حضرت سلیمان علیہ السلام اور مسجد اقصیٰ کا رشتہ: تعمیر، حدیث اور 3 عظیم دعائیں
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ یہ صرف پتھروں کی عمارت نہیں، بلکہ انبیاء کی قربانیوں کی نشانی ہے۔ اس کی مٹی میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک کے قدم کی برکت ہے۔ آج جب ہم مسجد اقصیٰ کی بات کرتے ہیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام کا نام سب سے زیادہ لیا جاتا ہے۔ لیکن کیا وہ اس کے پہلے بنانے والے تھے؟ انہوں نے اس کو کیسے تعمیر کیا؟ اور ان کی کون سی دعا کی وجہ سے اس مسجد کی اتنی فضیلت ہے؟
اس مضمون میں ہم قرآن، صحیح حدیث اور تاریخی کتابوں کی روشنی میں یہ سارا واقعہ تفصیل سے سمجھیں گے۔
1. حضرت سلیمان اور مسجد اقصیٰ کا تعلق: کیوں ضروری ہے یہ رشتہ جاننا؟
جی ہاں۔ یہ غلط فہمی عام ہے کہ مسجد اقصیٰ کو سب سے پہلے حضرت سلیمان علیہ السلام نے بنایا۔ اصل میں اس کی بنیاد حضرت سلیمان علیہ السلام سے تقریباً 1000 سال پہلے رکھی جا چکی تھی۔
صحیح بخاری کی دلیل:
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: “میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الحرام۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سی؟ فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ فرمایا: 40 سال۔”
اس حدیث سے کیا ثابت ہوا:
اگر مسجد الحرام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا اور اس سے 40 سال بعد مسجد اقصیٰ بنی، تو بعض علما کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام یا ان سے بھی پہلے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس کی بنیاد رکھی۔ بعض روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے دونوں مساجد کی بنیاد رکھی۔
پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کا مسجد اقصیٰ میں کیا کردار ہے؟
حضرت سلیمان علیہ السلام سے پہلے اس جگہ پر مسجد اقصیٰ ایک سادہ سی عبادت گاہ کی شکل میں موجود تھی۔ وقت کے ساتھ وہ خستہ حال ہو گئی۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے اس کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا ارادہ کیا، لیکن ان کی زندگی میں یہ کام مکمل نہ ہو سکا۔ اللہ کے حکم سے یہ عظمت والا کام ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں پورا ہوا۔ آخری اور شاندار تعمیر حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات کے ذریعے کروائی۔ اسی لیے اس کو “ہیکل سلیمانی” بھی کہتے ہیں.

2. جنات کی لیبر اور پرندوں کا انٹیلیجنس نیٹ ورک
حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کا نظام صرف طاقت پر نہیں بلکہ ایک مکمل “سسٹم” پر قائم تھا۔ قرآن مجید صراحت سے بتاتا ہے کہ جنات کی ایک فوج آپ کے حکم پر محلات، مجسمے، بڑے بڑے حوض نما پیالے اور مضبوط دیگیں تیار کرتی تھی۔ دوسری طرف پرندے آپ کے انٹیلیجنس نیٹ ورک کا حصہ تھے — ہدہد کو ملکہ سبا کی جاسوسی پر بھیجا گیا، اور اسی نے سبا کی مکمل رپورٹ پیش کی جو بعد میں سفارتی خط و کتابت اور بالآخر ملکہ کے ایمان لانے کا سبب بنی۔ یعنی جنات تعمیر و تیاری، اور پرندے نگرانی و اطلاع رسانی کا کام سنبھالتے تھے۔
حوالہ جات: سورہ سبا: آیت 12-13 (جنات کی مزدوری) • سورہ نمل: آیت 20-28 (ہدہد اور ملکہ سبا) • تفسیر ابن کثیر (سورہ نمل)
بیت المقدس کی تعمیر اور جنات کی مہارت
