے ملنے والے سبق کو تفصیل سے سمجھیں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقام اسلام میں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے رسول تھے۔ قرآن مجید میں ان کا ذکر متعدد مقامات پر آتا ہے — سورہ آلِ عمران، سورہ مریم اور سورہ نساء میں ان کی پیدائش، معجزات اور مشن کی تفصیل ملتی ہے۔ سب سے حیران کن حقیقت یہ ہے کہ انہیں قتل نہیں کیا گیا اور نہ ہی صلیب پر چڑھایا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: “بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا” سورہ النساء آیت 158 میں واضح فرمایا گیا: “بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف بلند کر لیا”۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت بھی حیات ہیں اور اللہ کے پاس آسمانوں میں موجود ہیں۔ اور ان کا دنیا میں دوبارہ آنا ایک اٹل حقیقت ہے، کوئی محض علامت یا تشبیہ نہیں۔

نزول کب اور کہاں ہوگا؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دجال کے فتنے کے عروج کے دور میں ہوگا، جب دنیا میں ایمان کمزور اور فتنہ عروج پر ہوگا۔ صحیح مسلم کی تفصیلی روایت کے مطابق، وہ دمشق کی جامع اموی مسجد کے مشرقی سفید مینار کے قریب نازل ہوں گے، دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے، زردی مائل رنگ کے دو کپڑوں میں ملبوس۔ نزول کا یہ منظر عین اس وقت پیش آئے گا جب مسلمان فجر کی نماز کے لیے کھڑے ہو رہے ہوں گے۔ اس وقت امام مہدی امامت کروا رہے ہوں گے، اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آگے آ کر امامت کروانے کی دعوت دیں گے، مگر آپ انکار کرتے ہوئے امام مہدی کے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے — یہ عاجزی کا وہ منظر ہے جسے علماء اکثر امت کے لیے ایک زبردست سبق کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

شاندار مسجد کے اندر لوگوں کا بڑا اجتماع، بیچ میں سنہری روشنی پڑ رہی ہے
مسجد میں لوگوں کا اجتماع

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی طویل روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا، وہ دمشق کے مشرقی سفید مینار کے پاس، دو ہلکے زرد کپڑوں میں، دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھے نازل ہوں گے۔” (صحیح مسلم، کتاب الفتن، حدیث 2937)

نزول کے اصل مقاصد اور دنیا میں 40 سالہ زندگی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے چار بنیادی مقاصد احادیث میں بیان ہوئے ہیں: دجال کے فتنے کا مکمل خاتمہ، دینِ اسلام کو غلبہ دینا اور شریعتِ محمدی کا نفاذ، باطل عقائد کی نفی (صلیب کو توڑنا اور خنزیر کو قتل کرنا)، اور دنیا میں امن، انصاف اور برکت کے دور کا آغاز۔ نزول کے فوراً بعد وہ دجال کا تعاقب کریں گے اور اسے بابِ لُد (موجودہ اسرائیل کے قریب ایک مقام) پر قتل کر دیں گے۔ اس کے بعد جزیہ کا نظام ختم ہو جائے گا، صلیب کی پرستش کا خاتمہ ہوگا، اور خنزیر کا گوشت کھانا مکمل طور پر رک جائے گا — یعنی وہ تمام باطل عقائد اور رسومات جو دجال کے فتنے سے جڑی ہوں گی، ان کا قلع قمع ہو جائے گا۔

