تاریخ نامہ
ہر واقعہ، ہر کہانی

تابوت سکینہ کا راز: 3000 سال پرانا گمشدہ صندوق کہاں ہے؟

Spread the love

 

تابوتِ سکینہ: وہ صندوق جسے فرشتے اٹھاتے تھے

بنی اسرائیل کی تاریخ کا سب سے پراسرار اور مقدس شے `تابوتِ سکینہ` تھا۔ یہ کوئی عام صندوق نہیں تھا۔ قرآن کے مطابق اس کے اندر `آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون` کے چھوڑے ہوئے آثار تھے، اور سب سے بڑی بات: `اسے فرشتے اٹھا کر لاتے تھے`۔

قرآنی دلیل: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَن يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَىٰ وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ» [البقرہ: 248] ترجمہ: اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آئے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے سکون ہے اور کچھ بقیہ چیزیں ہیں جو آل موسیٰ اور آل ہارون نے چھوڑی تھیں۔ اسے فرشتے اٹھا کر لائیں گے۔

مگر سوال یہ ہے: وہ 3000 سال پرانا مقدس صندوق آج کہاں ہے؟ کیا وہ واقعی ایتھوپیا کے ایک گرجے میں بند ہے؟ یا تیمبکتو کی ریت میں دفن ہے؟ یا مسجد اقصیٰ کے نیچے؟ آج ہم ہر تھیوری کو Quran, Tafseer, History aur Science ki roshni mein check karen ge۔ اس آرٹیکل کا مقصد صرف “کہانی” سنانا نہیں، بلکہ عقیدے کی صفائی کرنا ہے۔ کیونکہ بہت سے لوگ اسے جادو کا ڈبہ سمجھ بیٹھے ہیں۔


تابوت سکینہ تھا کیا؟ اور اس میں کیا تھا؟

تابوتِ سکینہ لکڑی کا ایک صندوق تھا جس پر سونے کی چادر چڑھی ہوئی تھی۔ اس کے اوپر دو فرشتوں کے بازو والے مجسمے تھے جنہیں `کروبین` کہا جاتا ہے۔ یہ خود حضرت موسیٰؑ کے ہاتھوں نہیں بنا تھا، بلکہ اللہ کے حکم سے بنا۔ تورات میں اسے “Ark of the Covenant” کہا گیا ہے۔

تابوت سکینہ کی تصویر - سنہرے کروبین فرشتوں کے ساتھ مقدس صندوق
تابوتِ سکینہ: وہ مقدس صندوق جس کے اوپر دو کروبین فرشتے تھے۔ روایت کے مطابق فرشتے ہی اسے اٹھاتے تھے۔

1. سکینہ کا مطلب کیا ہے؟ `سکینہ` کا مطلب ہے دل کا سکون، اللہ کی رحمت، اطمینان۔ جب جنگ کے وقت یہ تابوت لشکر کے آگے رکھا جاتا، تو بنی اسرائیل کے دل مضبوط ہو جاتے اور دشمن پر رعب طاری ہو جاتا۔ یہ اس صندوق کی “طاقت” نہیں تھی، بلکہ اللہ کی مدد تھی جو اس کی برکت سے آتی تھی۔

2. اندر کیا تھا؟ 3 مقدس چیزیں: مفسرین کے مطابق اس میں 3 چیزیں تھیں: 1. تورات کے ٹکڑے جو پتھر کی تختیوں پر تھے جو حضرت موسیٰؑ پر نازل ہوئیں۔ 2. حضرت موسیٰؑ کا وہ عصا جس سے انہوں نے دریا کو مارا تھا۔ 3. حضرت ہارونؑ کا عمامہ اور من و سلویٰ کا کچھ حصہ۔ [تفسیر ابن کثیر، سورہ البقرہ 248]

586 ق م

وہ سال جب بابل کے بادشاہ نبوکدنضر نے یروشلم کو تباہ کیا اور ہیکل سلیمانی کو جلا دیا۔ اسی وقت تابوت ہمیشہ کے لیے گم ہو گیا۔

جب تک بنی اسرائیل اللہ کے حکم پر تھے، تابوت ان کے ساتھ تھا۔ جب وہ شرک، نافرمانی اور گناہ میں پڑے، تو اللہ نے ان سے یہ نعمت چھین لی۔ کیونکہ اللہ کسی قوم کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود نہ بدلیں۔


