تاریخ نامہ
ہر واقعہ، ہر کہانی

ایران کی تاریخ: 636 عیسوی کی فتح سے آخری زمانہ تک

Spread the love

ایران: فتح سے آخرِ زمان تک

وہ سرزمین جس نے خلافت دیکھی، انقلاب دیکھا، اور جس کا نام آج بھی آخری زمانے کی پیشگوئیوں میں گونجتا ہے

فجر کا اندھیرا، اور ایک سلطنت کا آخری سانس

ایران کی تاریخ میں شاید ہی کوئی باب اتنا فیصلہ کن ہو جتنا سن 636 عیسوی کی وہ سرد رات، جب فرات کے کنارے، قادسیہ کے میدان میں ہوا میں گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور خیموں کے جلنے کی ہلکی سی بو رچی ہوئی تھی۔ ایک طرف وہ سلطنت جس کا بادشاہ خود کو ‘شہنشاہِ ایران و انیران’ یعنی ایران اور غیر ایران کا بادشاہ کہلواتا تھا۔”

رستم فرخزاد، اس فوج کا سپہ سالار، ریشمی لباس، سونے کے زیورات، اور ایک ایسا غرور لیے میدان میں اترا تھا جیسے شکست کا لفظ اس کی لغت میں تھا ہی نہیں۔ اس کے ساتھ جنگی ہاتھیوں کا وہ جھنڈ تھا جس نے پہلے دن مسلمانوں کے گھوڑوں کو خوفزدہ کر دیا — ہاتھیوں کی بو اور آواز سے گھوڑے بدکنے لگے، صفیں ٹوٹنے لگیں۔

دوسری طرف مٹھی بھر صحابہ کرام تھے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے سپہ سالار سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ خود میدان میں موجود نہیں تھے — وہ شدید بیمار تھے، جسم پر پھوڑے نکل آئے تھے، اور وہ ایک بلند مقام سے، تکیوں کے سہارے بیٹھ کر، اپنی آواز اور اشاروں سے پوری فوج کی قیادت کر رہے تھے۔ یہ منظر خود ایک سبق ہے — کہ جسمانی کمزوری کبھی ارادے کی مضبوطی کے آڑے نہیں آئی۔

جنگ تین دن اور ایک رات تک جاری رہی۔ مؤرخین نے ہر دن کو الگ نام دیا — “یومِ ارماث”، “یومِ اَغواث”، اور “یومِ عِماس”، اور آخری، فیصلہ کن رات کو “لیلۃ الہریر” یعنی “گرجنے کی رات” کہا گیا، کیونکہ دونوں طرف کے سپاہیوں کی چیخ و پکار اتنی شدید تھی۔ ہاتھیوں کا مسئلہ مسلمانوں نے یوں حل کیا کہ انہوں نے ہاتھیوں کی سونڈیں اور آنکھیں نشانہ بنانی شروع کیں — جانور بدک کر خود اپنی ہی فوج کو روندنے لگے۔ بالآخر رستم مارا گیا، اور جو فوج کبھی ناقابلِ تسخیر سمجھی جاتی تھی، میدان چھوڑ کر بھاگ گئی۔

یہ جنگ صرف تلواروں کی نہیں، دو تہذیبوں کے ٹکراؤ کی داستان تھی۔ نتیجہ وہ نکلا جو کسی نے سوچا بھی نہ تھا — ساسانی سلطنت زمین بوس ہو گئی۔

چکی والے کے ہاتھوں ایک بادشاہ کا انجام

642 عیسوی میں جنگِ نہاوند ہوئی، جسے مؤرخین نے “فتح الفتوح” یعنی فتحوں کی فتح کا خطاب دیا۔ یہ آخری بڑی جنگ تھی جس کے بعد آخری ساسانی شہنشاہ، یزدگرد سوم، اپنے ہی ملک میں مفرور بن گیا۔ وہ شہر شہر بھٹکتا رہا، کبھی کسی گورنر کے پاس پناہ مانگتا، کبھی کسی صوبے دار کے دروازے پر دستک دیتا — مگر جس بادشاہت نے کبھی آدھی دنیا پر حکومت کی تھی، اس کا وارث اب دربدر تھا۔

