تاریخ نامہ
ہر واقعہ، ہر کہانی
عبدالرحمٰن الداخل

عبدالرحمٰن الداخل —امارتِ قرطبہ کی 1 بنیاد، جدوجہد اور بغاوتیں

Spread the love

عبدالرحمٰن الداخل — وہ شہزادہ جس کے پیچھے موت تھی

750–788ء | فرات سے قرطبہ تک — ایک مفرور شہزادے کی حیران کن واپسی

750ء، دمشق کے قریب ایک گاؤں۔ نوجوان عبدالرحمٰن بن معاویہ جانتا تھا کہ اگر وہ پکڑا گیا، تو اس کا نام ہی اس کی موت کی وجہ بنے گا۔

چند ہفتے پہلے تک وہ اموی خاندان کا ایک شہزادہ تھا — دنیا کی سب سے وسیع خلافتوں میں سے ایک کا وارث۔ اب وہ ایک بھگوڑا تھا، اور اس کے تعاقب میں گھڑ سوار قاتل تھے۔

750ء — جب ایک پوری سلطنت کا خاتمہ ہوا

6 اگست 750ء کو، آخری اموی خلیفہ مروان ثانی مصر میں عباسی افواج کے ہاتھوں مارا گیا۔ اموی خلافت کا سیاسی خاتمہ ہو چکا تھا، اور اب خاندان کے باقی افراد بھی عباسی انتقام سے محفوظ نہیں تھے۔

عباسیوں نے ایک خوفناک چال چلی: انہوں نے اموی شہزادوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا، انہیں نہر ابی فطرس کے مقام پر ایک ضیافت پر بلایا — اور پھر دعوت کے دوران ہی انہیں قتل کر دیا۔ یہ واقعہ تاریخ میں “مذبحۂ بنو امیہ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

عبدالرحمن
مذبحۂ بنو امیہ

روایات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد مختلف بتائی جاتی ہے — طبری کی روایت میں 72 افراد کا ذکر ملتا ہے، جبکہ بعض بعد کی روایات اس سے زیادہ تعداد بتاتی ہیں۔ بہرحال، صدیوں تک حکومت کرنے والا ایک پورا خاندان، چند ہفتوں میں بڑی حد تک نیست و نابود ہو چکا تھا۔

اس قتلِ عام سے بچ نکلنے والوں میں ایک نوجوان بھی تھا — عبدالرحمٰن بن معاویہ، خلیفہ ہشام بن عبدالملک کا پوتا۔ اس کے ساتھ اس کا چھوٹا بھائی یحییٰ، اس کا چار سالہ بیٹا سلیمان، اس کی بہنیں، اور اس کا وفادار غلام (freedman) بدر تھا۔ یہ سب دمشق سے فرار ہو کر دریائے فرات کی طرف بھاگے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟
روایت کے مطابق، جب عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور نے اپنے درباریوں سے پوچھا “قریش کا شاہین کون ہے؟” تو کچھ نے خود اسے، اور کچھ نے معاویہ اور عبدالملک بن مروان جیسے عظیم اموی خلفاء کا نام لیا۔ روایت کے مطابق المنصور نے جواب دیا کہ اصل “شاہین” وہ شخص تھا جو اکیلا، بغیر کسی فوج، خزانے یا سلطنت کے، صرف اپنی ذہانت اور عزم سے ایک نئی مملکت کھڑی کر گیا — اشارہ عبدالرحمٰن کی طرف تھا۔ یہ روایت خود مؤرخین کے حوالوں میں محفوظ ہے، اور اسی وجہ سے عبدالرحمٰن کو تاریخ میں “صقر قریش” یعنی “قریش کا شاہین” بھی کہا جاتا ہے — یہ ایک مشہور تاریخی روایت ہے، حتمی مستند قول نہیں۔

دریائے فرات — جب ایک شہزادہ تیر کر بچا

عباسی قاتل عبدالرحمٰن اور اس کے ساتھیوں کے تعاقب میں تھے۔ جب وہ دریائے فرات کے کنارے پہنچے، تو تعاقب کرنے والے قریب آ چکے تھے۔ روایات کے مطابق — جن کی مختلف تفصیلات مختلف مآخذ میں ملتی ہیں، اس لیے انہیں قطعی واقعاتی حقیقت کے بجائے روایتی بیانیے کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے — عبدالرحمٰن، اس کا بھائی یحییٰ اور بدر دریا میں کود پڑے تاکہ تعاقب کرنے والوں سے بچ سکیں۔