روایات کے مطابق وہ زمین پر تقریباً چالیس سال زندہ رہیں گے، اور اس دوران وہ حج اور عمرہ بھی ادا کریں گے۔ اسی دور میں یاجوج ماجوج کا عظیم فتنہ بھی ظاہر ہوگا — ایک ایسی طاقت جس کے سامنے کوئی انسانی طاقت ٹھہر نہیں سکے گی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ایمان والے کوہِ طور کی طرف پناہ لیں گے، اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے، دعا کے نتیجے میں، یاجوج ماجوج پر ایک وبا نازل ہوگی جو انہیں ختم کر دے گی۔ اس کے بعد اہلِ کتاب میں سے کئی لوگ ان کا حق پہچان کر ایمان لے آئیں گے۔ نوٹ: بعض روایات میں شادی اور اولاد کا ذکر بھی ملتا ہے، اور مدینہ منورہ میں تدفین کا بھی، مگر یہ امور قطعی طور پر صحیح حدیث سے ثابت نہیں اور ان پر علماء کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ `سنن ابی داؤد 4324، ابن کثیر: البدایہ والنہایہ`

علمی تنبیہ: شادی، اولاد اور مدینہ میں تدفین کا ذکر بعض کتب میں آیا ہے لیکن اس کی سند پر کلام ہے۔ اس لیے اسے مرکزی عقیدے کے طور پر پیش نہیں کیا جائے گا بلکہ بطور “روایت” نقل کیا گیا ہے۔

حضرت عیسیٰ کے نزول کے عظیم لمحات

1۔ وہ 5 منٹ: مینار کے نیچے کی خاموشی

تصور کریں، فجر سے 5 منٹ پہلے ہے۔ دمشق کی اموی مسجد کا صحن۔ ہزاروں لوگ صفیں بنا کر کھڑے ہیں۔ ہوا میں خوف بھی ہے اور امید بھی۔ امام مہدی تکبیر کہنے والے ہیں۔ اچانک، ہوا رک جاتی ہے۔ پرندے چپ۔ اوپر سے ایک ٹھنڈی خوشبو آتی ہے، جیسے ابھی بارش ہوئی ہو۔ سب سر اٹھاتے ہیں۔ سفید مینار کے اوپر بادل پھٹتے ہیں اور دو فرشتے اترتے ہیں۔ ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ایک ہستی، کپڑوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں جیسے ابھی غسل کیا ہو۔ یہ وہ لمحہ ہے جس کا وعدہ 1400 سال پہلے کیا گیا تھا۔ امام مہدی فوراً پیچھے ہٹ کر کہیں گے: “یَا رُوحَ اللّٰہِ، تَقَدَّمْ” لیکن وہ جواب میں کہیں گے: “نہیں، تمہارے لیے ہی اقامت ہوئی ہے۔ تم ہی پڑھاؤ۔” `صحیح مسلم 2937` سوچیں… دنیا کا سب سے بڑا نبی، اپنی امت کے امام کے پیچھے نماز پڑھے گا۔ یہ عاجزی ہمیں کیا سکھاتی ہے؟ کہ حق آنے کے بعد بھی بڑا وہی ہے جو اللہ کا حکم مانے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور کی نشانی
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور

2۔ دجال کا آخری دن: جب سچائی سانس بن کر اترے گی

دجال 40 دن تک زمین پر راج کرے گا۔ پہلا دن ایک سال جیسا، دوسرا ایک مہینہ، تیسرا ایک ہفتہ۔ لوگ بھوک، پیاس اور فتنے سے نڈھال ہوں گے۔ پھر خبر آتی ہے: “عیسیٰ آ گئے”۔ دجال جب یہ سنے گا تو ایسے پگھلے گا جیسے نمک پانی میں۔ `صحیح مسلم 2937` وہ بھاگے گا۔ فلسطین کے قریب “بابِ لُد” تک۔ لیکن بچ نہیں پائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نیزہ نہیں چلے گا، تلوار نہیں اٹھے گی۔ بس ان کی نظر پڑے گی، اور جھوٹ کا بت ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔ یہ جنگ خون کی نہیں، حق اور باطل کی ہوگی۔ اس دن کے بعد زمین سے وہ زہر نکل جائے گا جو 100 سال سے دلوں میں بھرا جا رہا تھا۔