بالآخر مرو کے قریب ایک رات، وہ ایک آسیا (چکی) میں پناہ لیے سویا ہوا تھا۔ روایات کے مطابق چکی کے مالک نے، لالچ یا خوف کے تحت، اسی رات اسے قتل کر دیا اور اس کے زیورات چھین لیے۔ ایک ایسا بادشاہ جس کے نام کا سکہ آدھی دنیا میں چلتا تھا، ایک عام چکی والے کے ہاتھوں، گمنامی میں مارا گیا۔ اسی جنگ کے بعد پورا ایران اسلامی خلافت کا حصہ بن گیا۔

یہ سب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا۔ ایرانی تہذیب نے بعد میں اسلامی علوم، فنِ تعمیر، اور انتظامی نظام کو بے پناہ متاثر کیا — دیوان کا نظام، ڈاک کا انتظام، اور بعد ازاں علمِ طب و فلسفہ میں ایرانی نژاد علماء کا کردار اسلامی تہذیب کا زریں باب بنا۔

کیا یہ صرف ایک سلطنت کا زوال تھا، یا اس میں کوئی سبق چھپا تھا کہ دنیا کی ہر طاقت، چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، ایک دن مٹی میں مل جاتی ہے؟

وہ خنجر جو نیت میں پہلے ہی تیار ہو چکا تھا

ابولؤلؤ فیروز، ایک ایرانی غلام جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، مدینہ میں مقیم تھا۔ وہ ایک ماہر کاریگر تھا، مگر اس کے دل میں ایک آگ سلگ رہی تھی۔ روایات کے مطابق وہ اپنے آقا کے ہاتھوں ٹیکس یا محنتانے کی شکایت لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ خلیفہ نے اس کا مسئلہ سنا، مگر جواب اس کی توقع کے مطابق نہ تھا۔ وہ غصے میں بڑبڑاتا ہوا واپس چلا گیا — اور اسی دن سے، خاموشی سے، ایک منصوبہ بننا شروع ہوا۔

دنوں تک اس نے انتظار کیا۔ اس نے ایک خاص خنجر تیار کروایا — دو دھاری، اور بعض روایات کے مطابق زہر میں بجھا ہوا۔ 23 ہجری کی ایک صبح، جب مدینہ کی گلیاں ابھی سنسان تھیں اور فجر کی اذان کی گونج ابھی تھمی ہی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں صف باندھے نمازیوں کی امامت کے لیے آگے بڑھے۔ عین اسی لمحے، اندھیرے میں چھپا ابولؤلؤ آگے لپکا۔

چھ وار کیے گئے۔ مسجد میں چیخیں بلند ہوئیں۔ خلیفہ زخمی ہو کر گر پڑے، مگر ہوش میں رہتے ہوئے بھی سب سے پہلا سوال یہ پوچھا: “کیا نماز کا وقت ہو گیا؟” چند دن بعد امیر المومنین، جن کے عدل کی گونج پوری دنیا میں تھی، شہید ہو گئے۔

یہاں ایک حساس تاریخی نکتہ بھی ہے — ایران کے شہر کاشان کے قریب ایک مقام کو کچھ انتہا پسند گروہ ابولؤلؤ سے منسوب کر کے زیارت گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ کوئی سرکاری یا مستند اسلامی روایت نہیں، بلکہ ایک متنازع عمل ہے جس کی خود کئی شیعہ علماء نے بھی مخالفت کی ہے، کیونکہ ایک ظالمانہ قتل کو عبادت کا ذریعہ بنانا کسی بھی مکتبہ فکر کے اصولوں سے میل نہیں کھاتا۔ آج کی ایرانی حکومت بھی سرکاری طور پر اس مقام سے کوئی تعلق نہیں جوڑتی۔

