تاریخ نامہ
ہر واقعہ، ہر کہانی

صلیبی جنگیں: قسطنطنیہ کی تباہی سے آخری(9)شکست تک (قسط دوم)

Spread the love

پچھلی قسط میں ہم نے پہلی تین صلیبی جنگوں کا جائزہ لیا — ایک شاندار فتح، ایک شرمناک شکست، اور دو حریفوں کے درمیان ایک تاریخی معرکہ۔ لیکن جو کچھ اس کے بعد ہوا وہ اور بھی حیران کن ہے: ایک صلیبی جنگ جو بیت المقدس کے بجائے ایک عیسائی شہر کو تباہ کر گئی، بادشاہوں کی موت پر ختم ہونے والی مہمات، اور آخر میں وہ حتمی نتیجہ جس نے صدیوں کے لیے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

صلیبی جنگیں
: “چوتھی صلیبی جنگ سے آخری صلیبی جنگ تک کے چار اہم مناظر — قسطنطنیہ کی لوٹ مار، صلح، لوئی نہم کی گرفتاری، اور بچوں کی صلیبی جنگ”

چوتھی صلیبی جنگ (1202-1204ء) — جب صلیبیوں نے اپنے ہی ہم مذہب شہر کو لوٹ لیا

یہ صلیبی جنگوں کی تاریخ کا سب سے عجیب اور شرمناک باب ہے۔ مقصد تھا مصر کے راستے بیت المقدس پر حملہ، لیکن وینس کے تاجروں کے قرضے اور سیاسی سازشوں نے پورا رخ ہی بدل دیا۔ وینس کے بوڑھے مگر چالاک ڈیوک اینریکو ڈانڈولو نے صلیبی لشکر کو، جو کشتیوں کے کرائے کی ادائیگی میں ناکام رہا تھا، اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور انہیں بازنطینی دارالحکومت قسطنطنیہ کی طرف موڑ دیا۔

اپریل 1204ء میں صلیبی لشکر نے قسطنطنیہ — دنیا کے سب سے شاندار عیسائی شہر — پر حملہ کر کے اسے تین دن تک بےدریغ لوٹا۔ گرجا گھر لوٹے گئے، ہاجیہ صوفیہ کی سونے کی صلیبیں تک اکھاڑ لی گئیں، راہباؤں کی بےحرمتی ہوئی، اور صدیوں پرانے قیمتی مخطوطات اور فن پارے یا تو جلا دیے گئے یا یورپ اٹھا لے جائے گئے۔ مؤرخ جے جے نورویچ کے مطابق یہ نقصان اسکندریہ کی لائبریری کی تباہی سے بھی بڑا نقصان تھا۔ تخمینوں کے مطابق تقریباً 2,000 بازنطینی شہری اس دوران قتل ہوئے۔

“1204ء میں صلیبیوں کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی لوٹ مار اور تباہی کا منظر”
خود پوپ کی زبانی مذمت: جب پوپ انوسنٹ سوم کو اس واقعے کی خبر ملی تو اس نے اپنے ہی صلیبیوں کو سخت الفاظ میں لکھا:
“تم نے اپنے ہتھیار سارسنوں کے بجائے مسیحیوں کے خلاف اٹھائے، بیت المقدس کی بازیابی کے بجائے قسطنطنیہ کو لوٹنے کو ترجیح دی۔”
اس نے مزید کہا کہ ان “صلیبی سپاہیوں” نے اپنے ہی مسیحی بھائیوں کا خون بہایا۔ یہی وجہ ہے کہ یونانی انہیں نفرت سے “کتے” پکارتے تھے۔
ولن: ڈیوک اینریکو ڈانڈولو — جس کی سیاسی چال نے پوری مہم کا رخ بدل دیا۔
ہیرو: اس جنگ میں کوئی حقیقی ہیرو نہیں تھا — یہاں تک کہ خود پوپ انوسنٹ سوم نے بھی اپنے ہی صلیبیوں کے اس فعل کی شدید مذمت کی۔
نقصان: تقریباً 2,000 عام شہری ہلاک، صدیوں پرانا فن اور علم تباہ۔
فائدہ (کسی کے لیے بھی نہیں): بیت المقدس کبھی اس مہم کا حصہ ہی نہ بنا — یہ واحد صلیبی جنگ تھی جو کبھی مقدس سرزمین پہنچی ہی نہیں۔
نقصان (طویل المدتی): مشرقی آرتھوڈوکس اور مغربی کیتھولک عیسائیت کے درمیان دراڑ ہمیشہ کے لیے گہری ہو گئی، اور بازنطینی سلطنت اتنی کمزور ہو گئی کہ کبھی اپنی پرانی طاقت واپس حاصل نہ کر سکی — جس کا فائدہ بعد میں عثمانی سلطنت کو 1453ء میں ملا۔

