سلطان عبدالحمید کا فلسطین انکار: وہ تاریخی “نہ” جس نے اسرائیل کو 50 سال روک دیا
سلطان عبدالحمید کا فلسطین انکار کیوں؟ یہ سوال 2026 میں بھی ہر مسلمان کے ذہن میں گونجتا ہے۔سن 1901 کی ایک گرمیوں کی دوپہر استنبول کے یلدز محل میں تاریخ کا سب سے بڑا سودا ہونے والا تھا۔ ایک طرف جدید صیہونیت کا بانی تھیوڈور ہرزل تھا، اور دوسری طرف 33 سال سے سلطنت عثمانیہ کے تخت پر بیٹھا خلیفہ سلطان عبدالحمید ثانی۔ ہرزل کی جیب میں 150 ملین سونے کے فرانک کی پیشکش تھی۔ آج کے حساب سے یہ 8 ارب ڈالر سے زیادہ بنتے ہیں۔
بدلے میں ہرزل کو صرف فلسطین میں یہودی بستیاں بسانے کا ایک “چارٹر” چاہیے تھا۔ سلطنت اس وقت شدید مالی بحران کا شکار تھی۔ یورپی بینکوں کا قرضہ سر پر تھا۔ ایک عام حکمران یہ سودا فوراً قبول کر لیتا۔ لیکن سلطان عبدالحمید نے فلسطین انکار کر کے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اس آرٹیکل میں ہم جانیں گے کہ سلطان عبدالحمید ثانی کی فلسطین پالیسی کیا تھی، اس نے انکار کیوں کیا، اور اس “نہ” کی قیمت اسے اپنی سلطنت سے کیسے چکانی پڑی۔
تھیوڈور ہرزل کون تھا؟ صیہونی منصوبے کا بانی
تھیوڈور ہرزل 2 مئی 1860 کو ہنگری کے شہر بوداپست میں ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوا۔ پیشے کے لحاظ سے صحافی اور ڈرامہ نگار تھا۔ 1894 میں فرانس میں “ڈریفس معاملہ” دیکھا جہاں ایک یہودی افسر پر غداری کا جھوٹا الزام لگا۔ اس واقعے نے ہرزل کو ہلا کر رکھ دیا۔
1896 میں اس نے اپنی مشہور کتاب Der Judenstaat یعنی “یہودی ریاست” لکھی۔ اس میں اس نے دلیل دی کہ یہودیوں کو یورپ میں کبھی عزت نہیں ملے گی۔ ان کا واحد حل اپنا الگ وطن ہے۔ 29 اگست 1897 کو اس نے سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں پہلی صیہونی کانگریس بلائی۔ وہاں 200 مندوبین کے سامنے اعلان کیا: “آج میں نے یہودی ریاست کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اگر آج نہیں تو 5 سال بعد، اور اگر 5 سال بعد نہیں تو 50 سال بعد یہ ضرور بنے گی۔”
صیہونی تحریک کے 3 بنیادی مقاصد:
دنیا بھر میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو ایک جگہ جمع کرنا۔
فلسطین کی سرزمین پر ایک خودمختار یہودی وطن حاصل کرنا۔
عالمی طاقتوں خصوصاً برطانیہ سے اس ریاست کو قانونی طور پر تسلیم کروانا۔
ٹھیک 50 سال بعد 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ نے قرارداد 181 پاس کر کے اسرائیل کے قیام کی منظوری دے دی۔ ہرزل کی پیشگوئی لفظ بہ لفظ سچ ثابت ہوئی۔ لیکن 1897 سے 1947 تک اس صیہونی منصوبے کے راستے کی سب سے بڑی دیوار سلطان عبدالحمیدکا فلسطین انکار ہی تھا۔ جب تک وہ تخت پر رہا، ہرزل کا خواب پورا نہ ہو سکا۔
یلدز محل میں ملاقات: ہرزل کی 150 ملین کی پیشکش اور سلطان کا جواب
ہرزل جانتا تھا کہ سلطان تک پہنچنا آسان نہیں اس لئے اس نے 5 سال تک سفارتکاری کی۔ عثمانی سفیر کو رشوت دی۔ آخرکار 17 مئی 1901 کو سلطان عبدالحمید ثانی نے اسے یلدز محل میں ملاقات کا وقت دیا۔ ہرزل اپنی ڈائری میں لکھتا ہے کہ وہ بہت پرامید تھا۔
