تاریخ نامہ
ہر واقعہ، ہر کہانی

‏پہلی جنگ عظیم:‏1‏ گولی، ‏1‏ کروڑ لاشیں، ‏600‏ سالہ خلافت کا خاتمہ‏

Spread the love

28 جون 1914 کی ایک گرم دوپہر، سرائیوو کے ایک تنگ سے بازار میں چلنے والی صرف ایک گولی — اور اگلے چار سالوں میں پوری دنیا آگ اور خون میں ڈوب گئی۔ ایسی جنگ جس نے یورپ کی صدیوں پرانی سلطنتوں کو زمین بوس کر دیا، ایک کروڑ سے زیادہ فوجیوں کی جان لے لی، اور مسلم دنیا کی سب سے بڑی طاقت — سلطنتِ عثمانیہ — کو بھی ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ یہ پہلی جنگ عظیم کی کہانی ہے، ایسی جنگ جس کا اثر آج، ایک صدی گزرنے کے باوجود، دنیا کے نقشے پر صاف نظر آتا ہے۔

وہ آتش فشاں جو برسوں سے پک رہا تھا

پہلی جنگ عظیم کوئی اچانک شروع ہونے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ برسوں کی رقابت، خوف اور عزائم کا نتیجہ تھی۔ یورپ کی بڑی طاقتیں — برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، آسٹریا-ہنگری — ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ ہر ملک اپنی قوم کو دوسروں سے برتر سمجھتا تھا، ہر کوئی زیادہ سے زیادہ کالونیاں اور وسائل حاصل کرنا چاہتا تھا، اور ہر دارالحکومت میں فوج کو مضبوط بنانے کی دوڑ جاری تھی۔ اس کے اوپر ایک ایسا نظام بھی موجود تھا جس نے پوری صورتحال کو ایک ٹائم بم بنا دیا — خفیہ فوجی اتحاد، جن کے تحت اگر ایک ملک پر حملہ ہوتا تو باقی سب خودبخود جنگ میں کھنچ آتے۔

یورپ دو بڑے کیمپوں میں تقسیم ہو چکا تھا: ایک طرف Triple Alliance جرمنی، آسٹریا-ہنگری اور اٹلی۔ دوسری طرف Triple Entente برطانیہ، فرانس اور روس۔ اور ان سب کے بیچ بلقان کا خطہ ایسا تھا جسے تاریخ دان “یورپ کا بارود خانہ” کہتے ہیں — کئی چھوٹی قومیں، صدیوں کی نسلی و مذہبی رقابتیں، اور بڑی طاقتوں کے مفادات کا ٹکراؤ۔ یہاں ذرا سی چنگاری بھی پوری براعظمی جنگ بھڑکا سکتی تھی، اور آخرکار ایسا ہی ہوا۔

پہلی جنگ عظیم سے پہلے یورپ کا نقشہ - Triple Alliance اور Triple Entente کے 2 اتحاد
بائیں طرف Triple Alliance: جرمنی، آسٹریا-ہنگری، اٹلی۔ دائیں طرف Triple Entente: برطانیہ، فرانس، روس۔ بیچ میں بجلی جنگ کے آغاز کی علامت ہے۔

1 گولی جس نے یورپ کو جنگ میں جھونک دیا

28 جون 1914 کو آسٹریا-ہنگری کے ولی عہد آرچ ڈیوک فرانز فرڈیننڈ اپنی بیوی کے ساتھ سرائیوو کے دورے پر تھے جب ایک نوجوان سربیائی قوم پرست، گیوریلو پرنسپ، نے انہیں گولی مار دی۔ یہ واقعہ اپنی جگہ اتنا بڑا نہیں تھا کہ عالمی جنگ چھڑ جائے — مگر خفیہ اتحادوں کے نظام نے اسے ڈومینو اثر میں بدل دیا۔

آسٹریا-ہنگری نے سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ روس، سربیا کا حامی ہونے کی وجہ سے اپنی فوج متحرک کرنے لگا۔ جرمنی نے آسٹریا کا ساتھ دیا اور روس کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ فرانس، روس کا اتحادی ہونے کے ناطے خودبخود جنگ میں کھنچ آیا۔ اور جب جرمن افواج نے فرانس تک پہنچنے کے لیے غیر جانبدار بیلجیم کی سرزمین کو روندا، تو برطانیہ بھی میدان میں کود پڑا۔ یوں محض پانچ ہفتوں کے اندر ایک مقامی قتل، پوری دنیا کی جنگ بن گیا — تاریخ اس دور کو “جولائی کا بحران” کہتی ہے، اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں سفارت کاری ناکام ہوئی اور توپوں نے بات چیت کی جگہ لے لی۔