عبدالرحمن اور دریائے فرات
دریائے فرات

روایات کے مطابق، عباسی سواروں نے کنارے سے چیخ کر یحییٰ کو امان کا جھانسہ دیا — واپس آنے کی صورت میں معافی کا وعدہ۔ یحییٰ واپس کنارے کی طرف تیرا۔ اسے وہیں قتل کر دیا گیا، اس کا سر کاٹ کر الگ کر دیا گیا، اور اس کی لاش کنارے پر پڑی رہ گئی۔ روایت میں یہ بھی ملتا ہے کہ عبدالرحمٰن دور کنارے سے چیخ چیخ کر اپنے بھائی کو پکارتا رہا — “اے بھائی! میری طرف آ جاؤ، میری طرف آ جاؤ!” — مگر جب اس نے یحییٰ کا انجام دیکھا تو خوف کے مارے دور تک بھاگتا چلا گیا، یہاں تک کہ تھکن سے چور ہو گیا۔

عبدالرحمٰن نے واپس مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ دریا کے دوسرے کنارے تک تیرتا رہا — اور زندہ بچ گیا۔ اب صرف وہ اور بدر باقی رہ گئے تھے، ایک نامعلوم اور خطرناک مستقبل کے سامنے۔

اہم وضاحت
اس منظر کی تفصیلات مختلف تاریخی مآخذ میں کچھ مختلف بیان کی جاتی ہیں — بعض روایات میں یہ کنارے پر پکڑے جانے اور دریا میں کودنے کا واقعہ ہے، بعض میں تفصیلات قدرے مختلف ہیں۔ بنیادی خاکہ — بھائی کی موت، عبدالرحمٰن کا فرار — تاریخی طور پر تسلیم شدہ ہے، مگر عین مکالمے یا لمحہ بہ لمحہ تفصیلات کو دراماتی تشکیل (dramatized reconstruction) سمجھنا چاہیے، عینی شاہد کا حتمی بیان نہیں۔

ایک شہزادہ جس کا اپنا وطن باقی نہیں رہا

عبدالرحمٰن اب اکیلا تھا۔ اس کا خاندان ختم ہو چکا تھا، اس کی سلطنت کسی اور کے ہاتھ میں تھی، اور اس کے پاس نہ کوئی فوج تھی، نہ خزانہ، نہ کوئی محفوظ ٹھکانہ۔ صرف ایک چیز اس کے پاس بچی تھی: اس کا نام، اور وہ نسب جو اسے اموی خاندان سے جوڑتا تھا۔

وہ تخت کا وارث تھا — مگر اس وقت اس کے پاس بیٹھنے کے لیے ایک کرسی بھی نہیں تھی۔

بدر کے ساتھ، عبدالرحمٰن نے فلسطین، سینا کے صحرا، اور مصر سے ہوتے ہوئے مغرب کا رخ کیا — تقریباً چار برس تک، بھیس بدل کر، ہر شہر میں اپنی اصل شناخت چھپاتے ہوئے۔ یہ کوئی آسان سفر نہیں تھا: عباسی حکومت کے جاسوس ہر بڑے شہر اور راستے پر موجود تھے، اور کسی بھی وقت پہچانے جانے کا مطلب فوری موت تھا۔ کئی مقامات پر عبدالرحمٰن کو راتوں رات جگہ بدلنی پڑی، کبھی عام مسافروں کے قافلوں میں شامل ہو کر، کبھی مقامی قبائل کی عارضی پناہ میں رہ کر۔ اس دوران اس نے اپنے چار سالہ بیٹے سلیمان کو اپنی بہنوں کے ساتھ محفوظ مقام پر چھوڑ دیا تھا، تاکہ سفر کی غیر یقینی صورتحال میں اسے خطرے میں نہ ڈالے — ایک ایسا فیصلہ جو خود اس بات کی گواہی ہے کہ عبدالرحمٰن کو معلوم تھا کہ یہ سفر کسی بھی وقت اس کی موت پر ختم ہو سکتا ہے۔

