تاریخ نامہ
ہر واقعہ، ہر کہانی

شداد کی جنت: 10 حیران کن راز جو قرآن میں چھپے ہیں

Spread the love

شدّاد کی جنت — وہ بادشاہ جس نے اللہ کو چیلنج کیا

تاریخ کا وہ کالا باب — جب ایک انسان نے دنیا میں جنت بنانے کی کوش کی اور خالی ہاتھ مرا

تاریخ کے اوراق میں بے شمار ظالم بادشاہوں کے قصے درج ہیں — فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا، نمرود نے آسمان کو فتح کرنے کی کوش کی — مگر ایک بادشاہ ایسا بھی گزرا جس نے ان سب سے بڑھ کر جسارت کی۔ اس نے کہا: “اللہ کی جنت؟ میں خود اپنی یعنی شداد کی جنت بناؤں گا — اس دنیا میں!” یہ ہے شدّاد بن عاد کی کہانی — تکبر کی وہ انتہا جو آج بھی روح کو کپکپا دیتی ہے۔

قوم عاد — وہ لوگ جن جیسا کوئی نہ تھا

ہزاروں سال پہلے، حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کی نسل سے ایک قوم جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی علاقے میں آباد تھی جسے قوم عاد کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ جسمانی اعتبار سے غیر معمولی تھے — لمبے قد، فولادی جسم اور بے مثال طاقت کے مالک۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے، میدانوں میں بلند و بالا محلات کھڑے کرتے اور انہیں سمجھنے والا دنیا میں کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کی بہترین نعمتوں سے نوازا تھا — زرخیز زمینیں، بہتی نہریں، لہلہاتے باغات اور بے شمار دولت۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کی طاقت اور ان کا انجام دونوں بیان فرمائے:

﴿ أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۝ إِرَمَ ذَاتِ ٱلۡعِمَادِ ۝ ٱلَّتِي لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي ٱلۡبِلَٰدِ ﴾

(سورۃ الفجر: ۶ تا ۸)

“کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عاد کے ساتھ کیا — ارم کے ساتھ جو ستونوں والا تھا — جن جیسا تمام شہروں میں کوئی نہیں بنایا گیا”

مفسرین کے مطابق قوم عاد کا سلسلہ نسب یوں ہے: عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح علیہ السلام۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے نبی حضرت ہود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا، مگر انہوں نے انکار کیا۔

شدّاد کون تھا؟ — نسل، حکومت اور طاقت

عاد کے مرنے کے بعد اس کے دو بیٹے — شدید اور شدّاد — دونوں مل کر حکمران بنے۔ روایات کے مطابق مشرق سے مغرب تک ہر بادشاہ ان کا تابع تھا، کوئی ان کے سامنے سر اٹھانے کی ہمت نہ رکھتا تھا۔ کچھ عرصے بعد شدید بھی فوت ہو گیا اور شدّاد اکیلا دنیا کا فرمانروا بن گیا۔

اسلامی روایات میں ہے کہ شدّاد نے نو سو سال تک حکومت کی اور اس کے زیر اقتدار ایک ہزار قبائل تھے۔ وہ کتابوں کا بے حد شوقین تھا — یہی شوق آگے چل کر اس کی ہلاکت کا سبب بنا۔

شداد کا جنت بنانے کا ارادہ — کیوں اور کب؟

اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے شدّاد کو اسلام کی دعوت دی، توحید کا پیغام سنایا اور آخرت کی جنت کی خوشخبری بھی دی — کہ جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اسے ایسی جنت ملے گی جہاں سونے چاندی کے محلات ہیں، یاقوت زمرد کے ستون ہیں، موتیوں کے فرش ہیں، باغات ہیں، نہریں ہیں اور ہر قسم کی نعمتیں ہیں۔

شدّاد نے یہ سن کر پوچھا: “اس جنت میں داخل ہونے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟” حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا: “اللہ واحد پر ایمان لاؤ، بتوں کو چھوڑ دو۔” شدّاد نے ہنستے ہوئے جواب دیا: “میں کسی اور کی جنت کا محتاج نہیں! میں اپنی جنت خود بناؤں گا — اس دنیا میں!” اور یہیں سے تاریخ کا وہ باب شروع ہوا جو آج بھی انسانیت کے لیے عبرت کا سامان ہے۔

کعب الاحبار کی روایت کے مطابق شدّاد نے اپنے وزراء کو حکم دیا کہ دنیا کی سب سے وسیع اور خوبصورت زمین تلاش کی جائے — اور وہاں ایسا شہر بنایا جائے جو اللہ کی جنت کا مقابلہ کر سکے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اس نے نبی ہود علیہ السلام کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا: “تم کہتے ہو آخرت میں جنت ملے گی؟ میں ابھی اس دنیا میں جنت بناتا ہوں!”