تابوتِ سکینہ فرشتے ہی کیوں اٹھاتے تھے؟

قرآن نے ایک بہت بڑی بات کہی: `تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ` “اسے فرشتے اٹھا کر لائیں گے”۔ عام انسان اسے نہیں اٹھا سکتا تھا۔

وجہ 1: تقدیس یہ عام فرنیچر نہیں تھا۔ یہ اللہ کی نشانی تھی۔ اس لیے اس کا احترام فرشتوں کے ذمے تھا۔ جس طرح خانہ کعبہ کی چابیاں بنو شیبہ کے پاس ہیں، اسی طرح تابوت کی حرمت فرشتوں کے پاس تھی۔

وجہ 2: آزمائش جب طالوت کو بادشاہ بنایا گیا تو بنی اسرائیل نے کہا: “اس کے پاس بادشاہت کی نشانی کیا ہے؟” اللہ نے کہا کہ فرشتے خود تابوت لے کر آئیں گے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ اس سے ثابت ہوا کہ طالوت اللہ کا چنا ہوا ہے۔ [البقرہ: 247-248]

وجہ 3: طاقت سے پاک اگر عام لوگ اسے اٹھاتے تو وہ اسے “طاقت کا ذریعہ” سمجھ لیتے۔ فرشتوں کے ذریعے اللہ نے بتا دیا کہ طاقت صندوق میں نہیں، اللہ کے حکم میں ہے۔

فرشتے تابوت سکینہ اٹھاتے ہوئے - Ark of the Covenant
قرآن کی رو سے فرشتے ہی تابوتِ سکینہ کو اٹھاتے تھے۔ یہ بنی اسرائیل کے لیے سکون اور برکت کی نشانی تھا۔ [البقرہ: 248]

آخر گم کیسے ہوا؟ 3 تاریخی روایات

تاریخ میں تابوت کے غائب ہونے کی 3 بڑی روایات ملتی ہیں۔ کوئی بھی 100% ثابت شدہ نہیں، کیونکہ خود بائبل بھی 2 سلاطین 25 کے بعد اس کے بارے میں خاموش ہو جاتی ہے۔

1. بابل میں چھپا دیا گیا

جب نبوکدنضر نے 586 ق م میں بیت المقدس جلایا، تو بنی اسرائیل کے علماء نے تابوت کو پہلے ہی خفیہ سرنگوں میں چھپا دیا تاکہ وہ کافروں کے ہاتھ نہ لگے۔ یہ سب سے مضبوط یہودی روایت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی ہیکل کی بنیادوں کے نیچے ہے۔

2. ملکہ سبا لے گئی

ایک ایتھوپیائی روایت کے مطابق حضرت سلیمانؑ کے بیٹے حضرت منیلیک اول نے تابوت سکینہ چرا کر اپنی ماں ملکہ سبا کے ملک ایتھوپیا منتقل کر دیا۔ آج بھی ایتھوپیا کے عیسائی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اکسوم کے ایک چرچ میں ہے۔

3. آسمان پر اٹھا لیا گیا

بعض اسلامی روایات کہتی ہیں کہ جب بنی اسرائیل نافرمان ہو گئے تو اللہ نے فرشتوں کے ذریعے تابوت کو اٹھوا لیا اور کسی غار یا سمندر میں چھپوا دیا۔ یہ قیامت سے پہلے ہی ظاہر ہو گا۔ یہ روایت ضعیف ہے لیکن بہت مشہور ہے۔


شیعہ و سنی روایات میں فرق کیا ہے؟

اسلام میں تابوت سکینہ کے بارے میں کوئی قطعی حدیث نہیں۔ جو کچھ ہے وہ تفسیر اور تاریخ کی کتابوں میں ہے۔

سنی موقف: جمہور سنی علماء جیسے ابن کثیر، قرطبی کا کہنا ہے کہ تابوت گم ہو چکا ہے۔ اس کا اب کہاں ہونا ہمیں نہیں معلوم۔ اس کے پیچھے بھاگنا وقت ضائع کرنا ہے۔ ہمارا کام قرآن پر عمل کرنا ہے، صندوق ڈھونڈنا نہیں۔

شیعہ روایات: بعض شیعہ روایات میں ہے کہ تابوتِ سکینہ امام مہدیؑ کے ساتھ ظاہر ہو گا۔ اس میں حضرت موسیٰؑ کی تورات اور حضرت ہارونؑ کا عصا ہو گا۔ یہ ان کے لیے ایک بڑی نشانی ہو گی۔ تاہم ان روایات کی سند پر بھی علماء کا اختلاف ہے۔