شمالی افریقہ — پناہ بھی خطرناک تھی

شمالی افریقہ پہنچ کر بھی عبدالرحمٰن محفوظ نہیں تھا۔ افریقیہ (موجودہ تیونس کے علاقے) کے حکمران عبدالرحمٰن بن حبیب الفہری نے ابتدا میں باقی ماندہ اموی خاندان کو پناہ دینے کی پیشکش کی — مگر جلد ہی اسے خدشہ ہونے لگا کہ یہ معزز مہمان، جن کا نسب اس کے اپنے نسب سے کہیں زیادہ شاندار تھا، اس کی اپنی اقتدار کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ 755ء کے آس پاس، سازش کا شبہ ہوتے ہی، اس نے باقی ماندہ اموی مہمانوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی۔ روایت کے مطابق، ابن حبیب کی اپنی بیوی تکفہ نے عبدالرحمٰن کو اپنے ذاتی سامان کے نیچے چھپا کر اپنے ہی شوہر کے سپاہیوں سے بچایا — ایک ایسا لمحہ جو دکھاتا ہے کہ اس دور میں پناہ اور خطرہ کتنی باریک لکیر سے الگ تھے۔

عبدالرحمٰن اور بدر نے پناہ لی — اپنی والدہ کے قبیلے، نفزہ بربر کے پاس، جو موجودہ مراکش کے علاقے میں آباد تھا۔ یہاں بھی وہ چھپ کر، شناخت خفیہ رکھتے ہوئے رہے، کیونکہ ہر دروازہ پناہ بھی ہو سکتا تھا اور جال بھی۔

عبدالرحمٰن

یہیں سے عبدالرحمٰن نے اندلس میں موجود اپنے حامیوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنے وفادار غلام بدر کو وہاں بھیجا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا اموی خاندان کے پرانے وفادار — خاص طور پر شامی جُند کے وہ دستے جو کبھی اموی خاندان کے موالی رہ چکے تھے — اس کی واپسی کی حمایت کریں گے۔ 755ء سے کچھ پہلے بدر کو الاندلس بھیجا گیا تاکہ ممکنہ حامیوں — عبید اللہ بن عثمان، عبداللہ بن خالد، اور یوسف بن بخت جیسے شامی کمانڈروں — کا جائزہ لیا جا سکے۔

اندلس سے ایک پیغام

بدر نے اپنا کام خوب نکالا۔ الاندلس اس وقت پہلے ہی سیاسی طور پر بٹا ہوا تھا — یوسف الفہری، جو زیادہ تر پرانے عرب آبادکاروں (بیشتر یمنی نسب کے) کی حمایت رکھتا تھا، اپنے ہی داماد اور وزیر، سمیل بن حاتم الکلابی، سے چپقلش میں تھا، جو شامی جُند اور قیسی قبائل کا سربراہ تھا۔ اسی اندرونی رنجش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، بدر نے کئی یمنی سرداروں کو عبدالرحمٰن کی حمایت پر آمادہ کر لیا، جو یوسف اور سمیل دونوں سے مایوس ہو چکے تھے۔ پیغام واپس افریقہ پہنچا: اندلس میں اموی خاندان کے وفادار موجود ہیں، اور کچھ ناراض دھڑے بھی مدد کے لیے تیار ہیں۔

اب عبدالرحمٰن کے سامنے ایک فیصلہ تھا۔ کیا وہ ایک ایسی سرزمین پر جا کر اقتدار کا دعویٰ کرے جہاں اسے ذاتی طور پر کوئی نہیں جانتا، جہاں پہلے ہی کئی حریف طاقتیں موجود ہیں؟ یا شمالی افریقہ میں چھپ کر باقی زندگی گمنامی میں گزار دے؟

روایت کے مطابق، جب عبدالرحمٰن نفزہ کے ساحل سے کشتی میں سوار ہونے لگا، تو مقامی بربر قبائل کے کچھ افراد کو اس کے ارادے کی خبر ہوئی اور وہ اسے یرغمال بنا کر رقم بٹورنے کی کوشش کرنے لگے۔ عبدالرحمٰن کو انہیں کچھ دینار ادا کرنے پڑے، اور ایک روایت کے مطابق، جب اس کی کشتی ساحل سے دور جانے لگی تو ایک شخص نے کشتی کو پکڑنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں اس کا ہاتھ کاٹا گیا — یہ ایک متنازع اور غیر مصدقہ روایت ہے۔