یلدز محل میں ہرزل کی سلطان عبد الحمید ثانی سے ملاقات
ملاقات میں ہرزل نے سلطان کے سامنے 3 بڑی پیشکشیں رکھیں:
1. مالیاتی پیکج: 150 ملین سونے کے فرانک نقد ادا کیے جائیں گے۔ اس رقم سے سلطنت عثمانیہ کا تمام غیر ملکی قرضہ ایک دن میں ختم ہو جائے گا۔ خزانہ بھر جائے گا۔
2. سیاسی حمایت: یورپ کے تمام اخبارات اور بینک جو یہودیوں کے کنٹرول میں ہیں، سلطنت عثمانیہ کے حق میں مہم چلائیں گے۔ فرانس اور برطانیہ کا دباؤ ختم کروایا جائے گا۔
3. ترقیاتی منصوبہ: فلسطین میں جدید ریلوے، بندرگاہیں اور کارخانے لگائے جائیں گے۔ اس سے لاکھوں مقامی لوگوں کو روزگار ملے گا۔
ان سب کے بدلے میں ہرزل کو صرف ایک چیز چاہیے تھی: حیفا کے قریب ایک “خودمختار یہودی کالونی” کا سرکاری چارٹر۔ یعنی فلسطین کے اندر ایک الگ یہودی ریاست کی بنیاد۔
سلطان عبدالحمید کا فلسطین انکار: “یہ زمین فروخت کے لیے نہیں”
جب اس ملاقات کے دوران سلطان نے ہرزل کی پوری بات سنی اور پھر اسے جو جواب دیا، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا۔ ہرزل نے یہ جواب اپنی ڈائری جلد 4، صفحہ 111 پر لکھا:
“ڈاکٹر ہرزل کو نصیحت کرو کہ وہ مزید قدم نہ اٹھائے۔ میں فلسطین کی ایک بالشت زمین بھی فروخت نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ میری نہیں بلکہ میری قوم کی ملکیت ہے۔ میری قوم نے اس سلطنت کے لیے جنگیں لڑیں اور اسے اپنے خون سے سیراب کیا ہے۔ یہودی اپنی لاکھوں کی دولت سنبھال کر رکھیں۔ اگر خدانخواستہ میری سلطنت کبھی ختم ہو گئی تو وہ فلسطین بغیر قیمت کے لے لیں۔ مگر میری زندگی میں میرے جسم کے ٹکڑے کر دینا، فلسطین کی سرزمین کو سلطنت سے الگ کرنے سے زیادہ آسان ہے۔”
سلطان عبد الحمید کا فلسطین کا سودا کرنے سے انکار
یہ تھا سلطان عبدالحمید کا فلسطین انکار۔ ایک ایسا “نہ” جس نے صیہونی تحریک کو 50 سال پیچھے دھکیل دیا۔ سلطان نے واضح کر دیا کہ بیت المقدس اور فلسطین کوئی جاگیر نہیں جسے بیچا جا سکے۔ یہ پوری امت مسلمہ کی امانت ہے۔
سلطان عبدالحمید کے فلسطین انکار کی 4 ٹھوس وجوہات
سلطان کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کر رہا تھا بلکہ اس انکار کے پیچھے 4 بڑی سیاسی، مذہبی اور عسکری وجوہات تھیں:
1. خلافت کا وقار اور مذہبی ذمہ داری: سلطان عبدالحمید ثانی صرف ترکی کا بادشاہ نہیں تھا، وہ خلیفۃ المسلمین بھی تھا۔ فلسطین میں مسجد اقصیٰ ہے، جو مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ اگر وہ یہ سرزمین بیچ دیتا تو مصر سے ہندوستان تک پوری امت میں بغاوت پھیل جاتی۔ خلافت کا ادارہ ہی ختم ہو جاتا۔
2. برطانوی سامراج کا خوف: سلطان ایک دور اندیش سیاستدان تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہودی کالونی بظاہر تو عثمانی سلطنت کا حصہ ہوگی، لیکن عملی طور پر وہ برطانیہ کا فوجی اڈہ بن جائے گی۔ نہر سویز کے پاس ایک غیرملکی طاقت کا اڈہ سلطنت کے لیے موت کا پیغام تھا۔