جنگ کے خونریز کئی محاذ 

پہلی جنگ عظیم کوئی ایک محاذ کی جنگ نہیں تھی بلکہ دنیا کے کئی خطوں میں بیک وقت پھیل گئی۔ مغربی محاذ پر، فرانس اور بیلجیم کی سرزمین پر، دونوں طرف کی افواج گہری خندقوں میں مہینوں تک ایک دوسرے کے سامنے پھنسی رہیں — چند سو گز زمین کے لیے ہزاروں جانیں قربان ہوتیں اور اگلے دن پھر وہی زمین واپس چھن جاتی۔ مشرقی محاذ پر، روس اور جرمنی-آسٹریا کے درمیان، میدان کہیں زیادہ وسیع اور متحرک تھا، جہاں لاکھوں فوجی برفانی موسم میں بھی لڑتے رہے۔

لیکن جنگ کا ایک محاذ ایسا تھا جس کے اثرات پوری مسلم دنیا پر پڑے۔ وہ مشرق وسطیٰ تھا جہاں عثمانی ریاست نے جرمنی کا ساتھ دے کر جنگ میں حصہ لیا۔ اور برطانوی، فرانسیسی اور روسی افواج کے خلاف نبرد آزما ہوئی۔ اسی محاذ کی سب سے یادگار جنگ گیلی پولی کی مہم تھی، جہاں 1915ء میں برطانیہ اور اتحادیوں نے آبنائے دردانیل کے راستے استنبول پر قبضے کی کوشش کی۔ ان کا خیال تھا کہ عثمانی افواج کمزور ہیں اور جلد ہار مان لیں گی۔ مگر ایسا نہ ہوا — عثمانی فوجیوں نے، جن کی کمان میں ایک نوجوان کرنل مصطفیٰ کمال (جو بعد میں اتاترک کے نام سے مشہور ہوا) شامل تھا، مہینوں تک سخت مزاحمت کی اور اتحادیوں کو بھاری جانی نقصان کے ساتھ پیچھے دھکیل دیا۔ یہی وہ جنگ تھی جس نے مصطفیٰ کمال کو ترک عوام میں ایک قومی ہیرو بنا دیا — اور آگے چل کر یہی شہرت اس کے ہاتھوں خلافت کے خاتمے کی راہ ہموار کرے گی۔

پہلی جنگ عظیم کے ہتھیار:مشین گن سے ٹینک تک 

یہ پہلی ایسی جنگ تھی جس میں جدید ٹیکنالوجی نے تباہی کی بالکل نئی صورتیں دکھائیں۔ مشین گنیں اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کو سیکنڈوں میں ہلاک کر دیتی تھیں کہ صدیوں پرانی جنگی حکمتِ عملی — کھلے میدان میں قطار بنا کر آگے بڑھنا — بالکل بےکار ہو گئی۔ زہریلی گیس پہلی بار وسیع پیمانے پر استعمال ہوئی، جس نے ہزاروں فوجیوں کو انتہائی اذیت ناک موت دی اور جو بچ گئے وہ عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے۔ ٹینک اور ہوائی جہاز بھی پہلی بار جنگی میدان میں نمودار ہوئے، اور آبدوزوں نے سمندری تجارت کو بھی جنگ کا میدان بنا دیا۔

پہلی جنگ عظیم کا میدان جنگ - مشین گن، گیس ماسک اور پہلا برطانوی ٹینک کارروائی میں
وہ نئی ٹیکنالوجی جس نے لاکھوں جانیں لے لیں۔

مغربی محاذ کی خندقی جنگ اس دور کی سب سے ہولناک علامت بن گئی۔ دونوں طرف کے فوجی مہینوں کیچڑ، بیماری، چوہوں اور مسلسل گولہ باری میں زندہ رہنے پر مجبور تھے۔ Battle of the Somme میں، جو 1916ء میں لڑی گئی، صرف پہلے ہی دن برطانیہ کے تقریباً 20 ہزار فوجی مارے گئے — برطانوی فوجی تاریخ کا سب سے خونی دن۔ اسی سال Battle of Verdun بھی اتنی طویل اور بھیانک ثابت ہوئی کہ اسے فوجی حلقوں میں “قتل گاہ” کا نام دیا گیا، جہاں دس مہینوں میں تقریباً سات لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے، مگر زمین کا کوئی خاص حصہ کسی طرف منتقل نہ ہوا۔

