غزوہ خیبر اورعلیؓ: 40 آدمیوں والا دروازہ اور قموص کی فتح
غزوہ خیبر اور علیؓ کا یہ تاریخی واقعہ 7 ہجری، محرم کے مہینے کا ہے ۔ مدینہ سے 150 کلومیٹر دور وہ جنگ ہونے والی تھی جس نے عرب کی سیاست اور جنگ کا طریقہ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ یہ تھا غزوہ خیبر اور علیؓ کا تاریخی معرکہ۔ ایک طرف 1400 بھوکے مسلمان، دوسری طرف یہودیوں کے ناقابلِ تسخیر قلعے اور کچھ دن کا ذخیرہ۔
غزوہ خیبر اور علیؓ : قلعہ قموص کی طاقت کیسے ٹوٹی؟
لیکن غزوہ خیبر اور علیؓ صرف تلوار کی کہانی نہیں۔ یہ اس دروازے کی کہانی ہے جسے 40 آدمی مل کر بھی نہیں ہلا سکے.. اور ان سنہرے اصولوں کی کہانی ہے جو آج بھی آپ کی زندگی کی سب سے بڑی “خیبر” فتح کروا سکتے ہیں۔
خیبر کے اہم ترین قلعے:
ناعم: سب سے پہلا قلعہ
قموص: سب سے مضبوط۔ اسی میں مشہور “خفیہ دروازہ” تھا
زبیر: پانی کے چشموں پر بنا ہوا
جنگ کی اصل وجہ کیا تھی؟
ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ بنو نضیر کے سردار، جن کو نبی ﷺ نے مدینہ سے جلا وطن کیا تھاپھر خیبر آ کر آباد ہو گئے تھے۔ انہوں نے قریش کو غزوۂ خندق پر اکسایا تھاکیونکہ خیبر مسلسل مدینہ کے خلاف سازشوں کا گڑھ بنا ہوا تھا۔
کئی دن کا محاصرہ: کردار کا پہلا اصول
لیکن جنگ فوراً شروع نہیں ہوئی اور محاصرہ ہو گیا۔ یہودی قلعوں میں محفوظ تھےتو دوسری طرف مسلمان بھوکے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ اتنی سخت بھوک تھی کہ لوگوں نے گدھے ذبح کر کے پکانے شروع کر دیےمگر نبی ﷺ نے فوراً منع فرما دیا۔(صحیح بخاری 3155، 4219 میں واضح الفاظ ہیں:”خیبر کے دن ہم بھوک سے بے چین تھے، ہم نے پالتو گدھے پکڑے، ذبح کیے اور ہانڈیوں میں پکانا شروع کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں۔”)
یہاں پہلا سنہرا اصول ملتا ہے: آزمائش میں کردار نہ ٹوٹے
اس وقت نبی ﷺ نے کھجور کے درخت کاٹنے سے بھی منع فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “فساد مت پھیلاؤ”کیونکہ الله فساد کو پسند نہیں فرماتا۔ ایک ایک کر کے قلعے فتح ہوتے گئے۔ لیکن قموص کا قلعہ کئی دن سے ٹوٹ نہیں رہا تھا۔
سنہرا اصول: صبر اور کردار
جب زندگی میں مہینوں تک کوئی “قلعہ” فتح نہ ہو رہا ہو – نوکری، رشتہ، کاروبار – تو صبر اور اصول کا دامن نہ چھوڑو۔ خیبر نے سکھایا کہ بھوکے پیٹ بھی ضمیر نہیں بیچنا۔
غزوہ خیبراورعلیؓ شیرِ خدا: یقین کا اصول
کئی دن گزر گئے۔ قموص کا قلعہ نہ ٹوٹ سکا۔ان دنوں میں مسلمانوں کو سخت مزاحمت کا سامنا تھا اور ابھی فیصلہ کن فتح حاصل نہیں ہوئی تھی۔پہلے دن نبی ﷺ نے جھنڈا حضرت ابوبکر صدیقؓ کو دیا۔ انہوں نے کوشش اور قتال کیا، لیکن اس دن فتح حاصل نہ ہو سکی۔