3. آبادی کا توازن بگاڑنے کی سازش: 1882 میں عثمانی مردم شماری کے مطابق پورے فلسطین میں صرف 24 ہزار یہودی تھے، جو کل آبادی کا صرف 1.5% بنتے تھے۔ سلطان نے 1882 میں ہی ایک فرمان جاری کر کے یہودیوں کو فلسطین میں زمین خریدنے اور بڑی تعداد میں آباد ہونے سے روک دیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ “چارٹر” کا مطلب لاکھوں یہودیوں کی آمد ہے۔
4. “انگلی کاٹ کر کلائی مانگنے” کا خوف: سلطان کو یقین تھا کہ یہودی آج حیفا میں ایک چھوٹی کالونی مانگ رہے ہیں، کل پورا یروشلم مانگیں گے، اور پرسوں پوری سلطنت پر دعویٰ کر دیں گے۔ اس لیے اس نے بیماری کو جڑ سے ہی کاٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہی سلطان عبدالحمید فلسطین انکار کی سب سے بڑی وجہ تھی۔
سلطان عبدا لحمید کی فلسطین انکار کی قیمت: تخت، سلطنت اور خلافت سب قربان
اور پھر اس انکار کے بعد ہرزل مایوس ہو کر واپس چلا گیا اور 3 جولائی 1904 کو وہ دل کے دورے سے انتقال کر گیا لیکن مرنے سے پہلے اس نے اپنی ڈائری میں لکھا: “ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹا لیا۔ جب تک عبدالحمید تخت پر بیٹھا ہے، صیہونیت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اسے ہٹانا ہوگا۔”
ہرزل کے مرنے کے بعد صیہونی تنظیم نے اپنا پورا زور سلطان کو تخت سے ہٹانے پر لگا دیا۔ انہوں نے “نوجوانان ترک” یعنی Young Turks تحریک کو فنڈنگ دی۔ اس تحریک میں سب سے سرگرم کردار ایمانوئل کاراسو کا تھا، جو سالونیکا کا ایک یہودی وکیل تھا۔
27 اپریل 1909 کو نوجوانان ترک نے فوجی بغاوت کر کے سلطان عبدالحمید ثانی کو معزول کر دیااور تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سلطان کو معزولی کا فرمان سنانے جو 3 رکنی وفد آیا، اس کا سربراہ وہی ایمانوئل کاراسو تھا۔ جس سلطان نے فلسطین بیچنے سے انکار کیا تھا، اسے تخت سے اتارنے والا بھی ایک صیہونی یہودی تھا۔
سلطان عبد الحمید کو معزول کر دیا گیا
سلطان کی معزولی کے صرف 8 سال بعد 1917 میں برطانیہ نے “اعلان بالفور” جاری کر دیا، جس میں فلسطین میں یہودی وطن کے قیام کی حمایت کی گئی۔ اور 14 مئی 1948 کو اسرائیل کا قیام عمل میں آ گیا۔ یعنی سلطان عبدالحمید کےفلسطین انکار نے اسرائیل کے قیام کو ٹھیک 50 سال تک روکے رکھا۔
نتیجہ: تاریخ بدلنے والا “نہ” اور آخری عظیم خلیفہ
سلطان عبدالحمیدنے فلسطین انکار کیوں کیا؟ کیونکہ اس کے نزدیک قوموں کے ضمیر، مقدس مقامات اور شہداء کا خون چند سکوں کے عوض نہیں بکتا۔
150 ملین سونے کے سکے سلطنت عثمانیہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتے تھے۔ سلطان اپنی حکومت لمبی کر سکتا تھا۔ لیکن اس نے تخت، حکومت اور خلافت تینوں قربان کر دیں، مگر فلسطین کا سودا نہیں کیا۔ اسی لیے تاریخ اسے “Ulu Hakan” یعنی عظیم حکمران اور “آخری عظیم خلیفہ” کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اس کا یہ “نہ” رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے غیرت اور حمیت کی مثال رہے گا۔
آپ کا اس تاریخی واقعے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا سلطان عبدالحمید کا فلسطین انکار نہ کرتا تو آج دنیا کیسی ہوتی؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
Leave a Reply