پانچویں صلیبی جنگ (1217-1221ء) — مصر کا جوا جو دریائے نیل میں ڈوب گیا

اس بار صلیبیوں نے چال بدلی۔ اب انہوں نے سیدھا بیت المقدس پر حملہ کرنے کے بجائے مصر پر قبضے کا فیصلہ کیا تاکہ اسے سودے بازی کے لیے استعمال کر سکیں۔ صلیبی افواج نے مصری بندرگاہی شہر دمیاط کا طویل محاصرہ کیا اور بالآخر 1219ء میں اسے فتح کر لیا۔ لیکن جب لشکر قاہرہ کی طرف بڑھا، تو ایوبی حکمرانوں نے دریائے نیل کے بند کھول کر پورے علاقے کو زیرِ آب کر دیا۔ صلیبی فوج کیچڑ میں پھنس گئی، رسد کٹ گئی، اور بالآخر انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہونا پڑا — دمیاط بھی واپس کرنا پڑا۔

صلیبی جنگیں :مصر نے تلوار نہیں، دریا سے جنگ جیت لی
پانچویں صلیبی جنگ میں دریائے نیل کے سیلاب میں پھنسی یورپی فوج”
ہیرو (مسلم نقطہ نظر سے): سلطان الکامل — جس کی حکمتِ عملی (نیل میں سیلاب) نے بغیر بڑی جنگ کے پوری مہم ناکام بنا دی۔
نقصان: ہزاروں صلیبی فوجی بھوک، بیماری اور سیلاب کے باعث ہلاک۔
نتیجہ: مکمل ناکامی، کوئی علاقائی فائدہ نہیں۔

چھٹی صلیبی جنگ (1228-1229ء) — تلوار کے بغیر جیتی گئی جنگ

یہ صلیبی جنگوں کی تاریخ کی سب سے انوکھی مہم ہے۔ جرمن شہنشاہ فریڈرک دوم، جسے خود پوپ نے تاخیر پر خارج از کلیسا قرار دے رکھا تھا، بیت المقدس پہنچا — مگر تلوار کے بجائے سفارت کاری کے ساتھ۔ اس نے عربی زبان میں براہِ راست ایوبی سلطان الکامل سے مذاکرات کیے، اور 1229ء میں معاہدہ جافا کے تحت بیت المقدس، بیت اللحم اور ناصرہ پرامن طریقے سے عیسائی کنٹرول میں واپس آ گئے — بغیر کسی بڑی جنگ کے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟ فریڈرک دوم کو یورپ میں بہت سے لوگوں نے اس “بغیر جنگ کے معاہدے” پر تنقید کا نشانہ بنایا — کیونکہ اس دور میں مذہبی جوش کا تقاضا تھا کہ بیت المقدس تلوار سے ہی واپس لیا جائے۔ مگر یہ معاہدہ صرف دس سال قائم رہ سکا؛ 1244ء میں بیت المقدس دوبارہ مسلم کنٹرول میں چلا گیا۔

ساتویں اور آٹھویں صلیبی جنگیں (1248-1254ء، 1270ء) — ایک بادشاہ کا اصرار، دو ناکامیاں

فرانس کے بادشاہ لوئی نہم نے مصر پر دو بار حملہ کیا — اور دونوں بار ذلت آمیز شکست کھائی۔ ساتویں صلیبی جنگ میں بس دمیاط ہی اس کے ہاتھ لگا، لیکن المنصورہ کی جنگ میں ممالیک افواج کے ہاتھوں شکست کھائی اور خود قید ہو گیا۔ اسے بھاری فدیہ دے کر رہائی ملی۔ سولہ سال بعد، 1270ء میں، اس نے دوبارہ تیونس پر ایک اور مہم شروع کی، مگر پہنچتے ہی طاعون کی بیماری سے وہیں انتقال کر گیا — مہم شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی۔