755ء — اندلس کی طرف سفر

اگست 755ء میں عبدالرحمٰن نے المُنیکَر (Almuñécar) کے ساحل پر قدم رکھا — مالقہ کے شمال میں واقع ایک چھوٹا سا ساحلی قصبہ۔ بعض تاریخی روایات میں اس تاریخ کو 14 اگست بتایا جاتا ہے۔

ایک ایسا شخص جو کچھ سال پہلے تک دمشق کے شاہی محل میں پروان چڑھا تھا، اب جزیرہ نما آئبیریا کے ساحل پر کھڑا تھا — محدود ساتھیوں کے ساتھ، غیر یقینی اتحادیوں کے سہارے، اور بغیر کسی یقینی کامیابی کی ضمانت کے۔

مگر اس کے پاس ایک واضح مقصد تھا: قرطبہ۔

یوسف الفہری — تخت پہلے ہی کسی اور کے پاس تھا

الاندلس اس وقت یوسف بن عبدالرحمٰن الفہری کے زیرِ اقتدار تھا — 747ء سے اس علاقے کا حاکم، جس نے 750ء میں دمشق میں خلافت کے خاتمے کے بعد عملی طور پر خودمختار حیثیت اختیار کر لی تھی۔ الاندلس اس وقت پہلے ہی 740 کی دہائی کی بربر بغاوت کے بعد کی کشیدگی کا شکار تھا، اور یوسف کا اپنے وزیر سمیل بن حاتم سے اختلاف پہلے ہی سیاسی صورتحال کو غیر مستحکم کر چکا تھا۔

عبدالرحمٰن کی آمد نے اس پیچیدہ صورتحال میں ایک نیا عنصر شامل کر دیا۔ ایک کے پاس حکومت تھی۔ دوسرے کے پاس صرف خاندان کا نام تھا۔ اور دونوں جانتے تھے: اندلس میں دو حریف اقتدار مراکز ایک ساتھ قائم نہیں رہ سکتے۔

756ء — جنگِ قرطبہ کی طرف

عبدالرحمٰن کے حق میں لوگ جمع ہونے لگے — اموی نام کی کشش، اور شاید الاندلس کی مسلسل اندرونی خانہ جنگی سے تھکاوٹ، دونوں کا اثر تھا۔ اس کی افواج نے مالقہ اور اشبیلیہ پر قبضہ کیا۔ مارچ 756ء میں وہ اشبیلیہ میں داخل ہوا، جو اس وقت الویرہ، سیدونیہ اور مالقہ کے صوبوں پر اثر رکھتا تھا۔

عبدالرحمٰن کی افواج — شامی، یمنی اور بربر جنگجوؤں پر مشتمل — وادی الکبیر (Guadalquivir) کے کنارے کنارے آگے بڑھیں، جبکہ یوسف اپنے دارالحکومت قرطبہ سے اشبیلیہ کی طرف روانہ ہوا۔ جب یوسف کو عبدالرحمٰن کی پیش قدمی کی خبر ملی، تو وہ واپس قرطبہ کی طرف مڑا۔ دونوں افواج، وادی الکبیر کے مخالف کناروں پر، ایک دوسرے کے متوازی آگے بڑھتی رہیں — دریا اس وقت اتنا بھرا ہوا تھا کہ کوئی بھی فوج اسے عبور نہیں کر سکتی تھی — یہاں تک کہ دونوں افواج قرطبہ کے قریب، المُصارہ (al-Musara) کے مقام پر آمنے سامنے آ گئیں۔

جنگِ المُصارہ — تخت کا فیصلہ

14 اور 15 مئی 756ء کو، قرطبہ کے باہر، دونوں افواج آخرکار بھڑ گئیں۔ عبدالرحمٰن کی افواج کی قیادت کئی تجربہ کار کمانڈر کر رہے تھے — حبیب بن عبدالملک المروانی شامی گھڑ سوار دستے کی، عبدالملک بن عمر المروانی مصر اور حمص کے دستوں کی، ابراہیم بن خشرہ بربر گھڑ سواروں کی، اور بہلول اللخمی یمنی گھڑ سواروں کی سربراہی کر رہے تھے۔