روس سے علیحدگی اور امریکہ کی آمد – پہلی جنگ عظیم کا ٹرننگ پوائنٹ 

1917ء میں دو بڑے واقعات نے پوری جنگ کا رخ بدل دیا۔ پہلا، روس میں انقلاب برپا ہوا اور نئی بالشویک حکومت نے، جو اندرونی خانہ جنگی میں الجھی ہوئی تھی، جرمنی سے صلح کر کے جنگ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس سے جرمنی کو مشرقی محاذ سے فارغ ہو کر پوری قوت مغربی محاذ پر لگانے کا موقع مل گیا۔ لیکن اسی سال ایک اور فیصلہ کن واقعہ ہوا — امریکہ، جو اب تک جنگ سے دور تھا، جرمن آبدوزوں کے حملوں سے تنگ آ کر اتحادیوں کی طرف سے جنگ میں شامل ہو گیا۔

1917 میں روس کا انقلاب اور امریکہ کی پہلی جنگ عظیم میں انٹری - جنگ کا ٹرننگ پوائنٹ
1917 پہلی جنگ عظیم کا فیصلہ کن سال تھا۔ بائیں طرف روس میں بولشویک انقلاب اور دائیں طرف امریکی فوج کا یورپ میں اترنا۔

امریکی افواج کی تازہ دم آمد نے اتحادیوں کا پلڑا بھاری کر دیا۔ جرمنی، جو اپنی معیشت اور افرادی قوت کے لحاظ سے پہلے ہی بری طرح تھک چکا تھا، اب مزید مزاحمت نہ کر سکا۔ آخرکار 11 نومبر 1918ء کو صبح گیارہ بجے جنگ بندی (Armistice) پر دستخط ہوئے، اور یوں چار سال، تین مہینے اور دو ہفتوں تک جاری رہنے والی یہ جنگ بالآخر ختم ہوئی — لیکن اپنے پیچھے ایک کروڑ سے زائد فوجیوں اور تقریباً اتنے ہی عام شہریوں کی لاشیں چھوڑ گئی، اور لاکھوں گھرانے ہمیشہ کے لیے اجڑ گئے۔

‏1916‏ کا خفیہ معاہدہ جس نے عرب دنیا کے نقشے بدل دیے  

مسلم دنیا کے لیے پہلی جنگ عظیم کا سب سے تکلیف دہ نتیجہ سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ تھا، اور اس کی جڑیں جنگ کے دوران ہی رکھ دی گئی تھیں۔ 1916ء میں، جبکہ جنگ ابھی جاری تھی، برطانیہ اور فرانس نے خفیہ طور پر Sykes-Picot Agreement پر دستخط کیے — ایک ایسا معاہدہ جس میں مشرقِ وسطیٰ کی عرب سرزمینوں کو دونوں طاقتوں نے آپس میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کر لیا، بغیر اس خطے کے لوگوں سے کوئی مشورہ کیے۔ اسی دوران برطانیہ نے شریف حسین بن علی سے بھی خفیہ خط و کتابت کی اور انہیں عثمانیوں کے خلاف بغاوت کرنے پر ایک متحدہ عرب ریاست کا وعدہ دیا — ایک ایسا وعدہ جو کبھی پورا نہ ہوا، کیونکہ اسی وقت انہی سرزمینوں کی تقسیم کا خفیہ نقشہ پہلے ہی تیار ہو چکا تھا۔

برطانوی اور فرانسی افسران 1916 میں میز پر نقشہ رکھ کر خفیہ Sykes-Picot معاہدے پر بات کرتے ہوئے
1916 کا خفیہ Sykes-Picot معاہدہ:

جنگ ختم ہونے کے بعد 1920ء میں Treaty of Sèvres کے ذریعے عثمانی سلطنت کے بیشتر علاقے باقاعدہ طور پر چھین لیے گئے۔ عرب سرزمینیں، جن کے لیے آزادی کا خواب دکھایا گیا تھا، دراصل برطانیہ اور فرانس کے زیرِ انتظام “مینڈیٹس” میں تقسیم کر دی گئیں۔ شام اور لبنان فرانس کے حصے میں آئے، جبکہ عراق اور فلسطین برطانیہ کے زیرِ نگرانی چلے گئے — یہی وہ فیصلے تھے جن کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سرحدیں کھینچی گئیں، اور جن کے اثرات آج تک فلسطین سے لے کر عراق تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