چودہ سو سال بعد: ایران کی تاریخ کا نیا موڑ

صدیوں تک ایران مختلف اسلامی خلافتوں کا حصہ رہا، پھر صفوی سلطنت کے دور میں ایران باقاعدہ شیعہ ریاست میں تبدیل ہوا۔ 1979 میں ایران میں ایک انقلاب آیا جس نے شاہ رضا پہلوی کی مغرب نواز حکومت کا خاتمہ کیا اور آیت اللہ خمینی کی قیادت میں “اسلامی جمہوریہ ایران” کا قیام عمل میں آیا۔

یہ دلچسپ تضاد ہے: وہی سرزمین جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں سنی خلافت کا حصہ بنی تھی، آج ایک شیعہ اکثریتی ریاست ہے جو خطے کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔

صحابہ بھی یہی سوال پوچھتے تھے

آخری زمانے کا خوف کوئی نئی بات نہیں۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھتے، مگر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے شر اور فتنوں کے بارے میں سوال کیا، اس ڈر سے کہ کہیں وہ خود کسی فتنے میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ یہ ایک انتہائی انسانی اور دل کو چھو لینے والا پہلو ہے — کہ صحابہ کرام، جن کا ایمان پہاڑوں جیسا مضبوط تھا، وہ بھی مستقبل کے فتنوں سے خوفزدہ ہوتے تھے اور اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی فکر کرتے تھے۔

یہی جذبہ آج بھی ایک مسلمان کے دل میں ہونا چاہیے — نہ اندھا خوف، نہ لاپرواہی، بلکہ ایک باشعور احتیاط۔

ایران کی تاریخ اور آخری زمانہ — کیا سچ، کیا مشہور جھوٹ

دجال کے پیروکار — صحیح مسلم کی روایت
صحیح مسلم میں ایک روایت موجود ہے جس کے مطابق دجال کے ستر ہزار پیروکار اصفہان سے ہوں گے، اور وہ خاص قسم کی چادریں اوڑھے ہوں گے۔ یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح مانی جاتی ہے اور محدثین کے ہاں مستند ہے۔

خراسان کے سیاہ جھنڈے — ایک ضعیف روایت
سوشل میڈیا پر ایک روایت بہت مشہور ہے کہ خراسان سے سیاہ جھنڈوں والا لشکر امام مہدی علیہ السلام کی مدد کو نکلے گا۔ یہ روایت ترمذی میں موجود ہے، مگر اس کی سند میں موجود راوی قیس بن ربیع کی وجہ سے متعدد محدثین، بشمول علامہ البانی، نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ بدقسمتی سے یہی وہ روایت ہے جسے سیاسی گروہ اکثر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، حالانکہ ایک روایت کا مشہور ہونا اس کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول
احادیث کے مطابق دجال کے خلاف آخری معرکے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر نازل ہوں گے اور امام مہدی علیہ السلام کے شانہ بشانہ اس جنگ میں شریک ہوں گے۔ یہ عقیدہ اہلِ سنت کے نزدیک اجماعی طور پر تسلیم شدہ ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ آخری زمانے میں ایران و خراسان کے خطے کا کوئی کردار ہوگا — مگر “کب اور کیسے” کا علم غیب کے دائرے میں ہے، اور اسی غیب کے علم پر ایمان لانا ہی تقویٰ کی نشانی ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب نیوز چینلز پر “ایران” کا نام آتا ہے، تو کیا ہم واقعی اس وقت کے قریب ہیں جس کا ذکر چودہ سو سال پہلے کیا گیا تھا؟ یا یہ محض ہماری بے صبری ہے جو ہر خبر کو قیامت کی علامت بنا دیتی ہے؟