اسلامی لشکر کا منظر
دجال کے خاتمے کے بعد کا منظر

3۔ 40 سال کا ایک دن: جب دنیا سانس لے گی

اب آتا ہے سب سے خوبصورت دور۔ تصور کریں: آپ صبح اٹھتے ہیں۔ دروازہ کھولتے ہیں تو گندم کے خوشے آپ کے قد سے اونچے ہیں۔ ایک انار توڑتے ہیں تو پوری گلی کے لوگ سیر ہو جاتے ہیں۔ `سنن ابی داؤد 4324` دکانیں کھلی ہیں لیکن چوری کا تصور ہی نہیں۔ جنگ کا لفظ ڈکشنری سے نکل چکا۔ شیر اور بھیڑ ایک ہی ندی سے پانی پی رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس 40 سال میں کیا کریں گے؟ 1۔ حکومت: شریعتِ محمدی کے مطابق۔ 2۔ عبادت: خود حج اور عمرہ ادا کریں گے۔ `صحیح مسلم` 3۔ اصلاح: صلیب توڑ دیں گے۔ خنزیر ختم۔ جزیہ ختم۔ پھر یاجوج ماجوج کا فتنہ آئے گا۔ وہ اتنے ہوں گے کہ ان کا پہلا لشکر جب جھیل طبریہ سے گزرے گا تو پانی ختم کر دے گا۔ `صحیح مسلم` حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مومنین کوہِ طور پر پناہ لیں گے۔ اور پھر اللہ کی ایک دعا پر… ایک کیڑا۔ بس ایک کیڑا ان سب کو ختم کر دے گا۔ اس کے بعد 7 سال تک لوگ ان کے نیزوں اور تیروں سے لکڑی بنا کر چولہے جلائیں گے۔

4۔ اس دور کی 3 سب سے بڑی نشانیاں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور کے پرامن منظر
پرامن دور کا منظر: کھیتوں میں بھیڑیں چراتے لوگ اور پس منظر میں مسجد، جہاں امن و انصاف کا دور ہوگا۔

اس 40 سالہ دور کی 3 نشانیاں ایسی ہوں گی جو آج کے انسان کے لیے ناقابلِ یقین ہیں۔ پہلی: زہر ختم۔ سانپ، بچھو، درندے سب اپنی فطرت بھول جائیں گے۔ ایک بچہ اپنا ہاتھ سانپ کے منہ میں ڈالے گا اور اسے کچھ نہیں ہوگا۔ دوسری: دولت کی ریل۔ زمین اپنا خزانہ اگل دے گی۔ لوگ مال کی بوریاں اٹھا کر پھریں گے لیکن کوئی لینے والا نہیں ہوگا۔ کیونکہ دلوں سے لالچ نکل چکا ہوگا۔ تیسری: علم کا نور۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کو تورات اور انجیل کی اصل تعلیم بتائیں گے۔ اور دنیا جان لے گی کہ حضرت محمد ﷺ ہی آخری نبی تھے۔ `سورہ النساء 4:159`

5۔ آخری سوال: اگر تم وہاں ہوتے؟

رکیں۔ یہاں 30 سیکنڈ کے لیے رک کر سوچیں۔ اگر وہ فجر کی نماز آپ کی صف میں ہوتی..اگر دجال کا فتنہ آج ہوتا اور آپ کے موبائل پر اس کی جھوٹی ویڈیو آتی.. کیا آپ کا ایمان ٹک پاتا؟ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا: “جو سورہ کہف کی پہلی 10 آیات یاد کرے گا وہ دجال کے فتنے سے بچ جائے گا۔” `صحیح مسلم` حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہمیں ڈرانے کے لیے نہیں، جگانے کے لیے ہے۔ تاکہ ہم آج سے اپنے دل کی “صلیب” توڑ دیں۔ اپنی خواہشات کے “خنزیر” کو مار دیں۔ اور اپنے گھر میں “اسلام” کا نظام نافذ کر دیں۔ کیونکہ حق آنا ہے۔ اور وہ ضرور آئے گا۔