جنگ خونریز تھی۔ یوسف کے کئی حلیف قبائلی سردار مارے گئے۔ آخرکار یوسف الفہری اور اس کا ساتھی سمیل بن حاتم شکست کھا کر غرناطہ کی طرف پسپا ہوئے۔

عبدالرحمٰن الداخل

عبدالرحمٰن فاتح تھا۔ جنگ کے بعد اس نے قرطبہ پر قبضہ کر لیا اور 756ء میں خود کو امیر قرار دے کر امارتِ قرطبہ کی بنیاد رکھ دی۔

کیا آپ جانتے ہیں؟
عبدالرحمٰن نے کبھی خود کو “خلیفہ” نہیں کہلوایا — صرف “امیر”۔ اس کی وجہ محتاط سیاست تھی: الاندلس مختلف وفاداریوں میں بٹا ہوا علاقہ تھا، اور خلافت کا دعویٰ ممکنہ طور پر مزید بدامنی کو جنم دیتا۔ خلافت کا اعلان اس کی نسلوں بعد، 929ء میں، اس کے پڑپوتے عبدالرحمٰن ثالث نے کیا۔

لیکن فتح کے اگلے دن کیا ہوا؟

یہاں وہ کہانی ختم نہیں ہوتی جو اکثر سنائی جاتی ہے — “اور یوں عبدالرحمٰن نے اندلس فتح کر لیا۔”

حقیقت یہ تھی: جنگ جیتنا آسان تھا۔ حکومت کرنا مشکل۔

یوسف الفہری ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ اس نے قرطبہ پر دوبارہ قبضے کی کوشش کی — نوافریا وادی کے راستے حملہ کر کے مختصر طور پر شہر میں داخل بھی ہوا، مگر عبدالرحمٰن کے واپس آتے ہی دوبارہ فرار ہو گیا۔ ایک یمنی سردار ابو صباح یحییٰ الیحصبی نے تو عبدالرحمٰن کو قتل کرنے کی کوشش بھی کی، جو ناکام رہی۔

قرطبہ اس کے ہاتھ میں تھا۔ مگر اندلس نہیں۔

ایک شہر کے بعد دوسرا شہر — “اندلس ابھی میرا نہیں”

اگلے کئی برس مسلسل بغاوتوں، اتحادوں اور فوجی مہمات میں گزرے۔ طلیطلہ، زاراگوزا، اشبیلیہ — ہر جگہ نئی مزاحمت، نئی مذاکرات کی کوشش، کبھی دھوکہ، کبھی نیا اتحاد۔ یوسف الفہری نے طلیطلہ فرار ہو کر ایک نئی فوج جمع کرنے کی کوشش کی، مگر عبدالرحمٰن کی ساکھ اتنی بڑھ چکی تھی کہ اسے خود تعاقب کی ضرورت نہ رہی۔ بالآخر 759ء کے آس پاس یوسف الفہری کی مزاحمت ختم ہوئی اور وہ مارا گیا — اگرچہ اس کی آخری بغاوت، فرار اور موت کی عین تفصیلات مختلف مآخذ میں کچھ مختلف بیان کی جاتی ہیں۔

763ء — جب بغداد نے دوبارہ حملہ کیا

یوسف کا خاتمہ کافی نہیں تھا۔ ابھی ایک بڑا خطرہ باقی تھا — اور اس بار یہ اندلس کے اندر سے نہیں، بلکہ خود بغداد سے آ رہا تھا۔

عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے لیے یہ ناقابلِ برداشت تھا کہ ایک اموی شہزادہ، جسے وہ مردہ سمجھ چکا تھا، اب سمندر پار ایک آزاد امارت قائم کر چکا ہے۔ اس نے افریقہ کا نیا گورنر، العلاء بن مغیث، اسی مقصد کے لیے مقرر کیا: عبدالرحمٰن کو ختم کرنا، اور اندلس کو دوبارہ عباسی اقتدار میں لانا۔

763ء میں العلاء بن مغیث ایک عباسی فوج کے ساتھ موجودہ پرتگال کے علاقے میں، بیجا کے آس پاس، اترا۔ اس کی فوج تعداد میں کہیں زیادہ تھی — روایات کے مطابق تقریباً سات ہزار سپاہی۔ بیجا کے ارد گرد کے کئی علاقوں نے اس کی اطاعت قبول کر لی اور عباسی جھنڈے تلے جمع ہو گئے۔ عبدالرحمٰن کو فوری طور پر حرکت میں آنا پڑا — اس نے قرمونہ کے مضبوط قلعے کا رخ کیا، اور عباسی فوج بھی تیزی سے اس کے پیچھے پہنچ گئی۔ دو ماہ تک محاصرہ جاری رہا۔

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، قلعے کے اندر خوراک اور پانی کی قلت شدت اختیار کرتی گئی، اور فوج کا حوصلہ بھی متاثر ہونے لگا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ امارتِ قرطبہ، اپنے قیام کے صرف سات برس بعد ہی، ختم ہونے والی ہے۔

مگر عبدالرحمٰن کے پاس ایک آخری داؤ باقی تھا۔ روایت کے مطابق، جب محاصرہ طویل ہو گیا تو عبدالرحمٰن نے اپنے 700 منتخب ساتھیوں کے ساتھ قلعے کے مرکزی دروازے کا رخ کیا، ایک بڑی آگ روشن کی، اور اپنی تلوار کا غلاف اس میں پھینک دیا — اپنے ساتھیوں کو بھی ایسا ہی کرنے کا حکم دیا۔ یعنی اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں: یا فتح، یا موت۔

اس اچانک، بے خوف حملے نے عباسی فوج کو مکمل طور پر حیران کر دیا۔ العلاء بن مغیث سمیت کئی اعلیٰ عباسی کمانڈر مارے گئے، اور روایات کے مطابق تقریباً دو ہزار عباسی فوجی اس معرکے میں ہلاک ہوئے۔ فتح مکمل تھی۔

کیا آپ جانتے ہیں؟
عبدالرحمٰن نے مارے گئے عباسی کمانڈروں کے سر محفوظ کروا کر، عباسی خلیفہ کے اپنے سیاہ پرچم کے ساتھ، شمالی افریقہ کے شہر قیروان کے بازار میں رات کے وقت چھڑوا دیے — ایک ایسا پیغام جو بغداد تک پہنچنا ہی تھا۔ مشہور روایت کے مطابق، شکست کی خبر سن کر المنصور نے کہا: “ہم سب اللہ کے ہیں۔ ہم نے اس بدنصیب شخص کو اس کی موت کی طرف بھیجا تھا۔ اللہ کا شکر ہے جس نے سمندر کو مجھ اور اس شیطان کے درمیان حائل کر دیا۔” اس شکست کے بعد عباسی حکومت نے عبدالرحمٰن کے خلاف ایسی بڑی براہِ راست مہم دوبارہ نہیں بھیجی، اور سمندر کے پار قائم اموی امارت ایک مستقل سیاسی حقیقت بن گئی۔

قرمونہ کی جنگ نے وہ بات ثابت کر دی جو 756ء کی فتح ابھی ثابت نہیں کر سکی تھی: امارتِ قرطبہ اب صرف ایک عارضی بغاوت نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت تھی جسے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی طاقت بھی مٹا نہیں سکتی تھی۔

778ء — شارلمان اور زاراگوزا کا بحران

الاندلس صرف اندرونی مسئلہ نہیں رہا۔ 777ء میں کچھ ناراض علاقائی حکمرانوں نے، جو عبدالرحمٰن کی اطاعت قبول نہیں کرتے تھے، فرینکش بادشاہ شارلمان سے مدد مانگی۔

778ء میں شارلمان ایک بڑی فوج کے ساتھ پیرینیز عبور کر کے زاراگوزا پہنچا، مگر شہر کے حاکم نے دروازے کھولنے سے انکار کر دیا۔ ایک مہینے کے محاصرے کے باوجود شہر نہ گرا، اور شمال میں سیکسن بغاوت کی خبریں ملنے پر شارلمان کو واپس لوٹنا پڑا۔