متفقہ بات: دونوں مکاتب فکر اس پر متفق ہیں کہ تابوت میں کوئی “جادو” نہیں تھا۔ وہ صرف اللہ کی طرف سے ایک برکت اور نشانی تھی۔ اسے مقدس سمجھنا جائز ہے، اس کی پوجا کرنا شرک ہے۔


آج دنیاتابوتِ سکینہ کہاں ڈھونڈ رہی ہے؟ 4 بڑی جگہیں

20ویں صدی میں کئی مہمات چلیں، لاکھوں ڈالر خرچ ہوئے، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ کیونکہ سب نظریے ہیں، ثبوت کوئی نہیں۔

🌍 ایتھوپیا – کلیسائے سیدہ مریم

شہر: اکسوم۔ دعویٰ: تابوت ایک چھوٹے سے کمرے `Chapel of the Tablet` میں ہے۔ حقیقت: صرف ایک اندھا پادری `Guardian Monk` اسے دیکھ سکتا ہے۔ کوئی فوٹو، کوئی ویڈیو نہیں۔ مغربی محقق اسے Legend کہتے ہیں۔

ایتھوپیا اکسوم کا پادری - Chapel of the Tablet جہاں تابوت سکینہ کا دعوی ہے
ایتھوپیا، اکسوم: Church of Our Lady Mary of Zion کا ایک پادری۔ روایت ہے کہ تابوتِ سکینہ Chapel of the Tablet میں محفوظ ہے، جسے صرف ایک اندھا پادری دیکھ سکتا ہے۔

🏜️ مالی – تیمبکتو

دعویٰ: 13ویں صدی میں جب مسلمانوں پر حملہ ہوا تو یہودی علما تابوت سکینہ لے کر صحارا بھاگ گئے اور تیمبکتو کی ایک Sufi library میں دفن کر دیا۔ فرانسی محقق Bezalel Landau نے اس پر کتاب لکھی۔

🕌 مسجد اقصیٰ کے نیچے

سب سے مشہور نظریہ۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے خود تابوت سکینہ کو ہیکل کی بنیادوں کے نیچے چھپا دیا تھا۔ اسرائیل کئی بار کھدائی کرنا چاہ چکا ہے، لیکن مسلمانوں کے احتجاج کی وجہ سے رک گیا۔ یہ آج ایک سیاسی مسئلہ ہے۔

⏳ قیامت کی نشانی

بعض علماء کی رائے: تابوت کو اللہ نے غیب کر دیا ہے۔ وہ امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت دوبارہ ظاہر ہو گا۔ اس لیے دنیا کی کوئی طاقت اسے نہیں ڈھونڈ سکتی۔ یہی راجح اسلامی موقف ہے۔


سائنس اور آرکیالوجی کیا کہتی ہے؟

  • 📡
    کوئی ریڈار ثبوت نہیں: 2010 میں نیشنل جیوگرافک نے اکسوم کے گرجے کے نیچے گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار چلایا۔ اندر کوئی دھاتی صندوق نہیں ملا۔ صرف ایک خالی کمرہ تھا۔
  • 📜
    بائبل کی خاموشی: پرانا عہد نامہ 2 سلاطین 25 کے بعد تابوت کا ذکر ہی نہیں کرتا۔ مطلب: لکھاریوں کو خود نہیں پتا تھا کہ وہ کہاں گیا۔
  • 🧠
    نفسیاتی پہلو: ہر قوم کو ایک “مقدس شے” چاہیے ہوتی ہے جو اسے طاقت دے۔ تابوت بنی اسرائیل کے لیے وہی تھا۔ اس کے گم ہونے سے ان کی شناخت بھی گم ہو گئی۔
  • 🗺️
    مسجد اقصیٰ کا مسئلہ: سائنس کھدائی کر سکتی ہے، لیکن سیاست اجازت نہیں دیتی۔ کیونکہ وہاں کھدائی کا مطلب تیسری جنگ عظیم ہے۔ اس لیے یہ ایک “Red Line” ہے۔

اگر آج تابوتِ سکینہ مل گیا تو کیا ہوگا؟

فرض کریں کل کو واقعی تابوت مل گیا۔ تو دنیا میں کیا ہلچل مچے گی؟

1. اسرائیل کے لیے: وہ فوراً “تیسرا ہیکل” بنانے کی بات کریں گے۔ کیونکہ یہودی عقیدے کے مطابق ہیکل بنا تابوت کے نامکمل ہے۔ اس کا مطلب مسجد اقصیٰ کو شہید کرنا۔ یہ جنگ کا سبب بنے گا۔