آج کا منظرنامہ: کیا واقعی وہ وقت آ گیا؟

آج کی دنیا میں ایران، اسرائیل، اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی، ایران کا جوہری پروگرام، اور حزب اللہ و حوثی جیسے گروہوں کی سرگرمیاں مسلسل خبروں میں رہتی ہیں۔ گزشتہ کچھ برسوں میں خطے میں کئی براہِ راست فوجی کشیدگیاں بھی دیکھی گئیں، اور ہر نئے واقعے کے ساتھ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اور پوسٹس کی بھرمار ہو جاتی ہے جو دعویٰ کرتی ہیں کہ “بس اب قیامت قریب ہے” یا “یہی وہ خراسان کا لشکر ہے۔”

یہاں احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ حالات کو کسی ضعیف یا غیر مستند روایت پر فٹ کرنا علمی دیانتداری کے خلاف ہے۔ ایک ذمہ دار قاری کو ہمیشہ یہ پوچھنا چاہیے: کیا یہ بات صحیح حدیث سے ثابت ہے، یا محض ایک مقبول تھیوری ہے؟ دین کا علم قیاس آرائی پر نہیں، دلیل پر قائم ہوتا ہے۔

نتیجہ: عبرت کا سبق

ایران کی تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ سلطنتیں بنتی اور بگڑتی ہیں، عقیدے بدلتے ہیں، مگر اللہ کا فیصلہ ہی حرفِ آخر ہوتا ہے۔ ایک شہنشاہ جو خود کو “بادشاہوں کا بادشاہ” کہلواتا تھا، ایک چکی والے کے ہاتھوں مارا گیا۔ ایک خلیفہ جس نے آدھی دنیا میں عدل قائم کیا، ایک غلام کے خنجر سے شہید ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فتح سے لے کر آج کے جغرافیائی سیاسی حالات تک، یہ سرزمین ہمیشہ اسلامی تاریخ کے مرکز میں رہی ہے۔ ہمارا کام قیاس آرائیوں سے بچ کر، قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں علم حاصل کرنا ہے — نہ کہ ہر خبر کو آخری زمانے کی علامت بنا دینا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال 1: ایران کو مسلمانوں نے کب فتح کیا تھا؟
جواب: ایران کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں فتح کیا گیا۔ جنگِ قادسیہ 636 عیسوی میں اور جنگِ نہاوند 642 عیسوی میں ہوئی، جس کے بعد پورا ایران اسلامی خلافت کا حصہ بن گیا۔

سوال 2: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کس نے شہید کیا تھا؟
جواب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ابولؤلؤ فیروز نامی ایک ایرانی غلام نے 23 ہجری میں نمازِ فجر کے دوران خنجر سے حملہ کر کے شہید کیا تھا۔

سوال 3: کیا آخری زمانے کی احادیث میں ایران کا ذکر ہے؟
جواب: جی ہاں، صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق دجال کے ستر ہزار پیروکار اصفہان (ایران) سے ہوں گے۔ تاہم خراسان کے سیاہ جھنڈوں والی روایت ضعیف ہے۔

سوال 4: کیا خراسان کے سیاہ جھنڈوں والی حدیث صحیح ہے؟
جواب: نہیں، یہ روایت جامع ترمذی میں موجود ہے مگر اس کی سند میں راوی قیس بن ربیع کی وجہ سے علامہ البانی سمیت کئی محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

سوال 5: ایران کب اسلامی جمہوریہ بنا؟
جواب: 1979 میں آیت اللہ خمینی کی قیادت میں انقلاب کے بعد ایران “اسلامی جمہوریہ ایران” بنا، اور شاہ رضا پہلوی کی حکومت کا خاتمہ ہوا

حوالہ جات (References)

صحیح مسلم — کتاب الفتن، دجال اور اصفہان کی روایت۔ جامع ترمذی — خراسان کے سیاہ جھنڈوں کی روایت، جسے علامہ البانی نے ضعیف قرار دیا۔ تاریخ الطبری از امام طبری — جنگِ قادسیہ و نہاوند کی تفصیلات۔ البدایہ والنہایہ از ابنِ کثیر — حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ۔ سِیَر اعلام النبلاء از امام الذہبی۔

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.