واپسی کے سفر میں، پیرینیز کے تنگ درے رونسیوو کے مقام پر، شارلمان کی فوج کے پچھلے دستے پر اچانک حملہ ہوا۔ اس حملے میں شارلمان کا ایک قابلِ اعتماد کمانڈر، رولان، مارا گیا۔

ضروری وضاحت — تاریخ بمقابلہ افسانہ
بعد کی صدیوں میں “رولان کا نغمہ” (Song of Roland) نے اس واقعے کو مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ایک عظیم معرکے کے طور پر پیش کیا۔ لیکن تاریخی روایات کے مطابق رونسیوو کا حملہ دراصل مقامی باسک قبائل نے کیا تھا، نہ کہ الاندلس کی مسلم افواج نے۔ افسانوی روایت اور تاریخی واقعہ دو مختلف چیزیں ہیں۔

قرطبہ — عبدالرحمٰن صرف جنگجو نہیں تھا

جس شخص نے اپنی جوانی بھاگتے ہوئے گزاری تھی، اب وہ ایک شہر تعمیر کر رہا تھا۔

عبدالرحمٰن کے دور میں قرطبہ کا انتظامی اور شہری ڈھانچہ مضبوط کیا گیا، اور شہر کو نئی اموی حکومت کے سیاسی مرکز کے طور پر ترقی دی گئی۔ برسوں کی جنگوں اور بھاگ دوڑ کے بعد، عبدالرحمٰن نے اپنی توانائی اب ایک مستقل نظام کھڑا کرنے پر مرکوز کی — انتظامی دفاتر قائم کیے، اپنے قابلِ اعتماد ساتھیوں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا، اور ایک ایسا ڈھانچہ تیار کیا جس میں اقتدار اس کے بعد بھی اس کے خاندان کے اندر منتقل ہو سکے۔ 785-786ء میں عبدالرحمٰن الداخل نے قرطبہ کی جامع مسجد کی تعمیر شروع کروائی — ایک واضح پیغام کہ دمشق کا اموی ورثہ اب قرطبہ میں دوبارہ زندہ ہو چکا ہے۔ روایت کے مطابق یہ مسجد اسی جگہ تعمیر کی گئی جہاں پہلے ایک مشترکہ عبادت گاہ موجود تھی، جسے عبدالرحمٰن نے مقامی عیسائی آبادی سے معاوضہ ادا کر کے حاصل کیا۔ اس مسجد کی مکمل کہانی اور بعد کی توسیعات ہم اگلی قسط میں تفصیل سے بیان کریں گے۔

788ء — آخری منظر

تقریباً بتیس برس کی حکومت کے بعد — جن میں مسلسل بغاوتیں، جنگیں اور ریاستی تعمیر کا کٹھن عمل شامل تھا — عبدالرحمٰن الداخل 30 ستمبر 788ء کو انتقال کر گیا۔

اسے کسی پرامن دور کے خاتمے کے طور پر یاد نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کا پورا دورِ حکومت جدوجہد سے بھرا رہا — دمشق سے فرار، دریائے فرات کا سانحہ، شمالی افریقہ کی روپوشی، قرطبہ کی فتح، یوسف الفہری کی مسلسل مزاحمت، بغداد کا حملہ، اور شمال میں فرینکش دباؤ۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ اس نے ایک ایسا اموی سیاسی نظام قائم کر دیا تھا جو اس کے بعد بھی قائم رہ سکا۔

وہ شہزادہ تھا، پھر مفرور بنا، پھر اجنبی، پھر جنگجو، اور آخرکار — ایک ایسا اموی سیاسی نظام قائم کر گیا جو بعد میں خلافتِ قرطبہ میں تبدیل ہوا اور 1031ء تک اندلس کی سیاست پر گہرا اثر ڈالتا رہا۔

عبدالرحمٰن الداخل نے ایک ایسی امارت کی بنیاد رکھ دی تھی جو آنے والی نسلوں میں خلافت بننے والی تھی۔ مگر اس خلافت تک پہنچنے سے پہلے اندلس کو ایک اور دور سے گزرنا تھا — بغاوتوں، وائکنگز کے حملوں، اندرونی جنگوں، اور ایک ایسے خلیفہ تک جو کتابوں سے محبت کرتا تھا۔

قسط 3: قرطبہ کا سنہری دور — خلافت، مدینۃ الزہراء اور اقتدار کا سایہ (929–1031ء)