تعمیر کا آغاز — کیسے بنی شداد کی جنت؟

شدّاد نے ایک سو سرکردہ افسر مقرر کیے اور ہر ایک کے ساتھ ہزار مددگار لگائے۔ پوری دنیا کے بادشاہوں کو حکم بھیجا کہ سونا، چاندی، یاقوت، زمرد اور موتی جمع کر کے بھیجیں۔ صدیوں تک دنیا بھر سے قیمتی پتھر اور دھاتیں اکٹھی کی گئیں اور تعمیر شروع ہوئی۔

کہا جاتا ہے کہ شداد کے محل کے ستون سونے کے تھے اور فرش موتیوں سے جڑا ہوا تھا۔ یہ تھا شاہی تخت خانہ۔
شداد کی جنت کا شاہی محل اندر سے، سونے کے ستون موتی اور ہیروں سے سجے ہوئے

روایات کے مطابق اس جنت کی تعمیر میں تین سو سال لگے۔ جب شہر مکمل ہو گیا تو شدّاد نے مزید ایک ہزار محلات اور ہر محل کے پاس ہزار جھنڈے لگوائے — پھر سفر کی تیاری شروع ہوئی۔ کل ملا کر یہ منصوبہ صدیوں پر محیط تھا۔

شداد کی جنت کیسی نظر آتی تھی؟ — آنکھوں کو حیران کر دینے والا منظر

اسلامی روایات اور تفاسیر میں اس شہر کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ عقل کو دنگ کر دیتا ہے۔ عبداللہ بن قلابہ نامی شخص کی روایت جو براہ راست اس شہر میں داخل ہوا، اس کی تفصیل یوں ہے:

🏙️ شہر کی فصیل: چاروں اطراف سے اونچی فصیل — دس فرسخ لمبی، دس فرسخ چوڑی — سرخ اینٹوں کی، پانچ سو گز اونچی

🚪 دروازے: دو عظیم الشان دروازے — ایسے اونچے کہ آنکھ اوپر تک نہ پہنچے — خوشبودار لکڑی کے، پیلے اور سرخ یاقوت سے جڑے ہوئے — جن کی چمک سے سارے مکانات روشن ہو جاتے تھے

🏰 محلات: تین لاکھ محلات — ہر محل کے ستون زمرد اور یاقوت کے — ہر محل میں کھڑکی کے اوپر کھڑکی — سب سونے، چاندی، موتیوں اور قیمتی پتھروں سے بنی

💎 فرش: موتیوں، مشک اور زعفران کی گیندوں سے بنا فرش — کنکری کی جگہ موتی

🌳 باغات: ہر محل کے گرد پھل دار درختوں کے باغات — مختلف قسم کے پھل، گھنے سائے

🌊 نہریں: ہر باغ کے نیچے بہتی نہریں — بالکل ویسے جیسے قرآن میں جنت کی نہروں کا ذکر ہے

🏳️ جھنڈے: ہر محل کے پاس ایک ہزار جھنڈے — ہر جھنڈا ایک وزیر کی رہائش گاہ کی نشاندہی

شداد بن عاد کی بنائی ہوئی جنت: ارم ذات العماد کا شہر جو سونے، موتی اور قیمتی پتھروں سے مزین تھا۔
شداد کی جنت ارم ذات العماد کا سنہری شہر، سونے کے گنبد اور محل

جنت کا دروازہ اور ملک الموت کی آمد

جب شدّاد کو خبر دی گئی کہ جنت مکمل ہو گئی تو اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ اس نے لاکھوں کا لشکر تیار کیا —وزراء، سپاہی، غلام، کنیزیں — سب کو ساتھ لے کر چل پڑا۔ اس کے دل میں یہ غرور تھا کہ آج وہ اپنی “جنت” میں قدم رکھے گا اور ثابت کرے گا کہ اللہ کی جنت کی کوئی ضرورت نہیں۔مگر ابھی جنت کا دروازہ صرف ایک دن اور ایک رات کی مسافت پر تھا — کہ اچانک آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی۔ بعض روایات میں ہے کہ ملک الموت ایک ہیبتناک سوار کی صورت میں سامنے آ گیا۔ شدّاد نے کانپتے ہوئے پوچھا:

شدّاد: “تم کون ہو؟ میری راہ میں کیوں کھڑے ہو؟”

ملک الموت: “میں ملک الموت ہوں — اور تیری روح قبض کرنے آیا ہوں!”

شدّاد: “بس ایک لمحہ! صرف ایک قدم اپنی جنت میں رکھنے دو!”