3‏ مارچ ‏1924‏: وہ دن جب ‏600‏ سالہ خلافت عثمانیہ ختم ہوئی 

1922ء میں، وہی مصطفیٰ کمال جس نے گیلی پولی میں شہرت پائی تھی، اب ترک قوم پرست تحریک کا رہنما بن چکا تھا۔ اسی سال ترکی کی عظیم قومی اسمبلی نے سلطنتِ عثمانیہ کی بادشاہت (سلطنت) کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ آخری سلطان محمد ششم کو ایک برطانوی بحری جہاز کے ذریعے جلاوطن کر دیا گیا، اور وہ کبھی واپس اپنے وطن نہ لوٹ سکے۔

اگرچہ خلافت کا عہدہ عارضی طور پر برقرار رکھا گیا — عبدالمجید ثانی کے نام پر — مگر یہ محض ایک علامتی حیثیت رکھتا تھا، جیسے ویٹیکن میں پوپ، بغیر کسی حقیقی سیاسی طاقت کے۔ آخرکار 3 مارچ 1924ء کی رات، جب استنبول کے دولمہ باغچہ محل میں خلیفہ عبدالمجید اپنی لائبریری میں قرآن کی تلاوت میں مصروف تھے، ایک فوجی قاصد نے دروازہ کھٹکھٹایا اور انہیں اطلاع دی کہ عظیم قومی اسمبلی نے خلافت کے خاتمے کی منظوری دے دی ہے۔ چند دنوں میں انہیں اور پوری عثمانی خاندان کو ملک بدر کر دیا گیا۔ یوں سات صدیوں پر محیط عثمانی سلطنت، اور دراصل صدیوں پرانا خلافت کا ادارہ ہی، ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن گیا۔

آخری عثمانی خلیفہ عبدال مجید ثانی محل کی لائبریری میں بیٹھے ہیں اور ایک فوجی دروازے پر کھڑا ہے
آخری عثمانی خلیفہ عبدال مجید ثانی

اس فیصلے پر مسلم دنیا میں شدید ردِعمل ہوا۔ برصغیر ہند میں مسلمانوں نے خلافت کو بچانے کے لیے ایک بڑی تحریک چلائی جسے “تحریکِ خلافت” کہا جاتا ہے، جس کی قیادت مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جیسے رہنماؤں نے کی، اور کچھ عرصے کے لیے یہ مہاتما گاندھی کی عدم تعاون تحریک سے بھی جڑ گئی۔ کچھ جوش میں آئے مسلمانوں نے تو ہندوستان کو “دارالحرب” سمجھتے ہوئے افغانستان کی طرف ہجرت تک کر لی۔ لیکن آخرکار جب اتاترک نے خلافت کا مکمل خاتمہ کر دیا، تو یہ عالمی تحریک بھی بکھر گئی — اور مسلم دنیا ایک ایسے سیاسی خلا میں چلی گئی جس کا کوئی متفقہ حل آج، سو سال بعد بھی، سامنے نہیں آ سکا۔

تاریخی نوٹ: کچھ جدید محققین (جیسے Islam21c کا تجزیہ) یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ خلافت کی حقیقی سیاسی طاقت دراصل 1909ء میں ہی، سلطان عبدالحمید ثانی کی معزولی کے ساتھ ختم ہو چکی تھی، اور 1924ء کا فیصلہ محض ایک علامتی خاتمہ تھا۔ یہ ایک متبادل تاریخی نقطہ نظر ہے جسے قارئین کی معلومات کے لیے یہاں شامل کیا جا رہا ہے، تاکہ ایک ہی واقعے کے مختلف زاویے سامنے آ سکیں۔

وہ زخم جو آج تک نہیں بھرا

جرمنی کے ساتھ Treaty of Versailles کے ذریعے نہایت سخت شرائط عائد کی گئیں — بھاری جنگی تاوان، فوجی پابندیاں، اور علاقائی نقصان۔ یہی ذلت آمیز شرائط بعد میں جرمن عوام میں شدید نفرت اور غصے کو جنم دیں، جو دو دہائیوں بعد ایڈولف ہٹلر کے عروج اور دوسری جنگ عظیم کی ایک بڑی وجہ بنیں — یعنی ایک جنگ نے دوسری جنگ کی بنیاد رکھ دی۔