(اگلی قسط میں)

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

1. عبدالرحمٰن الداخل کون تھا؟
عبدالرحمٰن بن معاویہ ایک اموی شہزادہ تھا، اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کا پوتا، جو 750ء کے عباسی انقلاب کے دوران اپنے خاندان کے قتلِ عام سے بچ نکلا اور بعد میں الاندلس میں امارتِ قرطبہ کی بنیاد رکھی۔

2. عبدالرحمٰن نے کتنا عرصہ فرار میں گزارا؟
750ء میں دمشق سے فرار کے بعد، اس نے تقریباً پانچ برس فلسطین، مصر اور شمالی افریقہ میں چھپ کر گزارے، یہاں تک کہ اگست 755ء میں وہ الاندلس پہنچا۔

3. یوسف الفہری کون تھا؟
یوسف بن عبدالرحمٰن الفہری 747ء سے الاندلس کا حاکم تھا، جس نے 750ء میں دمشق میں خلافت کے خاتمے کے بعد عملی طور پر خودمختار حیثیت اختیار کر لی۔ 756ء میں جنگِ المُصارہ میں عبدالرحمٰن کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد وہ کئی برس مزاحمت کرتا رہا، یہاں تک کہ 759ء میں مارا گیا۔

4. جنگِ المُصارہ کب اور کہاں ہوئی؟
یہ جنگ 14-15 مئی 756ء کو قرطبہ کے باہر لڑی گئی، جس میں عبدالرحمٰن نے یوسف الفہری کو شکست دی اور قرطبہ پر قبضہ کر کے امیر قرار دیا گیا۔

5. کیا عبدالرحمٰن نے خود کو خلیفہ کہلوایا؟
نہیں۔ اس نے محتاط سیاسی وجوہات کی بنا پر صرف “امیر” کا لقب اختیار کیا۔ خلافت کا باقاعدہ اعلان اس کے پڑپوتے عبدالرحمٰن ثالث نے 929ء میں کیا۔

6. کیا بغداد نے عبدالرحمٰن کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی؟
جی ہاں۔ 763ء میں عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور نے العلاء بن مغیث کی قیادت میں ایک فوج بھیجی جس نے عبدالرحمٰن کو قرمونہ کے قلعے میں محصور کر دیا۔ عبدالرحمٰن نے صرف 700 ساتھیوں کے ساتھ ایک بے خوف حملہ کر کے عباسی فوج کو شکست دی۔ اس شکست کے بعد عباسی حکومت نے دوبارہ ایسی بڑی براہِ راست مہم نہیں بھیجی۔

7. جنگِ رونسیوو میں مسلم افواج کا کیا کردار تھا؟
عام تاثر کے برعکس، 778ء میں رونسیوو کا حملہ الاندلس کی مسلم افواج نے نہیں بلکہ مقامی باسک قبائل نے کیا تھا۔ اسے بعد میں “رولان کے نغمے” میں ایک بڑے معرکے کے طور پر پیش کیا گیا، جو ایک ادبی روایت ہے، تاریخی حقیقت نہیں۔

حوالہ جات

World History Encyclopedia — Abd al-Rahman I
Wikipedia — Massacre of Bani Umayya; Abd al-Rahman I; Battle of Alameda (756 CE); Yusuf ibn Abd al-Rahman al-Fihri; Siege of Carmona (763); Battle of Roncevaux Pass; Hawk of Quraish
Encyclopedia.com — Abd ar-Rahman I
Arab America — Abd Al-Rahman I: The Architect of Moorish Spain

نوٹ: عبدالرحمٰن کے فرات کے کنارے فرار، شمالی افریقہ میں کشتی کے واقعے، اور المنصور کے قول جیسی تفصیلات مختلف تاریخی مآخذ میں کچھ مختلف صورتوں میں بیان کی جاتی ہیں۔ ایسی جگہوں پر مضمون میں محتاط الفاظ (“روایت کے مطابق”، “کہا جاتا ہے”) استعمال کیے گئے ہیں، اور انہیں دراماتی تشکیل (dramatized reconstruction) سمجھا جانا چاہیے، لفظ بہ لفظ تاریخی نقل نہیں۔

Oh hi there
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.