مگر موت نے کوئی مہلت نہ دی۔ اللہ کے حکم سے اسی لمحے شدّاد کی روح قبض کر لی گئی۔ نہ صرف شدّاد بلکہ اس کے ساتھ چلنے والا پورا لشکر بھی آسمانی عذاب کی اس ہولناک آواز سے تباہ ہو گیا — اور کوئی ایک شخص بھی اس جنت کا دروازہ دیکھ نہ سکا۔

شداد کی جنت پر اللہ کا عذاب، آسمان سے اترتا ہوا فرشتہ اور بجلی
جب شداد اپنی بنائی ہوئی جنت دیکھنے پہنچا تو اللہ کا عذاب نازل ہو گیا اور ارم کا شہر تباہ ہو گیا۔

قرآن مجید میں عذاب کا بیان

قرآن مجید نے قوم عاد اور ان پر آنے والے عذاب کو متعدد مقامات پر بیان کیا ہے۔ سورۃ الحاقۃ میں اللہ تعالیٰ نے اس آندھی کی تفصیل یوں فرمائی:

﴿ وَأَمَّا عَادٌ فَأُهۡلِكُواْ بِرِيحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٍ ۝ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَثَمَٰنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى ٱلۡقَوۡمَ فِيهَا صَرۡعَىٰ كَأَنَّهُمۡ أَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ ﴾

(سورۃ الحاقۃ: ۶ تا ۷)

“اور عاد کو ایک سخت تیز آندھی سے ہلاک کیا گیا — جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل ان پر مسلط رہی — تم اس قوم کو دیکھتے کہ وہ اس طرح گری پڑی ہے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے”

سورۃ الاحقاف میں بھی اس عذاب کا ذکر ہے:

﴿ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيۡءٍۭ بِأَمۡرِ رَبِّهَا فَأَصۡبَحُواْ لَا يُرَىٰٓ إِلَّا مَسَٰكِنُهُمۡ ﴾

(سورۃ الاحقاف: ۲۵)

“وہ آندھی اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کرتی جا رہی تھی — پس وہ ایسے ہو گئے کہ صرف ان کی رہائش گاہیں نظر آتی تھیں”

شداد کی جنت کہاں گئی؟ — عبداللہ بن قلابہ کا حیرت انگیز واقعہ

شدّاد اور اس کی پوری قوم تو ہلاک ہو گئی — مگر وہ شہر؟ وہ جنت کہاں گئی؟ اس کا جواب ایک انتہائی حیرت انگیز واقعے میں ملتا ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کا ہے۔

ایک شخص جن کا نام عبداللہ بن قلابہ تھا، صحرائے عدن میں اپنی اونٹنی تلاش کرتے بھٹک گئے۔ اچانک دور ایک عجیب منظر نظر آیا ، چاروں طرف اونچی فصیل، محلات اور بے شمار جھنڈے۔ قریب آئے تو نہ کوئی آواز، نہ کوئی انسان۔انہوں نے اونٹنی باندھی اور اندر داخل ہو گئے،  یاقوت جڑے چمکتے دروازے، زمرد اور یاقوت کے ستون، فرش پر موتی اور مشک کی گیندیں، باغات میں پھلدار درخت اور بہتی نہریں۔ مگر — ایک بھی انسان نہیں۔ مکمل خاموشی۔ مکمل ویرانی۔

شداد بن عاد کا بنایا ہوا محل: کہا جاتا ہے کہ ستون سونے کے تھے اور زمین موتیوں اور قیمتی پتھروں سے ڈھکی تھی۔
شداد کی جنت کا شاہی محل اندر سے، سونے کے ستون اور موتی ہیروں سے بھرا ہوا

عبداللہ بن قلابہ خوف سے لرز گئے مگر پھر حوصلہ کر کے آگے بڑھے۔ انہوں نے اپنے کپڑوں میں جتنے موتی اور مشک اور زعفران سما سکتے تھے اٹھائے اور واپس آ گئے۔ واپسی پر انہوں نے یہ موتی بازار میں بیچنے کی کوش کی — مگر تاجروں نے دیکھا کہ موتی بہت پرانے اور پیلے پڑ چکے ہیں۔ یہ خبر پھیلی اور امیر معاویہ تک پہنچی۔ انہوں نے عبداللہ بن قلابہ کو بلایا اور پوری داستان سنی۔

پھر انہوں نے کعب الاحبار کو طلب کیا اور پوچھا: “کیا تم نے کسی ایسے شہر کے بارے میں پڑھا یا سنا ہے جو سونے چاندی کا ہو، جس کے ستون یاقوت زمرد کے ہوں اور فرش موتیوں کا ہو؟” کعب الاحبار نے فوراً جواب دیا: “ہاں! یہ ارم ذات العماد ہے — جسے شدّاد بن عاد نے بنایا تھا۔ اور جو شخص آپ کے سامنے بیٹھا ہے — یہی وہ شخص ہے جسے وہ شہر دکھایا گیا!”