دوسرے مذاہب کا نقطۂ نظر

دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد کا تصور صرف اسلام تک محدود نہیں۔ عیسائیت میں بھی “دوسری آمد” (Second Coming) کا عقیدہ پایا جاتا ہے، جس کے مطابق یسوع مسیح دوبارہ زمین پر آئیں گے، اگرچہ اس کی تفصیلات اور مقاصد اسلامی عقیدے سے کافی مختلف ہیں — مثال کے طور پر عیسائیت میں انہیں خدا کا بیٹا اور نجات دہندہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ اسلام میں وہ اللہ کے ایک برگزیدہ نبی اور بندے ہیں۔ دوسری طرف یہودیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسیحا کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، اور وہ ابھی تک ایک متوقع مسیحا کے منتظر ہیں۔ یوں تینوں مذاہب میں کچھ مشترک پہلو ضرور پائے جاتے ہیں — خاص طور پر ایک عظیم مصلح کی آمد کا انتظار — لیکن بنیادی عقائد اور تفصیلات میں واضح فرق موجود ہے۔

ہمارے لیے اہم سبق

اس پوری داستان سے ہمارے لیے تین بنیادی سبق نکلتے ہیں۔ پہلا: دجال کے فتنے جیسی آزمائشوں سے بچنے کے لیے سورہ کہف کی تلاوت اور ایمانی ہوشیاری ضروری ہے — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی تاکید فرمائی۔ دوسرا: حق اور باطل کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے، کیونکہ دجال کا سب سے بڑا ہتھیار ہی دھوکہ اور فریب ہوگا، جو بظاہر سچائی کا روپ دھار کر آئے گا۔ تیسرا اور سب سے اہم: اللہ پر توکل اور اپنے ایمان کی حفاظت ہر مومن کی ذمہ داری ہے — چاہے حالات کتنے ہی پرفتن کیوں نہ ہوں، ایک سچے مومن کا سہارا ہمیشہ اللہ کی ذات ہی رہنی چاہیے۔

خاتمہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی ایک یقینی اور عظیم نشانی ہے — یہ محض ایک روایتی قصہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی خبر کی واضح دلیل ہے۔ ایک ایسا واقعہ جس کی تفصیل صدیوں پہلے بیان کر دی گئی، اور جو آج بھی امتِ مسلمہ کے ایمان کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے عقیدے کو مضبوط رکھیں، فتنوں کے اس دور کے لیے ذہنی اور ایمانی طور پر تیار رہیں، اور اس یقین کے ساتھ زندگی گزاریں کہ حق بالآخر باطل پر غالب آ کر رہے گا۔

حوالہ جات: صحیح مسلم، کتاب الفتن، حدیث 2937 • صحیح بخاری • سنن ابی داؤد، حدیث 4324 • سورہ النساء: 157-158 • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہاں نازل ہوں گے؟

صحیح مسلم کی روایت کے مطابق وہ دمشق کی جامع اموی مسجد کے مشرقی سفید مینار کے قریب نازل ہوں گے۔

نزول کے بعد حضرت عیسیٰ کیا کریں گے؟

وہ سب سے پہلے دجال کو قتل کریں گے، پھر شریعت محمدی نافذ کریں گے، صلیب توڑیں گے، جزیہ ختم کریں گے اور 40 سال تک امن و انصاف کا دور قائم کریں گے۔

کیا حضرت عیسیٰ واقعی 40 سال زندہ رہیں گے؟

جی ہاں۔ سنن ابی داؤد کی حدیث کے مطابق وہ زمین پر تقریباً 40 سال رہیں گے اور اس دوران حج و عمرہ بھی ادا کریں گے۔

دجال کو کون قتل کرے گا؟

دجال کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بابِ لُد کے مقام پر قتل کریں گے۔

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.