تاریخ نامہ
ہر واقعہ، ہر کہانی

مسجد اقصیٰ کی تاریخ: حیران کن اور خونی داستان، 1400 سال کی قربانیاں

Spread the love

 مسجدِ اقصیٰ کی تاریخ: فتح، قربانی اور عظمت کی داستان

مسجد اقصیٰ  کی تاریخ۔ یہ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے جس کی 1400 سالہ داستان قربانیوں سے بھری ہے۔

مقدمہ: مسجد اقصیٰ کی1400 سال کی تاریخ اور وہ مقدس زمین جس کا ذکر قرآن میں ہے

مسجدِ اقصیٰ  کی تاریخ صرف اینٹوں اور پتھروں کی داستان  نہیں۔ یہ وہ مقدس مقام ہے جہاں سے ہمارے نبی ﷺ کو معراج نصیب ہوئی۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا:

“پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد ہم نے برکت رکھی ہے” [الاسراء: 1]

آج اسی مسجدِ اقصیٰ کی خون اور آنسو سے لکھی ہوئی تاریخ پڑھیے۔ ہر بار جب اس پر حملہ ہوا، امت نے اپنا خون دے کر اسے واپس لیا۔ یہ تاریخ صرف ماضی نہیں، ہمارے مستقبل کا نقشہ ہے۔


۱۔  مسجد اقصیٰ کی1400 سال کی تاریخ : پہلی اسلامی فتح 637 عیسوی

جنگِ یرموک میں رومیوں کو شکست دینے کے بعد، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی فوجیں یروشلم کے دروازوں تک پہنچ گئیں۔ شہر کے پیٹریارک سوفرونیئس نے شرط رکھی: “ہم صرف خلیفہ عمر کے ہاتھ پر صلح کریں گے۔”

638 عیسوی میں مسلمان لشکر کا یروشلم کے دروازے پرامن داخلہ
638 عیسوی: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں مسلمان فوج یروشلم کے دروازے پر پہنچی۔ پیٹریارک سوفرو نیس نے صرف خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ سے ہی صلح کی شرط رکھی تھی۔

مسجد اقصیٰ کی تاریخ اسلامی فتوحات کا ایک سنہری باب ہے جب حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ مدینہ سے پیدل سفر کرتے ہوئے یروشلم آئے۔ ان کا غلام اور وہ باری باری اونٹ پر سوار ہوتے تھے۔ جب شہر میں داخل ہونے کی باری آئی تو غلام اونٹ پر تھا اور امیرالمومنین پیدل۔ دنیا نے عدل کا وہ منظر دیکھا جو آج تک نہیں بھولا۔

عہد نامۂ عمر:  مسجد اقصیٰ کی تاریخ کا اہم موڑ ، جب عمر رضی اللہ عنہ نے امن نامہ لکھوایا: “ان کی جانوں، مالوں، گرجاؤں، صلیبوں کو امان دیا جاتا ہے۔ ان کے گرجا نہ گرائے جائیں گے، نہ ان میں کمی کی جائے گی۔” [طبری، تاریخ الامم والملوک]

جب نماز کا وقت ہوا تو پیٹریارک نے کلیسائے قیامت میں نماز پڑھنے کو کہا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا اور باہر کھلے میدان میں نماز پڑھی۔ وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: “میں نہیں چاہتا کہ بعد میں مسلمان یہاں میری نماز کی وجہ سے قبضہ کر لیں۔”

حدیث: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تین مساجد کے علاوہ کسی اور کے لیے سفر نہ باندھا جائے: مسجدِ حرام، میری یہ مسجد، اور مسجدِ اقصیٰ۔” [صحیح بخاری: 1189، صحیح مسلم: 1397]

ڈسکشن پوائنٹ: کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جنگ جیتنے کے بعد دشمن کی عبادت گاہوں کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عملاً بتا دیا کہ فاتح کا کام تباہی پھیلانا نہیں، عدل کا بول بالا کرنا ہے۔ “

۲۔ 1099 عیسوی صلیبیوں کا قبضہ: مسجد اقصیٰ کی تاریخ کا سب سے خونی دن

1099 میں پہلی صلیبی جنگ کے 40,000 سپاہی یروشلم کی دیواروں پر چڑھ گئے۔ 6 ہفتے کے محاصرے کے بعد شہر گرا۔ جو قتلِ عام ہوا، اسے خود صلیبی مؤرخ لکھتے ہیں: “ہمارے گھوڑے ٹخنوں تک خون میں چل رہے تھے۔”

الاقصیٰ کا المیہ: 10,000 سے زیادہ مسلمانوں، عورتوں، بچوں نے مسجدِ اقصیٰ میں پناہ لی۔ انہیں امان کا وعدہ دے کر باہر بلایا گیا۔ لیکن جیسے ہی وہ صحن میں جمع ہوئے، ان سب کو قتل کر دیا گیا۔1099ء کا یہ سانحہ مسجد اقصیٰ کی  تاریخ کا سب سے المناک واقعہ تھا جسے دنیا آج تک نہیں بھولی۔