روایات میں آتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس، جو مسجد اقصیٰ کی بنیاد ہے، کی تعمیر جنات کی مزدور فوج سے کروائی۔ وہ پتھر تراشتے، ستون کھڑے کرتے اور عمارت کو اس نفاست سے مکمل کرتے جو عام انسانی مزدوروں کے بس میں نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قدرت خاص طور پر حضرت سلیمان علیہ السلام کو عطا کی تھی، اور اسی وجہ سے آپ نے دعا کی تھی کہ ایسی بادشاہت عطا ہو جو کسی اور کو نہ ملے۔ یہ کوئی عام تعمیر نہیں تھی بلکہ اللہ کی طرف سے دیا گیا خاص علم اور اختیار تھا، جسے آج بھی دنیا حیرت سے دیکھتی ہے۔
حوالہ جات: سورہ سبا: آیت 13 (تعمیراتی کام) • سورہ ص: آیت 35 (بادشاہت کی دعا) • سورہ سبا: آیت 14 (وفات اور دابۃ الارض) • تفسیر ابن کثیر
3. حضرت سلیمان علیہ السلام اور مسجد اقصیٰ: تعمیر کا طریقہ
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ایسی سلطنت اور طاقت عطا فرمائی تھی جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی نہ بعد میں کسی کو ملے گی۔ اس میں جنات، ہوا، پرندے اور جانور سب آپ کے تابع تھے۔قرآن میں ہے کہ اگر کوئی جن کام سے انکار کرتا تو اسے “بھڑکتے ہوئے آگ کے عذاب” میں ڈال دیا جاتا۔ سورہ سبا: 12

جنات لکڑی کے سہارے کھڑے حضرت سلیمان علیہ السلام کو زندہ سمجھ کر کام کرتے رہے۔ جب دیمک نے عصا کھا لیا اور آپ گر گئے، تب پتا چلا۔ سورہ سبا: 14
قرآن کی گواہی:
سورہ سبا میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اور ہم نے سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا، صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینے کی راہ۔ اور ہم نے ان کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا۔ اور جنات میں سے بعض ایسے تھے جو ان کے رب کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے۔ اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرتا تو ہم اس کو دوزخ کے عذاب کا مزا چکھاتے۔ وہ سلیمان کے لیے جو وہ چاہتے تھے بناتے، قلعے اور مجسمے اور حوض جیسے لگن اور لگی ہوئی دیگیں۔”
حوالہ: سورہ سبا، آیت 12-13
تفسیر کا خلاصہ:
مفسرین لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد اقصیٰ کی تعمیر میں انہی جنات سے کام لیا۔ وہ دور دراز سے پتھر لاتے، ان کو تراشتے، اور بلند و بالا عمارت قائم کرتے۔ تانبے کو پگھلا کر ستون بنائے گئے۔ یہ ایک ایسا شاہکار تھا جس کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ تاریخی روا یات یہ بتاتی ہیں کہ تعمیر کئی سالوں تک جاری رہی، لیکن مدت مکمل طور پر ثابت نہیں ہے۔

4. مسجد اقصیٰ کی تعمیر مکمل ہونے پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی 3 مشہور دعائیں
یہ واقعہ اس سلسلے کی جان ہے۔ جب مسجد اقصیٰ کی تعمیر مکمل ہو گئی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے حضور ہاتھ اٹھا کر 3 عظیم دعائیں مانگیں۔
سنن نسائی کی صحیح حدیث:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب سلیمان بن داؤد علیہ السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ سے 3 چیزیں طلب کیں۔”
پہلی دعا: “یا اللہ! مجھے ایسا حکم اور فیصلہ کرنے کی توفیق دے جو تیرے حکم کے مطابق ہو۔” اللہ نے یہ دعا قبول فرما لی۔ اسی لیے حضرت سلیمان علیہ السلام کا انصاف مشہور ہے۔
دوسری دعا: “یا اللہ! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو حاصل نہ ہو۔” یہ دعا بھی قبول ہوئی۔ آج تک تاریخ میں ایسی سلطنت کسی کی نہیں ہوئی۔
تیسری دعا: “یا اللہ! جو شخص بھی اس مسجد میں صرف نماز کی نیت سے آئے، تو اس کے تمام گناہ معاف فرما کر اس کو ایسا پاک کر دے جیسا وہ اس دن تھا جب اس کی ماں نے اس کو جنا تھا۔”