پھر دوسرے دن حضرت عمر فاروقؓ کو جھنڈا دیا گیا، مگر اس دن بھی قلعہ فتح نہ ہوا۔ مسلمان فتح کے منتظر تھے۔
تب نبی ﷺ نے فرمایا جو صحیح بخاری اور مسلم میں ہے:
“کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا۔ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں”۔
صحابہ کرامؓ کا حال:
حضرت عمرؓ فرماتے ہیں:
“مجھے اس دن امارت کی خواہش ہوئی۔”سب صحابہؓ کو امید تھی کہ شاید یہ سعادت انہیں حاصل ہو۔صبح نبی ﷺ نے فرمایا:
“علی کہاں ہیں؟”
عرض کیا گیا کہ ان کی آنکھ میں تکلیف ہے۔
حضرت علیؓ کو بلایا گیا۔ نبی ﷺ نے ان کی آنکھ پر لعابِ دہن لگایا اور دعا فرمائی، جس کے بعد وہ شفا یاب ہو گئے۔
پھر نبی ﷺ نے جھنڈا حضرت علیؓ کے حوالے کیا اور فرمایا:
“انہیں اسلام کی دعوت دو۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعے ایک شخص بھی ہدایت پا جائے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔”

اس کے بعد حضرت علیؓ آگے بڑھے:
غزوہ خیبراورعلیؓ کا سب سے مشہور واقعہ :مرحب کا قتل
مرحب بن الحارث خیبر کا سب سے بڑا پہلوان اور جنگجو تھا۔ یہودی اسے “خیبر کا شیر” کہتے تھے۔ پورے عرب میں اس کی بہادری مشہور تھی۔ اس کا قد بہت لمبا، جسم لوہے جیسا مضبوط، اور آواز اتنی بھاری تھی کہ دشمن کانپ جاتے تھے۔ وہ دو زرہیں پہنتا تھا، دو تلواریں لٹکاتا تھا، اور سر پر دوہرا خود رکھتا تھا۔ جب حضرت علیؓ کو جھنڈا ملا تو آپؓ قلعہ قموص کے دروازے پر پہنچے جہاں یہودیوں نے دروازہ بند کر لیا۔ حضرت علیؓ نے اللہ کا نام لے کر وہ وزنی دروازہ اکھاڑ دیا جو 40 آدمی مل کر بھی نہ اٹھا سکےاور اسی دروازے کو ڈھال بنا کر قلعے کی طرف بڑھے۔

مرحب کا رجز اور گھمنڈ :
جب مرحب قلعے سے نکلا تو اس نے اپنی طاقت دکھانے کے لیے رجز پڑھا،
“خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیاروں سے لیس، بہادر، تجربہ کار ہوں۔ جب جنگ بھڑکتی ہے تو میں آگ بن جاتا ہوں”وہ اکیلا مسلمانوں کے لشکر کو للکار رہا تھا۔ کئی صحابہ شہید ہو چکے تھے۔اسی دوران حضرت علیؓ آگے بڑھے اور مرحب کے جواب میں رجز پڑھا:
“میں وہ ہوں جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا، میں جنگل کا خوفناک شیر ہوں۔ میں تمہیں ترازو کے پلڑوں سے تول کر واپس کروں گا”

ایک ہی وار میں فیصلہ:
مرحب نے پہلے وار کیااور حضرت علیؓ نے اس کا وار ڈھال پر روکا۔ ڈھال یعنی قلعے کا دروازہ کٹ گیا۔ پھر حضرت علیؓ نے اللہ کا نام لے کر ایک ہی وار میں مرحب کے سر پر تلوار ماری۔ وہ وار اتنا زوردار تھا کہ مرحب کا خود، سر اور دانت کٹتے ہوئے جسم تک چلا گیا۔ طبری لکھتے ہیں کہ غزوہ خیبر اورعلیؓ کے اس مقابلے مرحب دو ٹکڑے ہو کر زمین پر گر گیا اس کے بعد اس کا بھائی یاسر بدلہ لینے آیا تو حضرت زبیرؓ نے اسے بھی ختم کر دیا۔نتیجتا مرحب کے مرتے ہی یہودیوں کا حوصلہ ٹوٹ گیااور قلعہ قموص فتح ہو گیا۔