مسجد اقصیٰ کی تاریخ 1099 میں صلیبی فوج کا یروشلم میں داخلہ، مسلح فوجی اور دھواں
15 جولائی 1099: صلیبیوں کے یروشلم پر قبضے کے بعد کا منظر۔ یہ 1400 سالہ تاریخ کا سب سے المناک واقعہ تھا۔

مسجد کو “ٹیمپلم سولومونس” کا نام دے کر چرچ بنا دیا گیا۔ قبلی مسجد کو اصطبل اور محل میں بدل دیا گیا۔

88 سال تک الاقصیٰ میں اذان کی آواز بند رہی۔ سوچو اس دور کے مسلمان پر کیا گزری ہوگی؟ ایک نسل ایسی گئی جس نے کبھی الاقصیٰ میں سجدہ نہیں کیا۔

جذبات کی بات: یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر امت سو جائے، اختلاف میں پڑ جائے، تو دشمن ہمارے مقدس مقامات تک آ جاتا ہے۔ 1099 کا سبق یہی ہے – اتحاد نہ ہو تو فتح شکست میں بدل جاتی ہے۔

۳۔ 1187 عیسوی صلاح الدین ایوبی کی فتح اور مسجد اقصیٰ کی تاریخ

88 سال کے بعد اللہ نے صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کو چن لیا۔ حطین کی جنگ میں صلیبیوں کو شکست دے کر وہ یروشلم کے دروازوں پر آ کھڑا ہوا۔ لیکن اس نے 1099 کا بدلہ 1099 جیسا نہیں لیا۔صلاح الدین ایوبی کی واپسی مسجد اقصیٰ کی تاریخ کا سب سے درخشاں باب ہے، جس نے پوری امت کا سر فخر سے بلند کر دیا۔

فدیہ اور رحم: صلاح الدین نے اعلان کیا: جو 10 دینار دے، چلا جائے۔ غریبوں کے لیے اس نے خود اور اپنے بھائی نے فدیہ ادا کیا۔ 16,000 غریب لوگوں کو مفت رہا کیا گیا۔ عیسائی عورتوں کو جب روتا دیکھا تو فرمایا: “جن کے شوہر حطین میں مر گئے، انہیں بھی جانے دو۔”

جب وہ الاقصیٰ میں داخل ہوا تو مسجد اقصیٰ کی تاریخ میں 88 سال بعد پہلی اذان بلند ہوئی۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے محراب کا غبار صاف کیا۔ دمشق سے ایک خاص منبر منگوایا جو نور الدین زنگی نے بنوایا تھا۔ اس منبر پر اس نے خود خطبہ دیا۔

مسجد اقصیٰ کا تاریخی لکڑی کا منبر جو سلطان نورالدین زنگی نے بنوایا تھا
سلطان نورالدین زنگی کا مشہور منبر۔ 12ویں صدی میں حلب کے کاریگروں نے اسے باریک لکڑی کے کام سے تیار کیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے فتح یروشلم کے بعد اسے مسجد اقصیٰ میں نصب کیا۔

مؤرخ ابن شداد لکھتا ہے: “میں نے شہر میں ایک عیسائی عورت کو روتے دیکھا۔ صلاح الدین کے پاس لائی گئی۔ اس کا 3 سال کا بچہ بک چکا تھا۔ صلاح الدین نے اپنے پیسے سے اس بچے کو خرید کر ماں کے حوالے کیا۔” [النوادر السلطانیہ]

ڈسکشن پوائنٹ: آج دنیا ہمیں “Intolerant” کہتی ہے۔ صلاح الدین کا کردار ان کے منہ پر طمانچہ ہے۔ فتح کے وقت سب سے زیادہ رحم دکھایا۔ کیا آج ہم اپنے دشمن کو معاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ یہی اصلی طاقت ہے۔

۴۔ 13ویں صدی: منگول طوفان اور مملوکوں کی ڈھال

1258 میں ہلاکو خان نے بغداد تباہ کیا۔ 10 لاکھ مسلمان شہید ہوئے۔ اس طوفان کا رخ یروشلم کی طرف مڑا۔ لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔

1260 میں عین جالوت کے مقام پر مملوک سلطان سیف الدین قطز اور رکن الدین بیبرس نے منگولوں کو پہلی شکست دی۔ اگر وہ جنگ ہار جاتے تو شاید الاقصیٰ کا نام و نشان مٹ جاتا۔

سبق: جب امت پر سب سے بڑا خطرہ آیا، تو غلاموں سے بنے مملوک کھڑے ہوئے۔ یہ اللہ کی مدد ہے کہ وہ کسی نہ کسی کو کھڑا کر دیتا ہے۔ آج بھی مایوس نہیں ہونا۔