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جہاں تک پہلی دو دعاؤں کا تعلق ہے وہ تو ان کو دے دی گئیں۔ اور میں امید رکھتا ہوں کہ تیسری دعا بھی قبول کر لی گئی ہوگی۔”
حوالہ: سنن النسائی، حدیث 693۔ امام البانی نے اس کو صحیح کہا ہے۔
5. تیسری دعا کی وجہ سے مسجد اقصیٰ کی کیا فضیلت ہے؟
حضرت سلیمان علیہ السلام کی تیسری دعا کی برکت سے آج بھی مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کا بے حساب ثواب ہے۔
نماز کا ثواب:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مسجد الحرام میں ایک نماز 1 لاکھ نمازوں کے برابر ہے، میری اس مسجد میں ایک نماز 1 ہزار نمازوں کے برابر ہے، اور مسجد اقصیٰ میں ایک نماز 500 نمازوں کے برابر ہے۔”(“مختلف احادیث میں ثواب کی مختلف تعداد منقول کی گئی ہے اور اصل مقصد اس کی بے پناہ فضیلت کو بیان کرنا ہے۔)
حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث 1406۔ شیخ البانی نے صحیح کہا۔
سفر کی فضیلت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: “3 مسجدوں کے علاوہ کسی طرف ثواب کی نیت سے سفر نہ کیا جائے: مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔”
حوالہ: صحیح بخاری، 1189
حدیث میں آتا ہے کہ دجال پوری دنیا میں جائے گا لیکن مکہ، مدینہ اور مسجد اقصیٰ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ فرشتے ان شہروں کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔ حوالہ: صحیح بخاری 1881
مسجد اقصیٰ کے گرد ہی قیامت کے دن لوگوں کا حشر ہوگا۔ اسی زمین کو اللہ نے “مقدس سرزمین” کہا ہے۔ سورہ المائدہ: 21
اس سے پتہ چلا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے یہ مسجد رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مغفرت اور برکت کا ذریعہ بن گئی۔
6. آج کے دور میں ہمارے لیے سبق
نیکی کا سلسلہ: حضرت داؤد علیہ السلام نے تعمیر کی نیت کی، حضرت سلیمان علیہ السلام نے عمل کیا۔ ہم بھی مسجد اقصیٰ کی آزادی کی نیت رکھیں۔ ہو سکتا ہے اللہ ہمارے بچوں کے ہاتھوں سے یہ کام لے لے۔
دعا کی طاقت: حضرت سلیمان علیہ السلام نے بنانے کے بعد سب سے پہلے دعا کا سہارا لیا۔ ہم بھی جب کوئی نیک کام کریں تو اللہ سے قبولیت کی دعا ضرور مانگیں۔
رشتہ جوڑنا: مسجد اقصیٰ سے ہمارا رشتہ صرف جذباتی نہیں، بلکہ ایمانی اور تاریخی ہے۔ اس رشتے کو اپنی نسلوں تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
خاتمہ اور پیغام
حضرت سلیمان علیہ السلام اور مسجد اقصیٰ کا رشتہ ایک عمارت اور ایک بادشاہ کا نہیں۔ یہ اللہ کے نبی کی اللہ کے گھر سے محبت کا رشتہ ہے۔ انہوں نے اس کی تعمیر پر اپنی سلطنت کے خزانے کھول دیے اور پھر اس کے لیے وہ دعائیں مانگیں جو قیامت تک آنے والی امت کے کام آئیں۔حضرت سلیمان علیہ السلام مسجد اقصیٰ کی تعمیر کا یہ واقعہ ہمیں اللہ کی قدرت دکھاتا ہے۔
آج ہم وہاں جا کر نماز نہیں پڑھ سکتے، لیکن ہمارے دلوں کا رخ تو قبلہ اول کی طرف رہنا چاہیے۔ اپنی دعاؤں میں، اپنے بچوں کی تربیت میں، اور اپنے قلم کے ذریعے مسجد اقصیٰ کا ذکر زندہ رکھیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی تیسری دعا کا مستحق بنائے اور ہمیں اپنی زندگی میں مسجد اقصیٰ میں باجماعت نماز ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
آپ کی رائے:
آپ کو حضرت سلیمان علیہ السلام اور مسجد اقصی کے اس واقعے کا کون سا حصہ سب سے زیادہ متاثر کن لگا؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
اگر یہ مضمون پسند آیا ہو تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ قبلہ اول کی تاریخ سب تک پہنچے۔

Leave a Reply