ولن (مسلم فتح کے ہیرو): ممالیک سلطنت کی فوجیں — جنہوں نے المنصورہ میں فرانسیسی بادشاہ کو ہی قید کر لیا۔
نقصان: ہزاروں فرانسیسی فوجی ہلاک یا قید، لوئی نہم خود بیماری سے وفات پا گیا۔
نتیجہ: دونوں مہمات مکمل ناکام — یورپ میں صلیبی جنگوں کے لیے جوش ہمیشہ کے لیے ماند پڑ گیا۔

نویں صلیبی جنگ (1271-1272ء) — آخری، معمولی سی کوشش

انگلستان کے شہزادے ایڈورڈ (بعد میں ایڈورڈ اول) نے ایک چھوٹی سی فوج کے ساتھ عکہ کا رخ کیا، مگر نہ کوئی بڑی فتح ملی نہ شکست — بس ایک عارضی جنگ بندی پر مہم ختم ہو گئی۔ یہ آخری بڑی صلیبی مہم تھی۔ اس کے بعد 1291ء میں عکہ کا سقوط ہوا اور آخری صلیبی ریاست کا بھی خاتمہ ہو گیا۔

بونس: بچوں کی صلیبی جنگ (1212ء) — معصومیت کی سب سے بڑی قربانی

1212ء میں فرانس کے ایک بارہ سالہ چرواہے لڑکے اسٹیفن آف کلوئیس، اور جرمنی میں نکولس آف کولون نامی نوجوان نے دعویٰ کیا کہ انہیں خواب میں حکم ملا ہے کہ وہ بیت المقدس کو، ہتھیاروں کے بغیر، محض اپنی معصومیت اور ایمان کی طاقت سے آزاد کروائیں۔ ہزاروں نوجوان اور غریب لوگ ان کے پیچھے چل پڑے۔ جب یہ ہجوم فرانس کے ساحلی شہر مارسیلز پہنچا اور سمندر معجزانہ طور پر نہیں پھٹا، تو دو “تاجروں” نے مفت کشتیوں کی پیشکش کی۔

روایتی داستان کے مطابق ان کشتیوں میں سے کچھ طوفان میں ڈوب گئیں، اور باقی بچوں کو شمالی افریقہ لے جا کر غلام بنا کر بیچ دیا گیا۔ جدید مؤرخین (جیسے پیٹر ریڈٹس) اس واقعے کے پیمانے پر تحقیقی سوالات اٹھاتے ہیں — ان کے مطابق شریک افراد محض بچے نہیں بلکہ زیادہ تر نوجوان اور بےگھر غریب لوگ تھے، اور غلامی کا پورا واقعہ بعد کی داستانوں میں مبالغہ آمیز طور پر بڑھایا گیا ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، یہ واقعہ اس بات کی سب سے دردناک مثال ہے کہ مذہبی جذبہ کس طرح انتہائی کمزور اور معصوم لوگوں کو بھی نگل سکتا ہے۔

سب کا حساب: مجموعی فائدے اور نقصانات

مسلم دنیا کے لیے:
نقصان: صدیوں تک شام و فلسطین کے کئی علاقے تباہ، لاکھوں افراد کی جانی قربانی، معاشی تباہی۔
فائدہ: صلیبی خطرے نے مسلم دنیا کو نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی جیسی قیادت میں متحد ہونے پر مجبور کیا، جس نے بعد میں منگول حملوں کا مقابلہ کرنے کی بنیاد بھی فراہم کی۔
یورپ کے لیے:
نقصان: لاکھوں فوجیوں اور عام لوگوں کی جانیں ضائع، بادشاہتوں کے خزانے خالی، پوپ کی اخلاقی ساکھ کو نقصان (خصوصاً چوتھی جنگ کے بعد)۔
فائدہ: مشرق سے تجارتی راستے کھلے، مسالحہ جات، ریشم اور نئے علوم (خصوصاً یونانی و عربی سائنس اور فلسفے کے تراجم) یورپ پہنچے، جسے کئی مؤرخین بعد میں آنے والی نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کی ایک بنیاد بھی سمجھتے ہیں۔ اطالوی تجارتی شہروں (وینس، جنوا) کو بھاری معاشی فائدہ ہوا۔