۵۔ عثمانی دور 1517-1917: 400 سال کا پُرسکون سایہ

1517 میں سلطان سلیم اول نے مملوکوں کو شکست دے کر یروشلم کو عثمانی سلطنت کا حصہ بنایا۔ 400 سال تک کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ اس دور میں سلیمان القانونی نے الاقصیٰ کی دیواریں دوبارہ بنوائیں۔ قبۃ الصخرہ پر کاشی کاری کروائی جو آج تک قائم ہے۔

اہم بات: 400 سال امن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب مسلمان متحد اور مضبوط ہوں، تو الاقصیٰ محفوظ رہتی ہے۔ فتنہ تب آتا ہے جب ہم کمزور پڑتے ہیں۔

۶۔ 1917 برطانوی قبضہ: 8 صدیوں کے بعد واپس غلامی

پہلی جنگِ عظیم میں 9 دسمبر 1917 کو جنرل ایڈمنڈ ایلنبی یروشلم میں داخل ہوا۔ وہ احترام میں یافا گیٹ پر گھوڑے سے اتر کر پیدل چلا۔ اس نے کہا: “Today the wars of the Crusades are completed.”

9 دسمبر 1917: پہلی جنگ عظیم کے دوران جنرل ایڈمنڈ ایلنبی نے یافا گیٹ سے پیدل یروشلم میں داخل ہوئے۔ 8 صدیوں کے بعد شہر پر برطانوی قبضہ ہوا۔

800 سال مسلمانوں کے پاس رہنے کے بعد الاقصیٰ پھر غیروں کے انتظام میں چلی گئی۔ کوئی قتل نہیں ہوا، لیکن سیاسی غلامی شروع ہو گئی۔ یہ اس وقت ہوا جب امتِ مسلمہ خلافت کے ختم ہونے کے بعد ٹکڑوں میں بٹ چکی تھی۔

۷۔ 1948 سے آج تک: قبضہ، مزاحمت اور امید

1948 میں اسرائیل بنا۔ اردن نے مشرقی یروشلم کا کنٹرول سنبھالا۔ لیکن 1967 کی 6 روزہ جنگ میں اسرائیل نے پورا یروشلم قبضہ کر لیا۔

آج کا حال: الاقصیٰ بظاہر مسلمانوں کے لیے کھلی ہے، لیکن اندر سے کنٹرول اسرائیلی فورسز کے پاس ہے۔ ہر جمعہ کو پابندیاں، ہر رمضان میں جھڑپیں۔ پھر بھی فلسطینی مائیں اپنے بچوں کو الاقصیٰ کی محبت کا درس دیتی ہیں۔637ء سے لے کر آج تک مسجد اقصی کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ یہ زمین صرف پتھروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایمان کا مرکز ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی بشارت: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: “میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، دشمن پر غالب رہے گا۔ ان سے اختلاف کرنے والے انہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے… صحابہ نے پوچھا وہ کہاں ہوں گے؟ فرمایا: بیت المقدس اور بیت المقدس کے اطراف میں۔” [مسند احمد: 22320]


آخر میں جذباتی پکار

اے مسلمانوں! الاقصیٰ ہمارا پہلا قبلہ ہے، ہمارے نبی ﷺ کی معراج کی یادگار ہے۔ مسجد اقصیٰ کی تاریخ میں 637 کی فتح بھی ہے اور 1099 کا خون بھی۔ 1187 کا رحم بھی ہے اور 1967 کا غم بھی۔مسجد اقصی کی تاریخ میں 1099ء کا سال سب سے المناک تھا جب صلیبیوں نے 70 ہزار مسلمانوں کو شہید کیا۔

سوال یہ نہیں کہ الاقصیٰ کتنی بار فتح ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس نسل سے ہیں جو اسے دوبارہ آزاد کروائے گی؟ کیا ہم صلاح الدین کے راستے پر ہیں یا 1099 والی غافل قوم بن گئے ہیں؟یہ تمام واقعات مسجد اقصی کی 1400 سالہ تاریخ کا حصہ ہیں جنہیں ہر مسلمان کو جاننا چاہیے۔

یاد رکھو، مسجدِ اقصیٰ پکارتی ہے۔ اور اس کا جواب صرف دعا نہیں، عمل ہے۔ علم سے، اتحاد سے، کردار سے۔

“اور تم دیکھو گے کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔ تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو۔ بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔” [النصر: 2-3]


حوالہ جات:

  1. ابن کثیر – البدایہ والنہایہ
  2. ابن شداد – النوادر السلطانیہ
  3. صحیح بخاری: 1189، صحیح مسلم: 1397
  4. مسند احمد: 22320
  5. The History of the Crusades – Steven Runciman

کیا آپ کومسجد اقصیٰ کی تاریخ کا کوئی حصہ سب سے زیادہ متاثر کن لگا؟ نیچے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.