روایات کے مطابق یہ شہر آج بھی موجود ہے — ریت کے نیچے — مگر اللہ نے اس کا راستہ لوگوں پر مخفی کر دیا ہے اور یہ قیامت تک یوں ہی رہے گا۔

جدید دریافت — ریت کا اٹلانٹس

۱۹۹۰ کی دہائی میں امریکی ماہر آثار قدیمہ نکولس کلاپ نے NASA کی سیٹلائٹ تصاویر اور قدیم عرب تجارتی راستوں کی مدد سے صحرائے عمان میں ایک قدیم شہر کے آثار دریافت کیے۔ کھدائی میں بلند ستون اور قدیم عمارتوں کی بنیادیں ملیں۔ دنیا کے بڑے اخبارات نے یہ خبر ان سرخیوں کے ساتھ چھاپی:

“عرب کا عظیم گمشدہ شہر دریافت ہو گیا!” — “ریت کا اٹلانٹس مل گیا!” — “وہ شہر جس کا ذکر قرآن میں ہے!”

اس شہر کو “اُبار” کا نام دیا گیا — کھدائی میں بلند ستون ملے، بالکل ویسے جیسا قرآن نے “ارم ذات العماد” کا ذکر کیا ہے۔ اس دریافت نے ثابت کر دیا کہ قرآن کریم جس قوم اور شہر کا تذکرہ کرتا ہے وہ کوئی افسانہ نہیں — اس کے آثار آج بھی زمین کے سینے میں موجود ہیں۔

عبرت کا سبق — تکبر کا انجام ہمیشہ یہی ہوتا ہے

شدّاد کی کہانی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں — یہ ہر اس انسان کے لیے آئینہ ہے جو اپنی دولت، طاقت یا ذہانت پر گھمنڈ کرتے ہوئے اللہ کو فراموش کر دے۔ تین سو سال کی محنت، لاکھوں انسانوں کا خون پسینہ، پوری دنیا کا سونا چاندی — سب کچھ ایک لمحے میں بیکار ہو گیا۔ شدّاد اپنی بنائی ہوئی جنت کا دروازہ تک نہ دیکھ سکا۔

شدّاد نے اللہ کو چیلنج کیا — اور اللہ نے اسے وہیں روک دیا جہاں وہ سب سے زیادہ فاتح سمجھ رہا تھا۔ نہ جنت ملی، نہ ایک لمحے کی مہلت — صرف ہوا کا ایک جھونکا، اور سب ختم۔ تکبر کی بنیاد پر کھڑی ہر عمارت — چاہے اسے بنانے میں تین سو سال لگیں — ریت میں دفن ہو جاتی ہے۔

📚 مآخذ و حوالہ جات

قرآنی حوالہ جات:

  • سورۃ الفجر، آیات ۶ تا ۸ — قوم عاد اور ارم ذات العماد کا ذکر
  • سورۃ الحاقۃ، آیات ۶ تا ۷ — عذاب کی تفصیل
  • سورۃ الاحقاف، آیت ۲۵ — آندھی کا بیان
  • سورۃ الشعراء، آیات ۱۲۳ تا ۱۴۰ — حضرت ہود علیہ السلام کی دعوت
  • سورۃ الاعراف، آیات ۶۵ تا ۷۲ — قوم عاد کا انجام

تفسیری و تاریخی مآخذ:

  • تفسیر ابن کثیر — سورۃ الفجر کی تفسیر، امام ابن کثیر رحمہ اللہ (۷۰۱–۷۴ ھ)
  • تفسیر طبری (جامع البیان) — امام محمد بن جریر الطبری (۲۲۴–۳۱۰ ھ)
  • البدایہ و النہایہ — امام ابن کثیر، قوم عاد کا باب
  • کمال الدین و تمام النعمہ — شیخ صدوق، باب ۵۴: شدّاد اور اس کی جنت
  • قصص الانبیاء — امام ابن کثیر

روایات و اسناد:

  • کعب الاحبار کی روایت — بحوالہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربار کا واقعہ
  • عبداللہ بن قلابہ کا واقعہ — کتب تفسیر میں سورۃ الفجر کے ذیل میں

نوٹ: شدّاد کا قصہ کتب تفسیر میں بطور عبرت بیان کیا گیا ہے۔ علماء اسے اسرائیلیات کے زمرے میں شمار کرتے ہیں — یعنی یہ روایات سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں مگر قرآنی تعلیم کے مطابق ہونے کی بنا پر مفسرین نے انہیں عبرت کے طور پر نقل کیا ہے

جدید تحقیق:

  • Nicholas Clapp — “The Road to Ubar” (1998) — اُبار کی دریافت کا سفرنامہ
  • Juris Zarins — ماہر آثار قدیمہ، صحرائے عمان کی کھدائی ۱۹۹۲ء
  • Madain Project — Shaddad entry (madainproject.com)
  • About Islam — “The Discovery of Iram City” (aboutislam.net)

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.