سنہرا اصول: کامل یقین
آپ کی زندگی کا “قموص کا دروازہ” کون سا ہے؟ وہ بیماری جو ڈاکٹر ٹھیک نہ کر سکیں؟ خیبر سکھاتا ہے کہ جب دل میں اللہ اور رسول ﷺ کی محبت ہو، تو ناممکن دروازے بھی اکھڑ جاتے ہیں۔ شرط صرف کامل یقین ہے۔
غزوہ خیبراورعلیؓ : فتح کے بعد کا انصاف اور اختیار میں عاجزی کا اصول
قموص فتح ہونے کے بعد باقی لوگ خود ہتھیار ڈال گئے۔ عام حالات میں 1400 فوجی ہزاروں دشمنوں کو غلام بنا لیتے یا قتل کر دیتے۔ لیکن نبی ﷺ نے صلح کی شرط رکھی کہ یہودی یہیں آباد رہیں، کاشتکاری کریں، اور آدھی پیداوار دیں۔ فرمایا: “تم کاشتکاری ہم سے بہتر جانتے ہو”۔
یہ دنیا کی پہلی “شراکت داری” تھی۔
جب فاتح نے مفتوح کو پارٹنر بنا لیا۔ اسی لیے حضرت عمرؓ کے دور تک یہودی خیبر میں آباد رہے۔
سنہرا اصول: طاقت میں رحمت
آج جب کوئی “خیبر” فتح ہو – پروموشن، کیس، بحث میں جیت – تو فتح کے بعد کا اخلاق آپ کو بڑا بناتا ہے۔ دشمن کو ذلیل نہیں، انصاف دو۔ اصلی طاقت معاف کر دینے میں ہے۔
آج کے لیے خیبر کے سنہرے اصولوں کا نچوڑ
آزمائش میں کردار: بھوکے مر جاؤ، لیکن حرام اور فساد سے بچو۔ کردار کا قلعہ نہیں گرنا چاہیے۔
ناممکن میں یقین: مشن “ناممکن” لگے؟ علیؓ کے جیسے بننے کی کوشش کرو۔ اللہ اور رسول ﷺ سے محبت راستے کھول دیتی ہے۔
اختیار میں عاجزی: جب “سٹرونگ پوزیشن” پر ہو تو خیبر یاد کرنا۔ معاف کر دو، شیئر کر لو، جھک جاؤ۔
خاتمہ: آپ کی خیبر کہاں ہے؟
ہم غور کریں تو حضرت علیؓ نے اکیلے دروازہ اکھاڑا تھا کیونکہ دل میں ڈر نہیں تھا لیکن آج ہم چھوٹی “خیبر” سے ہار جاتے ہیں کیونکہ دل میں یقین نہیں۔
سوال یہ نہیں کہ زندگی میں خیبر کتنی بار آئے گا۔ سوال یہ ہے: کیا آپ صبر کرو گے؟ کیا علیؓ والا یقین لاؤ گے؟ اور فتح کے بعد رحمت للعالمین ﷺ والا اخلاق دکھاؤ گے؟
مزید پڑھنے کے لئے :غزوہ خیبر کی تفصیل کے لئے
قلعہ قموس کا ذکر :انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا – خیبر کی جنگ
کمنٹ میں ضرور بتائیں: آپ کی زندگی کی سب سے بڑی “خیبر” کیا ہے جس کو فتح کرنا چاہتے ہیں؟
آخر میں یہ بھی پڑھیے :اسلامی تاریخ کی مزید پوسٹس
مستند حوالہ جات:
1. صحیح بخاری: کتاب المغازی، حدیث 2942، 4210 – حضرت علیؓ کو جھنڈا دینے کا واقعہ
2. صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابہ، حدیث 2406 – آنکھوں کی شفا اور فتح کی بشارت
3. ابن ہشام: سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 328 – 40 آدمی دروازہ نہ اٹھا سکے
4. تاریخ الطبری: جلد 3، صفحہ 93-95 – خیبر کے قلعوں اور صلح کی تفصیل
5. سنن ابو داؤد: حدیث 3006 – یہودیوں سے آدھی پیداوار والی صلح
Leave a Reply