پرانی سلطنتیں — عثمانی، آسٹرو-ہنگیرین، روسی اور جرمن — سب زمین بوس ہو گئیں، اور ان کی جگہ کئی نئی چھوٹی ریاستیں وجود میں آئیں۔ مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ مکمل طور پر بدل گیا۔ 1917ء کے Balfour Declaration میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک “قومی وطن” کے قیام کی حمایت کا اعلان کر دیا — یہی وہ فیصلہ تھا جس نے آنے والی دہائیوں میں فلسطین کے تنازع کی بنیاد رکھی، ایک ایسا مسئلہ جو آج تک حل طلب ہے۔

اس جنگ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

پہلی جنگ عظیم ہمیں سکھاتی ہے کہ اندھی قوم پرستی اور بے جا فوجی اتحاد کیسے پوری دنیا کو تباہی کی طرف لے جا سکتے ہیں — کہ کیسے ایک شہر کی ایک گولی پورے کرہ ارض کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے۔ یہ ہمیں یہ بھی دکھاتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے خفیہ معاہدے کیسے کمزور اقوام کی تقدیر کا فیصلہ کر دیتے ہیں، بغیر ان سے پوچھے — بالکل جیسا کہ عرب دنیا اور خلافتِ عثمانیہ کے ساتھ ہوا۔ اور شاید سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ سیاسی اتحاد اور اجتماعی نظام، جتنا بھی کمزور یا ٹوٹا پھوٹا کیوں نہ ہو، اگر ختم ہو جائے تو اس کا خلا صدیوں تک پُر نہیں ہوتا۔

اختتامیہ

پہلی جنگ عظیم صرف یورپ کی جنگ نہیں تھی — اس نے پوری دنیا کا نقشہ بدل دیا، اور مسلم دنیا کے لیے تو یہ ایک ایسا گہرا زخم چھوڑ گئی جو آج تک نہیں بھرا۔ ایک صدی گزرنے کے باوجود، اس جنگ کے فیصلوں کا اثر آج بھی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، سرحدوں اور تنازعات میں صاف نظر آتا ہے۔ ایک گولی، ایک خفیہ نقشہ، اور ایک رات کا فیصلہ — یہی وہ تین لمحات تھے جنہوں نے صدیوں پرانی دنیا کا نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال 1: خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کب ہوا؟

جواب: خلافت عثمانیہ کا باضابطہ خاتمہ 3 مارچ 1924 کو ہوا، جب ترکی کی نئی حکومت نے خلافت کو مکمل طور پر ختم کر دیا، پہلی جنگ عظیم میں شکست کے چند سال بعد۔

سوال 2: سائیکس پیکو معاہدہ کیا تھا؟

جواب: سائیکس پیکو ایک خفیہ معاہدہ تھا جو 1916 میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان طے پایا، جس کے تحت مشرق وسطیٰ کے عثمانی علاقوں کو آپس میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

سوال 3: پہلی جنگ عظیم میں عثمانی سلطنت کس طرف تھی؟

جواب: عثمانی سلطنت نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی اور آسٹریا-ہنگری کے ساتھ مل کر اتحادی افواج (برطانیہ، فرانس، روس) کے خلاف جنگ لڑی۔

سوال 4: خلافت عثمانیہ کے ختم ہونے سے مسلمانوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟

جواب: خلافت کے خاتمے سے مسلم دنیا ایک مرکزی سیاسی قیادت سے محروم ہو گئی، اور سائیکس پیکو کی تقسیم کے باعث آج کے کئی مشرق وسطیٰ کے ممالک کی حدود وجود میں آئیں۔

آپ کے خیال میں خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ مسلم دنیا کے لیے سب سے بڑا نقصان کیوں تھا؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

حوالہ جات: Wikipedia — Dissolution of the Ottoman Empire, Partition of the Ottoman Empire, Abolition of the Caliphate, Abolition of the Ottoman Sultanate • Britannica — Khilafat Movement • Al Hakam — “Price of Rebellion: Collapse of the Ottoman Caliphate” • Islam21c — “End of the Ottoman Caliphate: The Real Story” • PolSci Institute — “The Fall of an Empire: Dissolution of the Ottoman Empire Post-World War I”

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.