حتمی ہیرو اور ولن

سب سے بڑا ہیرو: صلاح الدین ایوبی — نہ صرف اپنی فوجی مہارت کی وجہ سے، بلکہ اس رحمدلی کی وجہ سے بھی جو اس نے 1187ء میں بیت المقدس فتح کرنے کے بعد دکھائی — کوئی قتل عام نہیں، عیسائیوں کو پرامن طریقے سے جانے کی اجازت دی گئی، جو 1099ء کے قتل عام کے بالکل برعکس تھا۔

سب سے بڑا ولن: کوئی ایک شخص نہیں — بلکہ وہ اجتماعی لالچ اور مذہبی جنون جس نے رچرڈ شیر دل جیسے بہادر جنگجو کو عکہ میں قتل عام پر مجبور کیا، اور صلیبیوں کو اپنے ہی ہم مذہب شہر قسطنطنیہ کی تباہی تک پہنچا دیا۔

صلیبی جنگیں محض تلواروں کی جنگ نہیں تھیں — یہ ایمان، لالچ، سیاست اور انسانی کمزوریوں کا ایک ایسا امتزاج تھیں جس نے دو صدیوں تک دنیا کا نقشہ بدلا۔ ان کی سب سے بڑی میراث یہی ہے: جب کوئی قوم اپنے اصل مقاصد بھول کر لالچ اور اقتدار کی جنگ میں الجھ جائے، تو نعرہ چاہے کتنا ہی مقدس کیوں نہ ہو، نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کل کتنی صلیبی جنگیں ہوئیں؟
جواب: مؤرخین عام طور پر 9 بڑی صلیبی جنگیں شمار کرتے ہیں (1096ء تا 1291ء)، جن کے علاوہ عوامی صلیبی جنگ اور بچوں کی صلیبی جنگ جیسے غیر رسمی مگر المناک واقعات بھی اسی سلسلے کا حصہ ہیں۔

سوال: صلیبی جنگیں کیوں شروع ہوئیں؟
جواب: مذہبی جوش، پوپ کی سیاسی مجبوریاں، یورپی جاگیرداری نظام کا معاشی دباؤ، بازنطینی سلطنت کی مدد کی درخواست، اور نئی زمین کا خواب — یہ سب مل کر صلیبی جنگوں کا سبب بنے۔

سوال: پہلی صلیبی جنگ میں بیت المقدس میں کتنے لوگ مارے گئے؟
جواب: جدید مؤرخین کا تخمینہ 3,000 سے 10,000 کے درمیان ہے، جبکہ ابن الاثیر جیسے قدیم مؤرخ نے 70,000 تک کا ذکر کیا، جسے زیادہ تر جدید محققین شہر کی اس وقت کی آبادی کے لحاظ سے مبالغہ آمیز سمجھتے ہیں۔

سوال: دوسری صلیبی جنگ ناکام کیوں ہوئی؟
جواب: صلیبی رہنماؤں نے اصل ہدف الرہا کے بجائے دمشق پر حملہ کیا — ایک ایسا شہر جو دراصل صلیبیوں کا دوست تھا۔ یہ غلطی نور الدین زنگی کی قیادت میں مسلم اتحاد کی بنیاد بن گئی۔

سوال: رچرڈ شیر دل اور صلاح الدین ایوبی کے درمیان کیا معاہدہ ہوا؟
جواب: ستمبر 1192ء کے معاہدہ جافا کے تحت بیت المقدس مسلم کنٹرول میں رہا، مگر عیسائی زائرین کو شہر آنے کی اجازت مل گئی اور ساحلی علاقہ صلیبیوں کے پاس رہا۔

حوالہ جات:
ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ
Steven Runciman, A History of the Crusades
Encyclopedia Britannica
Peter Raedts, “The Children’s Crusade of 1212”, Journal of Medieval History, 1977

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.