2. عیسائیوں کے لیے: Evangelical Christian کا عقیدہ ہے کہ تابوت کی واپسی کا مطلب ہے “قیامت بہت قریب ہے”۔ وہ اسے ایک بہت بڑی Prophecy Fulfilment سمجھیں گے۔

3. مسلمانوں کے لیے: ہمارے لیے یہ ایک نشانی ہو گی۔ لیکن ہماری فتح کا دارومدار تابوت پر نہیں، اللہ پر ہے۔ اگر امام مہدیؑ کے ساتھ آئے تو ہم اس کا احترام کریں گے، لیکن اس کی عبادت نہیں کریں گے۔


2026 میں بھی تابوت کا ذکر کیوں ہوتا ہے؟ کون ڈھونڈ رہا ہے؟

3000 سال گزر گئے، لیکن Google پر ہر مہینے `Ark of Covenant` 50,000+ بار سرچ ہوتا ہے۔ آخر کیوں؟

1. یہودی / اسرائیل:
ان کا عقیدہ ہے کہ `تیسرا ہیکل = Third Temple` تبھی بنے گا جب تابوت مل جائے گا۔ کیونکہ وہ بنا تابوت کے ہیکل میں قربانی نہیں دے سکتے۔ اسی لیے اسرائیل کی حکومت کئی بار مسجد اقصیٰ کے نیچے کھدائی کرنا چاہتی ہے۔ یہ آج کی سب سے بڑی `سیاست` ہے۔

2. کرسچن / مشنری گروپس:
امریکہ اور یورپ میں کئی پیسے والے گروپس ہیں جن کا کام ہی تابوت ڈھونڈنا ہے۔ ان کا کہنا ہے: `جس دن تابوت مل گیا، اس دن عیسیٰؑ کی واپسی قریب ہے۔` Netflix کی فلم `Indiana Jones` بھی اسی پر بنی تھی۔

3. آثارِ قدیمہ کے ماہر اور خزانے کے شکاری:
ان کے لیے یہ دنیا کا سب سے بڑا `Treasure` ہے۔ جسے ملا، وہ تاریخ بدل دے گا۔ National Geographic, History Channel ہر سال اس پر 2-3 نئی Documentary بناتا ہے تاکہ Rating ملے۔

مسلم اینگل: ہمارا عقیدہ ہے کہ تابوت `غیب` ہے۔ یہ امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت نکلے گا۔ اس لیے ہم اسے `سیاسی یا سونا-چاندی` کے لیے نہیں، `نشانی` کے لیے یاد رکھتے ہیں۔

مختصر یہ کہ: یہودی اسے `مذہب` کے لیے، کرسچن `قیامت` کے لیے، اور باقی لوگ `پیسوں` کے لیے ڈھونڈ رہے ہیں۔


اصل راز کیا ہے؟

تابوتِ سکینہ کا سب سے بڑا راز خود تابوت نہیں، بلکہ اس کا `پیغام` ہے۔

اہم نکتہ: بنی اسرائیل اس وقت تک فاتح تھے جب تک وہ اللہ کے ساتھ تھے۔ جب وہ تابوت کو ہی “جادو کا ڈبہ” سمجھنے لگے اور اللہ کو بھول گئے، تو اللہ نے تابوت بھی لے لیا اور ملک بھی۔

آج ہم بھی بہت سی چیزوں کو اپنا `تابوت` بنا بیٹھے ہیں۔ پیسہ، طاقت، ٹیکنالوجی، فالوورز۔ لیکن اصل سکینہ صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔

حتمی بات: تابوت کہاں ہے؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہماری تلاش کا مقصد صندوق ڈھونڈنا نہیں، بلکہ اس سبق کو ڈھونڈنا ہے جو وہ ہمیں دے رہا ہے۔

مستند حوالہ جات

  1. القرآن الکریم، سورۃ البقرہ، آیت 247-248
  2. تفسیر ابن کثیر، سورۃ البقرہ، آیت 248
  3. تفسیر القرطبی، سورۃ البقرہ، آیت 248
  4. صحیح بخاری، کتاب التفسیر – بنی اسرائیل کے واقعات
  5. 2 Kings 25, Old Testament – Babylonian Exile
  6. National Geographic (2010). «Investigating the Ark of the Covenant»
  7. Landau, Bezalel (2002). The Location of the Ark of the Covenant

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.


Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *