ہولودومور: جب بھوک ہتھیار بنی
سوویت یوکرین کا قحط، ۱۹۳۲–۳۳: ایک ایسی تاریخ جسے برسوں تک دبایا گیا
تمہید: ایک خاموش گاؤں
۱۹۳۳ کی بہار۔ یوکرین کے کھیت، جو دنیا کی سب سے زرخیز کالی مٹی (چرنوزیم) والے علاقے میں آتے ہیں، سرسبز ہونے چاہیے تھے۔ مگر کئی گاؤں میں نہ کوئی بچہ کھیلتا دکھائی دیتا تھا، نہ کتا بھونکتا تھا، نہ کسی چمنی سے دھواں اٹھتا تھا۔ کتے، بلیاں، گھوڑے، حتیٰ کہ چوہے تک کھائے جا چکے تھے۔ جو لوگ بچے تھے وہ یا تو جھونپڑیوں میں پڑے تھے یا سڑکوں کے کنارے، اور ان کے پیٹ سوجن سے پھولے ہوئے تھے۔ یہ مناظر کسی جنگ یا قدرتی آفت کے بعد کے نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے خطے کے تھے جو چند ہی برس پہلے تک پورے سوویت یونین کا اناج کا ذخیرہ سمجھا جاتا تھا۔ سوال یہی ہے کہ سب سے زرخیز زمین پر لوگ بھوک سے کیسے مر گئے۔ واضح رہے کہ یہ تصویر کسی ایک گاؤں کی رپورٹ نہیں، بلکہ بچ جانے والوں کی گواہیوں اور سفارتی و آرکائیوی دستاویزات میں ملنے والی مختلف تفصیلات کا مجموعہ ہے۔
اسی دور میں خارکیف (Kharkov) میں تعینات اٹلی کے قونصل سرجیو گراڈینیگو نے اپنی حکومت کو بھیجی گئی رپورٹوں میں لکھا کہ گاؤں بھوک سے مر رہے ہیں اور حکومت کی پالیسی اس تباہی کی جڑ ہے۔ اس طرح کی شہادتیں آج بھی اطالوی سفارتی ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اس کے باوجود، اسی سال دنیا کے سب سے بااثر اخباروں میں سے ایک دی نیویارک ٹائمز کے ماسکو نمائندے نے لکھا کہ “Russians Hungry But Not Starving“،عوام بھوک کا شکار ضرور ہیں تاہم بھوک سے اموات نہیں ہو رہیں۔ یوں ایک ہی وقت میں ایک طرف قونصلوں اور چند صحافیوں کی رپورٹیں تھیں جو تباہی کی خبر دے رہی تھیں، اور دوسری طرف ایک معتبر اخبار کی سرخی تھی جو دنیا کو تسلی دے رہی تھی۔ اس تضاد کو سمجھنا اس پوری کہانی کی کنجی ہے۔
یہ مضمون اسی تباہی کی کہانی ہے جسے یوکرینی لوگ ہولودومور کہتے ہیں۔ یہ لفظ یوکرینی holod (بھوک) اور mor (موت، وبا) سے بنا ہے، یعنی تقریباً “بھوک کے ذریعے موت” یا “بھوک سے ہلاکت”۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر آج بھی مؤرخین، حکومتیں اور عام لوگ تقسیم ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ مرے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیوں مرے، کس نے مارا، اور کیا یہ نسل کشی (genocide) تھی۔ ہم ان تمام سوالوں کو حوالوں کے ساتھ دیکھیں گے اور دونوں طرف کے دلائل رکھیں گے۔
نوٹ: اس مضمون میں مذکور کتابوں اور تحقیقی مقالوں کی تفصیل آخر میں حوالہ جات کی فہرست میں دی گئی ہے۔
۱. پس منظر: یوکرین، سوویت یونین اور اسٹالن کا منصوبہ
یوکرین کا مقام
یوکرین ۱۹۲۲ میں سوویت یونین کا بانی جمہوریہ بنا۔ یہ یونین کے سب سے زیادہ اناج پیدا کرنے والے علاقوں میں سے تھا۔ تقریباً ۱۹۳۰ تک یوکرین میں قریباً تین کروڑ (۳۰ ملین) لوگ رہتے تھے جن میں سے بہت بڑی تعداد کسانوں کی تھی۔ سوویت یونین کے لیے یوکرین صرف ایک جمہوریہ نہیں تھا، یہ علاقہ ملک بھر کے لیے اناج کا گودام سمجھا جاتا تھا۔ یہی اہمیت بعد میں اس کی کمزوری بن گئی، کیونکہ جب ریاست کو مزید اناج درکار ہوا تو سب سے زیادہ سختی اسی خطے پر کی گئی۔
۱۹۲۰ کی دہائی میں ماسکو نے یوکرینائزیشن (korenizatsiya) کی پالیسی چلائی جس میں یوکرینی زبان، تعلیم اور ثقافت کو فروغ دیا گیا۔ اس سے یوکرینی قومی شناخت مضبوط ہوئی۔ آگے چل کر یہی شناخت اسٹالن کی نظر میں ایک خطرہ بن گئی، جس پر ہم بعد میں آئیں گے۔ یہ پالیسی بنیادی طور پر نئی سوویت ریاست کو مختلف قوموں کے لیے قابلِ قبول بنانے کی کوشش تھی۔ اسکولوں، اخباروں، تھیٹروں اور جامعات میں یوکرینی زبان کا استعمال بڑھا اور ایک نئی یوکرینی دانشور نسل ابھری۔ مگر اسی کامیابی نے ماسکو کے اندر یہ خدشہ بھی پیدا کیا کہ مضبوط قومی شناخت کبھی مرکز کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

اسٹالن کا “عظیم موڑ”
۱۹۲۸–۲۹ میں اسٹالن نے “Great Turn” کا اعلان کیا: تیز رفتار صنعتی ترقی اور زراعت کی اجتماعیت (collectivization)۔ سوچ یہ تھی کہ چھوٹے چھوٹے ذاتی کھیتوں کو ختم کر کے بڑے سرکاری کولخوز (اجتماعی فارم) بنائے جائیں۔ اس سے حکومت کو اناج پر براہِ راست کنٹرول ملتا، جسے شہروں کے مزدوروں اور فوج کو کھلانے اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کمانے کے لیے برآمد کیا جاتا۔ پہلے پانچ سالہ منصوبے کی مشینری بیرونِ ملک سے خریدنے کے لیے زرِ مبادلہ چاہیے تھا، اور سوویت یونین کے پاس بیچنے کو سب سے بڑی چیز اناج ہی تھی۔ اس لیے اجتماعیت صرف زرعی اصلاح نہیں تھی بلکہ صنعتی منصوبے کی مالی بنیاد بھی تھی۔ کسان کو اس نظام میں اپنی زمین، اپنی فصل اور اپنے فیصلوں پر اختیار کھونا پڑتا تھا، اور یہی بات دیہات میں شدید بے چینی کا سبب بنی۔
“کُلاک” کون تھے؟
اجتماعیت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت نے “کُلاک” (خوشحال کسان) کو قرار دیا۔ حقیقت میں “کُلاک” ایک سیاسی لیبل بن گیا۔ جو بھی کسان اجتماعیت کی مخالفت کرتا، چاہے وہ غریب ہی کیوں نہ ہو،
انہیں کُلاک یا کُلاک کے ساتھی کا لیبل لگا کر نشانہ بنایا جاتا تھا۔ ڈی کُلاکائزیشن مہم (۱۹۳۰-۳۱) میں لاکھوں خاندان اجاڑے گئے، ہزاروں کو سائبیریا اور قازقستان بھیج دیا گیا اور بہت سے دورانِ سفر ہی ہلاک ہو گئے، جس کی لین وایولا نے اپنی تحقیق میں وضاحت کی ہے کہ کسانوں نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔، جس میں ہزاروں بغاوتیں، ہنگامے اور سرکاری اہلکاروں پر حملے شامل تھے۔ کئی مؤرخین کے مطابق اسی مزاحمت نے حکومت کو یہ تاثر دیا کہ کسان دشمن ہیں، اور آنے والے برسوں میں مزید سخت اقدامات کا جواز اسی تاثر سے نکالا گیا۔
اجتماعیت کا نتیجہ
کسانوں نے احتجاجاً اپنے مویشی ذبح کر دیے اور کئی نے بوائی سے انکار کیا۔ ۱۹۲۹ سے ۱۹۳۳ کے درمیان سوویت یونین میں گھوڑوں، گایوں اور بھیڑ بکریوں کی تعداد میں زبردست کمی آئی۔ کھیتی کے لیے ضروری بیلوں اور گھوڑوں کی کمی نے اگلی فصلوں کو مزید کمزور کیا۔
اسی دوران ۱۹۳۰ کی فصل اچھی رہی اور حکومت نے اس کا بڑا حصہ برآمد اور سرکاری ذخیرے کے لیے لے لیا۔ مگر یہ ایک خطرناک موڑ تھا: حکومت نے فرض کر لیا کہ کسان جتنا چاہیں اناج دے سکتے ہیں، اور گھٹتی ہوئی پیداوار کو “کسانوں کی چھپائی ہوئی فصل” سمجھا گیا۔ یوں زمینی حقیقت اور سرکاری توقعات کے درمیان خلیج بڑھتی گئی، اور جو اہلکار حقیقت بتانے کی کوشش کرتا اس پر نااہلی یا کسانوں سے ملی بھگت کا الزام لگ سکتا تھا۔
۲. ۱۹۳۱–۳۲: بحران کا جال
اناج کی خرید (procurement) کے ہدف
سوویت حکومت ہر سال کولخوزوں پر اناج کی خرید کا ایک ہدف (quota) مسلط کرتی تھی۔ یہ ہدف پچھلی اچھی فصل کے اندازے پر طے ہوتے تھے، نہ کہ اصل پیداوار پر۔ ڈیویز اور وہیٹکرافٹ کے اعداد و شمار کے مطابق یوکرین سے سرکاری خرید ۱۹۳۰ اور ۱۹۳۱ میں تقریباً ۷ ملین ٹن کے آس پاس تھی، جبکہ ۱۹۳۲ میں گھٹ کر تقریباً ۴ اعشاریہ ۳ ملین ٹن رہ گئی، یعنی بہت بڑا فرق۔ جب فصل خراب ہوئی تب بھی ہدف اتنے کم نہیں کیے گئے جتنا ضروری تھا، اور دیہات میں بچنے والا اناج اتنا کم رہ گیا کہ بھوک طے تھی۔ یعنی مسئلہ صرف فصل کی مقدار کا نہیں تھا، بلکہ اس بات کا بھی تھا کہ ہدف کس بنیاد پر طے ہوتے تھے اور انہیں پورا نہ کرنے کا کیا نتیجہ نکلتا تھا۔
۱۹۳۲ کی خراب فصل: قدرتی یا انسانی ساختہ؟
اس پر مؤرخین میں گہری بحث ہے۔ مارک ٹاگر نے کئی قدرتی اسباب گنوائے ہیں: خشک سالی، زنگ (اناج کی بیماری) اور کیڑے مکوڑے، جنہوں نے ۱۹۳۲ کی پیداوار کو بہت گھٹایا۔ ڈیویز اور وہیٹکرافٹ بھی مانتے ہیں کہ ۱۹۳۲ کی فصل واقعی خراب تھی، اور وہ ابتدائی قحط کو بنیادی طور پر اجتماعیت کی پالیسیوں کی ناکامی سے جوڑتے ہیں۔
زیادہ تر تاریخ دان اس بات پر متفق ہیں کہ قحط کی شروعات فصل خراب ہونے سے ہوئی ہوگی، مگر ۱۹۳۳ میں لاکھوں لوگوں کی ہلاکت کی اصل وجہ حکومت کے اقدامات تھے۔ کیونکہ سوویت یونین سے اسی سال بھی اناج برآمد ہوتا رہا (۱۹۳۲ اور ۱۹۳۳ میں تقریباً ۱ اعشاریہ ۸ ملین ٹن سالانہ کے آس پاس، یعنی ہر سال اناج کی مقدار مختلف رہی؛ یہ مقدار ۱۹۳۱ کے تقریباً ۵۰ لاکھ ٹن کے مقابلے میں خاصی کم تھی لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔ یہ اعداد و شمار ڈیویز اور وہیٹ کرافٹ کی تحقیق سے کافی حد تک مطابقت رکھتے ہیں، اگرچہ تقویمی اور زرعی سال کے حساب سے مختلف ماخذوں میں معمولی فرق پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کے پاس اناج کے کچھ ذخائر بھی موجود تھے جنہیں قحط پر قابو پانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ البتہ برآمدات جاری رہنے سے بذاتِ خود یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قحط ایک ہی مقصد سے پیدا کیا گیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ بحران کا علم ہونے کے بعد حکومت نے خوراک کی تقسیم، ذخائر اور امداد کے بارے میں کیا فیصلے کیے۔ مائیکل ایلمین نے بھی لکھا ہے کہ ۱۹۳۲–۳۳ کے قحط میں اسٹالن کی پالیسیوں کی ذمہ داری بہت گہری ہے، اور حکومت نے مدد روک کر اموات کو بڑھایا۔
اسٹالن کے خطوط: یوکرین کے بارے میں خوف
اسٹالن اور لازار کاگانووچ کے درمیان خط و کتابت، جو اب شائع ہو چکی ہے، ایک خاص پہلو دکھاتی ہے۔ ۱۱ اگست ۱۹۳۲ کو اسٹالن نے کاگانووچ کو لکھا کہ اگر یوکرین کی صورتِ حال نہ سدھری تو “ہم یوکرین کو کھو سکتے ہیں”۔ انہوں نے یوکرینی کمیونسٹ پارٹی کی تنظیم کو “سڑی ہوئی” قرار دیا، اور اسے پولینڈ کے ساتھ جوڑ کر دیکھا، کیونکہ یوکرین کی سرحد پولینڈ سے لگتی تھی اور اسی وقت پولینڈ کے ساتھ کشیدگی کا ماحول تھا۔ ان کی فکر تھی کہ یوکرینی پارٹی کے اندر کے لوگ اور کسان مل کر ماسکو کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں۔
اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ اناج کا مسئلہ اور یوکرین کی قومی صورتِ حال اسٹالن کے ذہن میں ایک ہی جال میں بندھی تھیں۔ یہی ان مؤرخین کی ایک بڑی بنیاد ہے جو اس قحط کو محض معاشی ناکامی نہیں بلکہ سیاسی حملہ مانتے ہیں۔ البتہ دوسرے مؤرخین انہی خطوط کو پڑھ کر کہتے ہیں کہ اسٹالن کا خوف ایک عمومی سیاسی عدم تحفظ کا اظہار تھا، اور اس سے براہِ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قحط کا مقصد یوکرینی قوم کو مٹانا تھا۔
۳. قحط کیسے بنایا گیا: قانون، بلیک لسٹ اور سرحد
یہ اس مضمون کا سب سے مشکل حصہ ہے، کیونکہ یہاں ہم ان فیصلوں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے بحران کو تباہی میں بدل دیا۔
“بالیوں کا قانون” (۷ اگست ۱۹۳۲)
۷ اگست ۱۹۳۲ کو ایک قانون منظور ہوا جسے لوگ “بالیوں کا قانون” (law of spikelets) کہتے تھے۔ اس کے تحت کولخوز کی املاک، یعنی فصل کی ایک بالی بھی، چرانے پر سزائے موت یا کم از کم دس سال قید ہو سکتی تھی۔ اس قانون کے تحت بھوکے کسان، اور کئی بار بچے بھی، کھیت سے چند بالیاں اٹھانے پر پکڑے گئے۔ ہزاروں لوگوں پر مقدمے چلے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں لوگ پہلے ہی بھوکے تھے، اس قانون نے خوراک کے معمولی سے ٹکڑے کو بھی جرم بنا دیا، اور عدالتی کارروائی خود خوف پھیلانے کا ذریعہ بن گئی۔

بلیک لسٹ: “کالی تختی” پر گاؤں
نومبر ۱۹۳۲ کے بعد یوکرین میں ان کولخوزوں اور گاؤں کو “بلیک لسٹ” (کالی تختی) پر ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوا جو اناج کا ہدف پورا نہیں کر پائے تھے۔ بلیک لسٹ ہونے پر اس گاؤں میں باہر سے سامان (جیسے کپڑا، مٹی کا تیل، نمک وغیرہ) کی سپلائی بند کر دی جاتی تھی اور دکانیں بند ہو جاتی تھیں۔ کئی گاؤں میں، مقامی کارروائیوں کے طور پر، اناج کے ساتھ دیگر کھانے کی چیزیں بھی ضبط کی جاتی تھیں، جیسے سبزی، پھلیاں اور گھر میں چھپایا ہوا اناج۔ ایپل بام نے یوکرینی پارٹی کے ریکارڈ سے دکھایا ہے کہ بلیک لسٹ ایک طرح کی اجتماعی سزا تھی، جس میں پورے گاؤں کو بھوک کے لیے چھوڑ دیا جاتا تھا۔
اسی دوران، نومبر ۱۹۳۲ کے آخر میں، ایک اور سزا لگائی گئی: جن کسانوں نے ہدف پورا نہیں کیا ان پر “گوشت کا جرمانہ” (meat penalty) تھوپا گیا، یعنی اناج کی کمی کو مویشی یا گوشت سے پورا کرنا پڑتا تھا۔ اس طرح گھر کے آخری وسائل بھی چھین لیے گئے۔ یہ جرمانہ اس مفروضے پر قائم تھا کہ گھروں میں اناج چھپا ہوا ہے، اور جب اناج نہ ملا تو کئی خاندانوں سے مویشی، یعنی دودھ اور گوشت کا آخری سہارا، بھی لے لیے گئے۔ یہ فرق ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ حکم کیا تھا اور مقامی اہلکاروں نے اس پر عمل کرتے ہوئے کیا کیا؛ ہر علاقے میں یکساں کارروائی کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
ٹولیاں اور تلاشی
کسانوں کے گھروں میں اناج ڈھونڈنے کے لیے پارٹی کارکنوں اور سرکاری اہلکاروں کی تیار کردہ ٹولیاں (brigades) بھیجی گئیں۔ ایپل بام کے الفاظ میں یہ لوگ لوہے کی سلاخوں سے زمین، دیواروں اور چولہوں میں اناج کی تلاش کرتے تھے۔ انہیں “اناج چھپانے” کے الزام میں کسانوں کو پکڑنے کا اختیار تھا۔ بہت سے کسان جو کچھ بچا کر رکھتے تھے وہ بھی لے لیا گیا، کیونکہ انہیں یا تو ہدف پورا کرنا تھا یا “تخریب کار” کہہ کر سزا دی جانی تھی۔ ایسے مناظر گاؤں کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن گئے جہاں خاندان اپنے ہی گھر میں اپنی خوراک کے مالک نہیں رہے تھے۔
سرحد پر تالا: ۲۲ جنوری ۱۹۳۳
سب سے زیادہ متنازع فیصلوں میں سے ایک ۲۲ جنوری ۱۹۳۳ کا ہے۔ سوویت مرکزی قیادت کی جانب سے جاری ایک خفیہ حکم کے ذریعے یوکرین اور شمالی قفقازکوبان جیسے علاقوں میں، جہاں یوکرینی آبادی زیادہ تھی، کسانوں کو قحط سے بچنے کے لیے ہجرت کرنے سے منع کر دیا گیا اور ان کی اس نقل و حرکت کو ریاست دشمن عناصر کی سازش قرار دیا گیا۔ اور انہیں واپس بھیجنے کی ہدایات دی گئیں۔ اسٹیشنوں پر ٹکٹوں کی فروخت روکنے اور سڑکوں پر ناکے لگانے جیسے عملی اقدامات متعلقہ ہدایات کے ذریعے نافذ ہوئے، اس لیے انہیں ایک ہی دستاویز کا لفظ بہ لفظ حصہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ جو لوگ شہروں یا دوسرے علاقوں کی طرف نکلے انہیں پکڑ کر واپس گاؤں بھیج دیا گیا، جہاں بھوک اور موت کا خطرہ مزید بڑھ گیا۔ اس پابندی نے بھوک زدہ علاقوں سے نکلنے کے امکانات محدود کیے۔
اسنائیڈر کی تشریح میں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر کسانوں کو اناج سے محروم علاقوں میں بند رکھا۔ اسٹالن کے حامی یا محتاط مؤرخ کہتے ہیں کہ یہ حکم قحط سے بھاگتے کسانوں کو روکنے کی ایک سرکاری کوشش تھی، کیونکہ بھاگتے کسان شہروں میں ہنگامی حالات بڑھاتے۔ لیکن سوال یہ رہتا ہے: صرف یوکرین اور کوبان کے لیے ہی یہ پابندی کیوں؟
اندرونی پاسپورٹ نظام
دسمبر ۱۹۳۲ میں شہروں میں اندرونی پاسپورٹ کا نظام لاگو کیا گیا، جس سے حکومت نے شہروں میں کسانوں کے آنے پر پابندی لگائی۔ اس طرح بھوک سے بچنے کے لیے شہروں کی طرف جانا چاہنے والے یوکرینی کسانوں کو قانونی طور پر بھی روک دیا گیا۔ اس نظام کا مقصد شہروں کی آبادی اور راشن کو منظم کرنا بھی تھا، مگر دیہات کے لیے اس کا عملی مطلب یہ تھا کہ بھوک سے بچنے کا ایک اور راستہ بند ہو گیا۔
۱۴ دسمبر ۱۹۳۲ کی قرارداد: اناج کا بحران اور قومی شناخت
۱۴ دسمبر ۱۹۳۲ کو سوویت قیادت نے یوکرین، شمالی قفقاز اور مغربی علاقے میں اناج کی خریداری پر ایک قرارداد منظور کی۔ مؤرخین کے مطابق اس میں خریداری کی ناکامی کو مبینہ تخریب کاری کے ساتھ ساتھ یوکرینائزیشن کے “غلط نفاذ” اور یوکرینی قوم پرست عناصر کے اثر سے بھی جوڑا گیا، اور کوبان میں یوکرینائزیشن روکنے کی ہدایات دی گئیں۔ اسے نسل کشی کے ارادے کا قطعی ثبوت نہیں کہا جا سکتا، مگر یہ اس بحث کا ایک اہم دستاویزی نکتہ ہے کہ اناج کے بحران اور قومی شناخت کے خلاف کارروائی کو اسی وقت ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھا گیا۔
یوکرینائزیشن کا خاتمہ
اسی وقت ماسکو نے یوکرینائزیشن کی پالیسی الٹ دی۔ جنوری ۱۹۳۳ میں اسٹالن نے پاول پوستیشیف کو یوکرین میں پارٹی کا دوسرا سیکرٹری بنا کر بھیجا، جس نے اداروں سے “یوکرینی قوم پرستوں” کو ہٹانے کی مہم چلائی۔ یوکرینی زبان کے اساتذہ، ادیب اور دانشور گرفتار ہوئے۔ مئی ۱۹۳۳ میں مشہور یوکرینی ادیب مائکولا خویلووی نے خودکشی کر لی، اوریوکرینائزیشن کے حامی سمجھے جانے والے یوکرینی پارٹی کے اہم رہنما مائکولا اسکرپنک نے جولائی ۱۹۳۳ میں خودکشی کر لی۔ یہ تمام واقعات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ قحط کا مسئلہ اور قومی شناخت پر ہونے والا حملہ ایک دوسرے سے منسلک تھے، جو “نسل کشی” کی بحث کا مرکز ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ مؤرخین ان واقعات کو مختلف انداز میں پڑھتے ہیں: کچھ انہیں قحط اور شناخت پر ایک مربوط حملہ کہتے ہیں، جبکہ دوسرے انہیں اسٹالن کی عمومی سختی اور سیاسی تطہیر کا حصہ سمجھتے ہیں۔
۴. بھوک کی سرزمین پر زندگی
موت کا منظر
۱۹۳۳ کی سردیوں اور بہار میں اموات کی رفتار سب سے تیز تھی۔ کئی اندازوں کے مطابق بدترین مہینوں (مئی تا جولائی ۱۹۳۳) میں یوکرین میں روزانہ ہزاروں لوگ مر رہے تھے۔ رابرٹ کانکویسٹ نے اپنی ۱۹۸۶ کی کتاب The Harvest of Sorrow میں روزانہ تقریباً ۲۵ ہزار اموات تک کا اندازہ دیا تھا، جو ایک تخمینہ ہے نہ کہ متفقہ روزانہ اوسط۔ نئی آبادیاتی تحقیق یہ اعداد کچھ مختلف دکھاتی ہے، مگر تباہی کا پیمانہ وہی رہتا ہے۔
بھوک میں لوگ گھاس، پتے، درختوں کی چھال، مٹی اور سڑی ہوئی سبزیاں کھاتے تھے۔ بہت سوں نے اپنے مویشی، کتے اور بلیاں کھائیں۔ بھوک کی آخری حالت میں لوگوں کے پاؤں اور پیٹ سوجن سے پھول جاتے تھے (edema)۔ سرکاری پولیس ریکارڈ میں انسان خوری (cannibalism) کے ہزاروں مقدمات درج ہیں۔ اسنائیڈر کے مطابق صرف یوکرین میں ۲۵۰۰ سے زیادہ لوگوں پر انسان خوری کے الزام میں مقدمہ چلا۔ یہ ایک ہولناک حقیقت ہے جسے کئی سوویت دور کی دستاویزات میں “وحشت کے معاملات” کہہ کر درج کیا گیا۔
بچے اور یتیم
سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑا۔ بہت سے ماں باپ نے بچوں کو شہروں کی طرف بھیجا اس امید میں کہ وہاں کھانا ملے گا، اور کئی بچے سڑکوں یا ریلوے اسٹیشنوں پر مر گئے۔ یتیم بچوں کی بھاری تعداد نے شہروں کے یتیم خانے بھر دیے۔ جو بچے بچ گئے ان میں سے بہت سے اپنے والدین کھو چکے تھے، اور ان کے لیے قحط کا اثر اموات کے بعد بھی ختم نہیں ہوا۔
ٹورگسن: سونے کے بدلے روٹی
حکومت نے “ٹورگسن” نامی دکانیں کھولی تھیں جہاں لوگ سونا، چاندی، زیورات اور غیر ملکی کرنسی دے کر بدلے میں اناج یا کھانے کا سامان لے سکتے تھے۔ کئی بھوکے خاندانوں نے اپنی آخری قیمتی چیزیں، جیسے زیورات اور سونے چاندی کی اشیا، دے کر تھوڑا سا اناج یا آٹا لیا۔ یوں ایک طرف حکومت بھوک کے بیچ لوگوں سے قیمتی دھاتیں جمع کر رہی تھی۔ یہ تضاد اس قحط کی تلخ ترین علامتوں میں سے ایک ہے: ایک خاندان اپنی بچی کھچی جائیداد دے کر چند دن کی خوراک خریدتا تھا، اور ریاست اسی عمل سے زرِ مبادلہ اور قیمتی دھاتیں جمع کرتی تھی۔
کسانوں کی اپنی آواز: فریاد کے خطوط
پالیسیوں اور اعداد کے ساتھ ساتھ اس قحط کی ایک انسانی آواز بھی ہے۔ آرکائیوز میں ۱۹۳۲–۳۳ کے ایسے خطوط اور شکایتیں محفوظ ہیں جو کسانوں اور مقامی لوگوں نے پارٹی اور حکومتی قیادت کو لکھیں، جن میں بچوں کی بھوک، اموات اور خوراک کی کمی کا ذکر ہے۔ یہ خطوط اعداد سے الگ یہ دکھاتے ہیں کہ بھوک کا تجربہ ایک خاندان اور ایک گاؤں کے لیے کیا معنی رکھتا تھا۔ ایسی دستاویزات اس لیے بھی اہم ہیں کہ یہ بعد کی یادداشتوں پر نہیں بلکہ اسی دور میں لکھی گئی شکایتوں پر مبنی ہیں، اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بھوک کی خبر اعلیٰ حکام تک پہنچ رہی تھی۔

۵. جھوٹ کا پردہ: قحط کو کیسے چھپایا گیا
سرکاری انکار
سوویت حکومت نے قحط کا مسلسل انکار کیا۔ غیر ملکی صحافیوں کو یوکرین کے قحط زدہ علاقوں میں جانے کے لیے خاص اجازت لینی پڑتی تھی، اور۱۹۳۳ کے شروع میں ان کے سفر پر تقریباً پابندی لگا دی گئی۔ ریاست نے قحط کے وجود سے ہی انکار کر دیا اور بھوک کے بارے میں بات کرنے والوں پر سوویت مخالف پروپیگنڈا کا الزام عائد کیا جاتا تھا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ جب ۱۹۲۱–۲۲ کے قحط میں سوویت حکومت نے غیر ملکی مدد (جیسے امریکن ریلیف ایڈمنسٹریشن) قبول کی تھی، تب ۱۹۳۳ میں اس نے قحط کو عوامی طور پر تسلیم ہی نہیں کیا، اور باہر سے آنے والی امدادی اپیلوں اور پیشکشوں کو قبول نہیں کیا۔ کئی مؤرخین اس رویے کو قحط کے انکار کی پالیسی سے جوڑتے ہیں، مگر ہر مرحلے پر اس کی وجہ کے براہِ راست دستاویزی ثبوت محدود ہیں۔ انکار کی یہ پالیسی اندرونِ ملک بھی کام کرتی تھی: جو شخص بھوک کا ذکر کرتا وہ خود مشکوک بن جاتا، اور گاؤں کے لوگوں کے لیے سچ بولنا خطرناک تھا۔
گیرتھ جونز: وہ صحافی جس نے سچ لکھا
ویلش صحافی گیرتھ جونز، جو پہلے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم لائیڈ جارج کے امورِ خارجہ کے مشیر تھے، ۱۹۳۳ کی ابتدا میں یوکرین کے دیہات میں پیدل گھومے۔ انہوں نے کئی گاؤں میں دیکھا کہ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ اپنی ڈائری میں انہوں نے ایک جگہ لکھا کہ کسانوں نے ان سے کہا: “ہم مر رہے ہیں۔” برلن لوٹ کر ۲۹ مارچ ۱۹۳۳ کو انہوں نے صحافیوں کے سامنے اپنی گواہی دی، اور اس کے کچھ ہی دن بعد ان کی رپورٹ مانچسٹر گارڈین میں چھپی۔ انہوں نے لکھا کہ سوویت یونین کے علاقوں میں بھاری قحط ہے، اور اسے انہوں نے حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کا نتیجہ بتایا۔

گیرتھ جونز کی گواہی کی تعریف کرنے کے بجائے ماسکو کے کئی صحافیوں نے ان کی تردید کی۔ جونز ۱۹۳۵ میں منچوریا میں ایک پراسرار حالات میں مارے گئے، جو ان کی ۳۰ ویں سالگرہ سے ایک دن پہلے کی بات تھی۔ ان کی موت کے پیچھے سوویت خفیہ ایجنسی NKVD کا ہاتھ ہونے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر اس میں کوئی پکا ثبوت سب کے نزدیک ثابت نہیں ہوا۔ بہرحال جونز کی کہانی اس بات کی علامت ہے کہ اس زمانے میں سچ بتانے والے اکیلے صحافی کتنے کمزور تھے، اور جو ادارے ان کی بات کو معتبر بنا سکتے تھے وہ اکثر خاموش رہے یا ان کے مخالف۔
والٹر ڈورانٹی اور دی نیویارک ٹائمز
والٹر ڈورانٹی، جو دی نیویارک ٹائمز کے ماسکو نمائندے تھے، نے ۱۹۳۲ میں سوویت یونین پر اپنی رپورٹنگ کے لیے پلٹزر انعام جیتا تھا۔ جونز کی رپورٹ کے جواب میں ۳۱ مارچ ۱۹۳۳ کو ڈورانٹی نے ٹائمز میں لکھا: “Russians Hungry But Not Starving“۔ انہوں نے لکھا کہ بھوک سے موت کی خبریں “مبالغہ آرائی” یا “پروپیگنڈا” ہیں، اور کچھ جگہ غذائی کمی اور بیماریوں سے اموات ضرور ہوئی ہیں مگر قحط جیسا کچھ نہیں۔ بعد میں، نجی بات چیت میں، انہوں نے برطانوی سفارت کاروں سے کہا کہ ان کے ایک اندازے کے مطابق یوکرین اور آس پاس کے علاقوں میں تقریباً ایک کروڑ لوگ مر چکے ہوں گے، جو ایک بہت بڑا عدد تھا، مگر یہ انہوں نے عوامی طور پر کبھی نہیں لکھا۔ یہ بات برطانوی فارن آفس کے ریکارڈ میں درج ہے۔
ڈورانٹی کو ۱۹۳۲ میں دیا گیا پلٹزر واپس لینے کا مطالبہ کئی سال سے اٹھتا رہا ہے۔ ۲۰۰۳ میں پلٹزر بورڈ نے اسے واپس لینے سے انکار کر دیا۔ بورڈ کے مطابق ۱۹۳۲ کا انعام ۱۹۳۱ میں چھپی مخصوص رپورٹوں پر تھا، نہ کہ ۱۹۳۲–۳۳ کے قحط کی کوریج پر، اور ان رپورٹوں میں “جان بوجھ کر دھوکے” کے واضح ثبوت نہیں ملے۔ دی نیویارک ٹائمز نے بھی ایک اندرونی جائزے میں ان کی رپورٹنگ کو “بدترین رپورٹنگ میں سے ایک” کہا تھا، مگر پلٹزر واپس نہیں کیا گیا۔
میلکم میگرج اور کچھ دیگر گواہ
برطانوی صحافی میلکم میگرج نے بھی مارچ ۱۹۳۳ میں مانچسٹر گارڈین میں بغیر نام کے مضامین بھیجے جن میں انہوں نے یوکرین اور شمالی قفقاز میں بھوک کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ آسٹریا کے کارڈینل تھیوڈور انیٹزر نے ۱۹۳۳ میں بین الاقوامی مدد کی اپیل کی، اور اٹلی کے قونصل گراڈینیگو اور جرمنی کی کئی سفارتی رپورٹوں نے اپنے اپنے انداز میں قحط کو درج کیا۔ یعنی اس وقت کی دنیا کے پاس معلومات تھیں۔ فرق یہ تھا کہ سیاسی اور معاشی مفادات (جیسے سوویت یونین سے تجارت اور ۱۹۳۳ میں امریکہ کی سوویت یونین کو تسلیم کرنے کی تیاری) نے اس معلومات کو سننے سے روک دیا۔ اس سے یہ سبق نکلتا ہے کہ قحط کی خبر کا دبایا جانا صرف سنسرشپ کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ بعض بین الاقوامی حلقوں کی ترجیحات کا بھی اس میں دخل تھا۔
حکومت کو کیا معلوم تھا؟
قحط کے دوران مقامی پارٹی اہلکاروں اور سرکاری رپورٹوں میں خوراک کی قلت اور اموات کا ذکر ملتا ہے، اور بعض مقامی اہلکاروں نے رعایت یا امداد کی درخواستیں بھی کیں۔ ایک معروف مثال ۱۹۳۳ کی بہار میں ادیب میخائل شولوخوف کے اسٹالن کو لکھے گئے خطوط ہیں، جن میں دریائے ڈان کے علاقے کے ایک ضلع میں بھوک اور اہلکاروں کی زیادتیوں کی شکایت کی گئی تھی۔ اسٹالن نے کچھ امدادی اناج بھیجنے کی منظوری دی، مگر ساتھ ہی کسانوں پر مبینہ “تخریب کاری” کا الزام بھی لگایا۔ اس سے ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے: اگر مرکزی قیادت کو صورتِ حال کا علم تھا، تو علم ہونے کے بعد اس نے کیا کیا؟ مؤرخین اسی سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں، اور ان کے جوابات ہی نسل کشی کی بحث کو ایک یا دوسرا رخ دیتے ہیں۔
مردم شماری کا دباؤ
قحط کے اعداد چھپانے کا ایک اور طریقہ مردم شماری تھا۔ ۱۹۳۷ کی سوویت مردم شماری نے دکھایا کہ آبادی توقع سے بہت کم ہے۔ حکومت نے اس مردم شماری کو “دشمن کی سازش” کہا، اس کے نتائج رد کر دیے، اور اس کے کئی اہلکاروں کو گرفتار کر کے سزا دی، کچھ کو سزائے موت بھی۔ اس سے سوویت آبادی کے اصل حجم اور قحط کے اثرات کی آزادانہ جانچ مزید مشکل ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے آبادی ماہرین کو اعداد پچھلی مردم شماریوں، پیدائش و اموات کے اندراج اور دیگر ریکارڈ کو جوڑ کر دوبارہ تعمیر کرنے پڑتے ہیں۔
۶. کتنے لوگ مرے؟ اعداد کی لڑائی
یہ سوال سب سے زیادہ متنازع ہے، کیونکہ سوویت حکومت کے اصل ریکارڈ ۱۹۹۱ تک بند تھے، اور آج بھی پوری طرح دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے ہر تعداد صرف ایک تخمینہ ہے اور ہر محقق کا حساب لگانے کا طریقہ الگ ہے۔ کوئی صرف مرنے والوں کو گنتا ہے، کوئی پیدائش میں کمی کو بھی جوڑ لیتا ہے، کوئی صرف یوکرین کو دیکھتا ہے اور کوئی پورے سوویت یونین کو۔

- رابرٹ کانکویسٹ (۱۹۸۶): یوکرین میں تقریباً ۵۰ لاکھ (اور پورے سوویت یونین میں ~۷۰ لاکھ قحط سے متعلق اموات)۔
- ڈیوئیز اور وہیٹ کرافٹ: سوویت یونین میں ۱۹۳۱–۳۳ کے قحط میں تقریباً ۵۵ سے ۶۵ لاکھ اموات، جس میں یوکرین کا حصہ تقریباً ۳۵ لاکھ تک۔
- رودنٹسکی اور دیگر (۲۰۱۵): یوکرین میں ۱۹۳۲–۳۴ کے درمیان تقریباً ۳۹ لاکھ زائد اموات (excess deaths) کے آس پاس؛ اس کے علاوہ تقریباً ۶ لاکھ کم پیدائشیں شمار کی گئی ہیں، یعنی کل آبادیاتی نقصان تقریباً ۴۵ لاکھ؛ یہ دو الگ قسم کی گنتیاں ہیں: موجود آبادی کی اموات اور نہ پیدا ہو سکنے والی آبادی۔
- ٹموتھی اسنائیڈر: یوکرین میں تقریباً ۳۳ لاکھ لوگ بھوک سے، اور کل سوویت یونین میں تقریباً ۵۵ لاکھ۔
- قازقستان: قازق لوگ آبادی کے تناسب میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ نکولو پیانچولا کے تخمینے کے مطابق تقریباً ۱۵ لاکھ لوگ مرے، جو اس وقت کی قازق آبادی کا تقریباً ۳۸ فیصد تھا۔
یہ اعداد مختلف اس لیے ہیں کیونکہ:
- اموات کے اندراج خود حکومت نے بدل یا چھپا دیے۔ بہت سی اموات کو “بیماری” یا “کمزوری” کہہ کر درج کیا گیا۔
- اس دور میں کسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کا اندراج نہیں ہوتا تھا۔
- شرحِ پیدائش میں گراوٹ بھی ایک “گمشدہ آبادی” بناتی ہے، جسے کوئی گنے یا نہ گنے، اعداد بدل جاتے ہیں۔
سیدھی بات یہ ہے: کم از کم ۳۰ سے ۴۰ لاکھ لوگ یوکرین میں اس قحط کی وجہ سے مرے، اور سوویت یونین کے باقی حصوں میں ملا کر کل تعداد اس کے قریب دگنی تھی۔ اس بنیادی نتیجے پر زیادہ تر مؤرخین اور آبادی ماہرین متفق ہیں کہ نقصان لاکھوں میں تھا، اگرچہ ٹھیک اعداد پر اختلاف ہے۔
۷. سب سے بڑا سوال: کیا یہ نسل کشی تھی؟
“نسل کشی” کا مطلب کیا ہے
اقوامِ متحدہ (UN) کے ۱۹۴۸ کے نسل کشی کنونشن کے مطابق نسل کشی کا مطلب ہے: “کسی قومی، نسلی، یا مذہبی گروہ کو، پوری یا جزوی طور پر،ختم کرنے کے ارادے” سے کیے جانے والے اعمال، مثلاً اس گروہ کے ارکان کو ہلاک کرنا یا ان پر ایسے حالاتِ زندگی نافذ کرنا جو ان کی جسمانی بربادی کے لیے بنائے گئے ہوں۔ یہاں ارادے (intent) کا سوال سب سے ضروری ہے۔ یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ اس تعریف میں صرف قومی، نسلی یا مذہبی گروہ آتے ہیں، نہ کہ سیاسی یا سماجی طبقے (جیسے “کُلاک”)۔

رافیل لیمکن کا مؤقف
“نسل کشی” لفظ کے خالق رافیل لیمکن نے ۱۹۵۳ کی ایک تقریر میں یوکرین میں سوویت پالیسیوں کو “نسل کشی کی سب سے اچھی اور سب سے مشہور مثال” کہا۔ ان کی دلیل تھی کہ سوویت یونین نے ایک ہی وقت میں یوکرینی کسانوں (جو یوکرینی شناخت کی بنیاد تھے)، یوکرینی مفکروں اور دانشوروں، اور یوکرینی چرچ پر حملہ کیا، جس سے ایک قوم کی تباہی کا ایک چار حصوں کا منصوبہ بنا۔ لیمکن کے لیے قحط اس بڑے منصوبے کا صرف ایک حصہ تھا۔ لیمکن کا یہ مؤقف آج بھی اس بحث میں اکثر پیش کیا جاتا ہے، مگر مؤرخین اس کے ہر جزو کو ایک ہی انداز میں نہیں پڑھتے۔
نسل کشی ماننے والوں کے دلائل
اس مؤقف کے حامی مؤرخین میں رابرٹ کانکویسٹ، این ایپل بام، ٹموتھی اسنائیڈر (کچھ حد تک)، اینڈریا گرازیوسی (جو اسے نئی سمجھ کے ساتھ دیکھتے ہیں) اور یوکرینی مؤرخ جیسے اسٹانسلاو کلچٹسکی شامل ہیں۔ ان کے اہم دلائل یہ ہیں:
- یوکرین اور کوبان پر خاص نشانہ: ۲۲ جنوری ۱۹۳۳ کا سرحدی پابندی کا حکم صرف یوکرین اور شمالی قفقاز (کوبان) کے لیے تھا، جہاں بڑی یوکرینی آبادی تھی۔ اس پابندی کا مطلب تھا کہ بھوکے یوکرینی کسان بھاگ نہیں سکتے تھے۔
- قومی شناخت پر ایک ساتھ حملہ: یوکرینائزیشن کا خاتمہ، یوکرینی زبان کے اساتذہ اور دانشوروں کی گرفتاری، اور پارٹی سے یوکرینی قوم پرستوں کی صفائی، سب اسی وقت ہوئی۔
- اسٹالن کے خطوط: اگست ۱۹۳۲ کا “ہم یوکرین کو کھو سکتے ہیں” والا خط دکھاتا ہے کہ اسٹالن کی فکر سیاسی تھی، نہ کہ صرف معاشی۔
- مدد سے انکار: حکومت نے قحط کے وجود سے انکار کر دیا اور بیرونِ ملک سے آنے والی امدادی پیشکشوں کو مسترد کر دیا۔
- اناج کے ذخائر موجود تھے: حکومت کے پاس شہروں، فوج اور برآمد کے لیے اناج تھا، مگر بھوک سے مرتے کسانوں کے لیے نہیں۔
نسل کشی نہ ماننے والوں کے دلائل
دوسرے مؤقف میں مؤرخین جیسے آر ڈبلیو ڈیوئیز، اسٹیفن وہیٹ کرافٹ، مائیکل ایلمین، ہیروآکی کُرومیا اور مارک ٹاگر شامل ہیں۔ یہ سب اسٹالن کو قحط کے لیے سنگین طور پر ذمہ دار مانتے ہیں، مگر “نسل کشی” لفظ پر سوال اٹھاتے ہیں:
- ارادے کا ثبوت: اب تک دستیاب شواہد میں یوکرینی قوم کو بھوک کے ذریعے ختم کرنے کا کوئی براہِ راست حکم یا دستاویز نہیں ملی۔ ڈیوئیز اور وہیٹ کرافٹ کہتے ہیں کہ قحط اسٹالن کی ناکام اور بے رحم پالیسیوں کا نتیجہ تھا، نہ کہ کسی ایک قوم کو مٹانے کے منصوبے کا۔
- قازقستان، وولگا اور جنوبی روس میں بھی قحط: قحط صرف یوکرینیوں تک محدود نہیں تھا۔ قازقستان میں تو آبادی کے تناسب میں نقصان اور بھی بڑا تھا، اور وولگا کے علاقے، سائبیریا کے کچھ حصے اور شمالی قفقاز کے غیر یوکرینی علاقے بھی متاثر ہوئے۔
- کسان، نہ کہ یوکرینی: کئی مؤرخ کہتے ہیں کہ اصل نشانہ “کسان” تھا، ایک سیاسی و معاشی طبقہ، اور یوکرینی اس لیے زیادہ متاثر ہوئے کہ یوکرین اناج کا سب سے بڑا پیدا کرنے والا اور کسان اکثریتی علاقہ تھا۔
- قدرتی اسباب: ٹاگر کے مطابق ۱۹۳۲ کی خراب فصل کے پیچھے اسباب اصلی تھے اور حکومت نے اسے شروع میں کم سمجھا، مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس کے بعد حکومت نے اپنی پالیسیوں سے بحران کو بڑھایا۔
مائیکل ایلمین نے ۲۰۰۷ کے ایک مضمون میں لکھا کہ اسٹالن نے “قحط کو روکا نہیں” اور اس سے آنکھیں موند لیں، جو ایک جرم ہے، مگر اسے ۱۹۴۸ کے کنونشن کے تحت “نسل کشی” کہنا قانونی طور پر متنازع ہے کیونکہ “قوم کو مٹانے کا ارادہ” ثابت کرنا مشکل ہے۔ یوں ایلمین جیسے مؤرخ اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے بھی قانونی اصطلاح کے استعمال میں احتیاط برتتے ہیں۔
بیچ کا راستہ
کچھ مؤرخ، جیسے اینڈریا گرازیوسی، ایک بیچ کا راستہ بتاتے ہیں: ۱۹۳۲ کی ابتدا میں قحط اسٹالن کی پالیسیوں کا غیر متوقع نتیجہ تھا، لیکن ۱۹۳۲ کے آخر اور ۱۹۳۳ کی ابتدا سے جب اسٹالن نے یوکرین کو سزا دینے کی پالیسی اپنائی (بلیک لسٹ، سرحدی پابندی، یوکرینائزیشن کا خاتمہ)، تب اس نے قحط کو یوکرینی مزاحمت توڑنے کے لیے استعمال کیا۔ یوں “جان بوجھ کر موت ہونے دینا” اور “اس موت کو ایک سیاسی ہتھیار بنانا” ایک ایسا موڑ ہے جسے کئی لوگ نسل کشی کے بہت قریب مانتے ہیں۔
یہ بحث صرف لفظوں کی نہیں ہے۔ یہ اس سوال سے جڑی ہے کہ کیا ۱۹۳۰ کی دہائی کی سوویت پالیسیاں صرف طبقاتی جنگ کی تھیں، یا ان میں کسی قوم کو توڑنے کا ارادہ بھی تھا۔
دو باتوں کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ پہلی: قحط کی شدت میں سوویت پالیسیوں کی ذمہ داری، جس پر مؤرخین میں وسیع اتفاق ہے۔ دوسری: یوکرینی قوم کو مخصوص طور پر ختم کرنے کا ارادہ، جس پر تشریحات مختلف ہیں۔ حامی مؤرخین ارادہ مجموعی پالیسیوں، حالات اور دستاویزات سے اخذ کرتے ہیں؛ ناقدین کے نزدیک ایسا ارادہ ثابت کرنے کے لیے شواہد ناکافی ہیں۔ دوسری طرف، محض تباہ کن نتائج خود بخود مخصوص قانونی ارادے کو ثابت نہیں کرتے۔
۸. دنیا نے اسے کیسے یاد رکھا
دہائیوں کی خاموشی
سوویت یونین میں اس قحط کا ذکر کرنا دہائیوں تک جرم تھا۔ سوویت تاریخ کی کتابوں میں اسے “کچھ مشکلات” کہہ کر چھوڑ دیا گیا۔ یوکرینی تارکینِ وطن (diaspora) برادری، بالخصوص کینیڈا، ریاستہائے متحدہ اور برطانیہ میں یوکرینی ڈائیسپورا نے کئی دہائیوں تک اس یاد کو زندہ رکھا۔ ۱۹۸۰ کی دہائی میں کانکویسٹ کی کتاب اور امریکہ کے “Commission on the Ukraine Famine” کی ۱۹۸۸ کی رپورٹ نے اس موضوع کو مغربی دنیا میں واپس لا رکھا۔ کمیشن نے نتیجہ نکالا کہ اسٹالن اور اس کے ساتھیوں نے “یوکرینیوں کے خلاف نسل کشی” کی۔

۱۹۹۱ کے بعد: آرکائیوز کھلے
سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد، ۱۹۹۱ سے ماسکو اور کیف کے آرکائیوز کھلے، اور نئی تحقیق کا دور شروع ہوا۔ اسٹالن اور کاگانووچ کے درمیان کے خطوط، پولٹ بیورو کے احکامات، اور کئی مقامی ریکارڈ سامنے آئے، جن کی بنیاد پر ڈیوئیز، وہیٹ کرافٹ، ایپل بام، اسنائیڈر اور دیگر نے اپنا کام کیا۔ ان دستاویزات نے کئی پرانے مفروضوں کو چیلنج کیا اور بہت سی نئی تفصیلات سامنے لائیں، مگر اس کے باوجود بعض بنیادی سوالات، خاص طور پر ارادے کا سوال، آج تک مکمل طور پر طے نہیں ہو سکے۔
سیاسی تسلیم
یوکرین نے ۲۰۰۶ میں ایک قانون پاس کر کے ہولودومور کو “یوکرینی قوم کے خلاف نسل کشی” کہا، اور اس کے انکار کو ناجائز قرار دیا؛ سزاؤں اور فوجداری دفعات کی تفصیل متعلقہ قانونی متن سے دیکھنی چاہیے۔ کئی ملکوں نے اسے نسل کشی کے طور پر تسلیم کیا ہے، جن میں امریکہ (کانگریس نے ۲۰۱۸ میں ایک قرارداد پاس کی)، کینیڈا، پولینڈ، اور ۲۰۲۲ میں جرمنی کی بنڈسٹاگ شامل ہیں۔ ۲۰۲۲ کے آخر میں یورپی پارلیمنٹ نے بھی ایک قرارداد پاس کر کے ہولودومور کو نسل کشی کہا۔ لیکن سب ملک متفق نہیں ہیں، اور کئی ملکوں نے اسے صرف ایک ہولناک سانحہ مانا ہے۔
روس اس تشریح کو نہیں مانتا۔ ۲۰۰۸ میں روسی ریاستی ڈوما کے ایک بیان میں کہا گیا کہ قحط سوویت یونین کے کئی لوگوں کا سانحہ تھا، جس میں روسی، یوکرینی، قازق اور دوسرے سب متاثر ہوئے، اور اسے “کسی ایک قوم کے خلاف نسل کشی” کہنا “درست نہیں”۔ یہ آج بھی روس اور یوکرین کے درمیان ایک سیاسی تنازع کا مسئلہ ہے، اور ۲۰۱۴ کے بعد اور خاص طور پر ۲۰۲۲ کی جنگ کے بعد اس کی سیاسی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ اس لیے اس موضوع پر لکھتے وقت تاریخ اور سیاست کو الگ رکھنا ایک چیلنج ہے۔
برصغیر کے قارئین کے لیے ایک موازنہ
برصغیر کے قارئین کے لیے ۱۹۴۳ کا بنگال کا قحط ایک قابلِ غور موازنہ ہے۔ دونوں میں پالیسی کے فیصلوں اور حکومتی رویّے نے اموات کو بڑھایا، مگر سیاسی ڈھانچے اور حالات بہت مختلف تھے۔ اس سے ایک عمومی سبق نکلتا ہے: قحط اکثر صرف قدرتی آفت نہیں ہوتا۔ فرق یہ بھی تھا کہ بنگال کا قحط ایک نوآبادیاتی انتظامیہ کے جنگی بندوبست کے اندر ہوا، جبکہ ہولودومور ایک یک جماعتی ریاست کی اجتماعی زراعت کی پالیسی کے اندر۔
۹. نتیجہ: ایک ایسی تاریخ جو ہمیں کیا سکھاتی ہے
ہولودومور ایک ایسے دور کی کہانی ہے جہاں ایک حکومت نے اپنی نظریے اور اقتدار کے استحکام کو اپنے ہی لوگوں کی جان سے اوپر رکھا۔ اس کا سبق کئی سطح پر ہے:
- قحط صرف قدرتی آفت نہیں ہوتا۔ فصل خراب ہو سکتی ہے، مگر جب حکومت مدد روک دے، نقل و حرکت بند کر دے اور سچ کو دبائے تو بھوک کئی مؤرخین کے نزدیک ایک سیاسی ہتھیار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
- خاموشی اور جھوٹ بھی نقصان بڑھاتے ہیں۔ ڈورانٹی جیسی رپورٹنگ، دنیا کی بے توجہی اور مردم شماری کا دباؤ سچ کو چھپانے کا حصہ بنے، جبکہ گیرتھ جونز جیسے اکیلے صحافیوں نے اس کی قیمت چکائی۔
- نام پر بحث ہے، حقیقت پر نہیں۔ لاکھوں اموات اور حکومتی پالیسیوں کی ذمہ داری پر وسیع اتفاق ہے؛ اختلاف اس پر ہے کہ اسے نسل کشی کہا جائے یا نہیں۔
جو قارئین اس موضوع پر مزید پڑھنا چاہیں، ان کے لیے نیچے کچھ اہم ذرائع ہیں۔ ایک ضروری بات: کسی بھی ذریعے کو اکیلی سچائی ماننے کے بجائے انہیں ساتھ پڑھنا بہتر ہوگا، کیونکہ یہ موضوع آج بھی سیاسی طور پر گرم ہے۔
“بھوک کو ہتھیار بنانا” ایک تاریخی تعبیر ہے جس کے حق اور خلاف دونوں طرح کے شواہد اور دلائل زیرِ بحث ہیں؛ یہ ایسا دعویٰ نہیں جس پر تمام مؤرخین متفق ہوں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
ہولودومور کیا ہے اور اس لفظ کا مطلب کیا ہے؟
ہولودومور ۱۹۳۲–۳۳ میں سوویت یوکرین میں پڑنے والے شدید قحط کا یوکرینی نام ہے۔ یہ لفظ یوکرینی «holod» (بھوک) اور «mor» (موت، وبا) سے بنا ہے، یعنی تقریباً «بھوک کے ذریعے موت»۔
یہ قحط کب اور کہاں آیا؟
سب سے شدید اموات ۱۹۳۲ کے آخر سے ۱۹۳۳ کے وسط تک ہوئیں، اور مئی تا جولائی ۱۹۳۳ بدترین مہینے سمجھے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ اثر سوویت یوکرین پر پڑا، مگر قحط شمالی قفقاز، قازقستان، وولگا کے علاقے اور سوویت یونین کے دیگر حصوں میں بھی آیا۔
اس قحط میں کتنے لوگ مرے؟
اس پر مؤرخین کے تخمینے مختلف ہیں۔ یوکرین کے لیے عام طور پر ۳۰ سے ۵۰ لاکھ کے درمیان اموات کے اندازے ملتے ہیں؛ ۲۰۱۵ کی ایک آبادیاتی تحقیق میں تقریباً ۳۹ لاکھ زائد اموات اور تقریباً ۶ لاکھ کم پیدائشیں شمار کی گئیں۔ پورے سوویت یونین کے لیے اندازے عموماً ۵۰ سے ۷۰ لاکھ کے آس پاس ہیں۔ یہ سب تخمینے ہیں، کیونکہ اصل سرکاری ریکارڈ ادھورے یا دبائے ہوئے تھے۔
کیا یہ صرف قدرتی قحط تھا؟
نہیں۔ ۱۹۳۲ کی فصل خراب ضرور تھی، مگر زیادہ تر مؤرخین کے مطابق ۱۹۳۳ کی لاکھوں اموات حکومتی فیصلوں کا نتیجہ تھیں: جبری اجتماعیت، اناج کے ناممکن اہداف، ضبطی، بلیک لسٹ اور نقل و حرکت کی پابندیاں۔ فصل کی خرابی میں قدرتی اسباب کا کتنا حصہ تھا، اس پر بحث موجود ہے۔
بلیک لسٹ (کالی تختی) کا کیا مطلب تھا؟
نومبر ۱۹۳۲ کے بعد جن گاؤں اور کولخوزوں نے اناج کا ہدف پورا نہیں کیا انہیں «بلیک لسٹ» کیا گیا۔ ایسے گاؤں میں باہر سے سامان کی سپلائی بند ہو جاتی اور دکانیں بند کر دی جاتیں۔ کئی علاقوں میں اناج کے ساتھ دیگر کھانے کی چیزیں بھی ضبط کی گئیں، مگر ہر جگہ یکساں کارروائی کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
۲۲ جنوری ۱۹۳۳ کا حکم کیا تھا؟
یہ سوویت مرکزی قیادت کی جانب سے جاری ایک خفیہ حکم تھا جس کے ذریعے یوکرین اور شمالی قفقاز سے بھوک کے باعث کسانوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی روکنے اور انہیں واپس بھیجنے کی ہدایات دی گئیں۔ اس سے بھوک زدہ علاقوں سے نکلنے کے امکانات محدود ہو گئے۔ ٹکٹوں اور ناکوں جیسے عملی اقدامات متعلقہ ہدایات کے ذریعے نافذ ہوئے۔
کیا ہولودومور نسل کشی تھا؟
اس پر مؤرخین تقسیم ہیں۔ ایک طرف رابرٹ کانکویسٹ، این ایپل بام اور دیگر مؤرخ اسے یوکرینی قوم کے خلاف ایک سوچا سمجھا حملہ مانتے ہیں؛ دوسری طرف ڈیویز، وہیٹکرافٹ اور ایلمین جیسے مؤرخ اسٹالن کو شدید ذمہ دار ٹھہراتے ہیں مگر یوکرینیوں کو مخصوص طور پر ختم کرنے کے ارادے کا ثبوت ناکافی سمجھتے ہیں۔ قحط کی شدت میں سوویت پالیسیوں کی ذمہ داری پر وسیع اتفاق ہے؛ اختلاف مخصوص ارادے اور قانونی اصطلاح پر ہے۔
گیرتھ جونز اور والٹر ڈورانٹی کون تھے؟
گیرتھ جونز ایک ویلش صحافی تھے جنہوں نے ۱۹۳۳ میں یوکرین کے دیہات دیکھ کر قحط کی خبر دی۔ والٹر ڈورانٹی «دی نیویارک ٹائمز» کے ماسکو نمائندے تھے جنہوں نے ۳۱ مارچ ۱۹۳۳ کو «Russians Hungry But Not Starving» لکھ کر ایسی خبروں کو کمزور کیا۔ ۲۰۰۳ میں پلٹزر بورڈ نے ڈورانٹی کا انعام واپس نہیں لیا؛ بورڈ کے مطابق وہ انعام ۱۹۳۱ کی رپورٹوں پر تھا۔
قحط کی خبر دنیا سے کیسے چھپائی گئی؟
سوویت حکومت نے قحط کا عوامی طور پر انکار کیا، غیر ملکی صحافیوں کی آمد و رفت محدود کی، اور بیرونی امدادی اپیلوں کو قبول نہیں کیا۔ بعد میں ۱۹۳۷ کی مردم شماری کے نتائج بھی دبا دیے گئے، جس سے آبادی کے اصل نقصان کی آزادانہ جانچ مشکل ہو گئی۔
کن ممالک نے اسے نسل کشی تسلیم کیا ہے؟
یوکرین نے ۲۰۰۶ میں اسے نسل کشی قرار دیا۔ امریکہ (کانگریس کی ۲۰۱۸ کی قرارداد)، کینیڈا، پولینڈ اور ۲۰۲۲ میں جرمنی کی بنڈسٹاگ اور یورپی پارلیمنٹ نے بھی اسی انداز کی تسلیم یا قراردادیں منظور کیں۔ روس اس تشریح کو نہیں مانتا اور اسے سوویت یونین کے کئی لوگوں کا مشترک سانحہ کہتا ہے۔ ہر ملک کی تسلیم کی نوعیت مختلف ہے، اس لیے متعلقہ قرارداد کا متن دیکھنا بہتر ہے۔
اس موضوع پر مزید پڑھنے کے لیے کون سی کتابیں مفید ہیں؟
اینی ایپل بام کی «Red Famine»، رابرٹ کانکویسٹ کی «The Harvest of Sorrow»، ٹموتھی اسنائیڈر کی «Bloodlands» اور آر ڈبلیو ڈیویز و اسٹیفن وہیٹکرافٹ کی «The Years of Hunger» اہم ذرائع ہیں۔ کسی ایک کتاب کو حتمی مان لینے کے بجائے مختلف مؤقف کی کتابیں ساتھ پڑھنا بہتر ہے۔
حوالہ جات (References)
[1] Robert Conquest, The Harvest of Sorrow: Soviet Collectivization and the Terror-Famine (Oxford University Press, 1986).
[2] Anne Applebaum, Red Famine: Stalin’s War on Ukraine (Doubleday, 2017).
[3] مؤرخ Timothy Snyder کی تصنیف — Bloodlands: Europe Between Hitler and Stalin، شائع کردہ Basic Books، سنہ 2010۔
[4] محققین R. W. Davies اور Stephen G. Wheatcroft کی مشترکہ تصنیف — The Years of Hunger: Soviet Agriculture, 1931–1933، شائع کردہ Palgrave Macmillan، سنہ 2004۔
[5] مؤرخ Serhii Plokhy کی تصنیف — The Gates of Europe: A History of Ukraine، شائع کردہ Basic Books، سنہ 2015۔
[6] مؤرخ Andrea Graziosi کا تحقیقی مقالہ — “The Soviet 1931–1933 Famines and the Ukrainian Holodomor: Is a New Interpretation Possible, and What Would Its Consequences Be؟” — شائع شدہ جریدہ Harvard Ukrainian Studies، جلد 27 (2004–05)۔
[7] Michael Ellman, “Stalin and the Soviet Famine of 1932–33 Revisited”, Europe-Asia Studies 59, no. 4 (2007).
[8] Lars T. Lih, Oleg V. Naumov and Oleg V. Khlevniuk (eds.), Stalin’s Letters to Molotov, 1925–1936 (Yale University Press, 1995); R. W. Davies et al. (eds.), The Stalin–Kaganovich Correspondence, 1931–36 (Yale University Press, 2003).
[9] Omelian Rudnytskyi, Nataliia Levchuk, Oleh Wolowyna, Pavlo Shevchuk and Alla Kovbasiuk, “Demography of a Man-Made Human Catastrophe: The Case of Massive Famine in Ukraine 1932–1933”, Canadian Studies in Population 42 (2015).
[10] Niccolò Pianciola, “The Collectivization Famine in Kazakhstan, 1931–1933”, Harvard Ukrainian Studies 25 (2001).
[11] Lynne Viola, Peasant Rebels under Stalin: Collectivization and the Culture of Peasant Resistance (Oxford University Press, 1996).
[12] مؤرخہ Sheila Fitzpatrick کی تصنیف — Stalin’s Peasants: Resistance and Survival in the Russian Village after Collectivization، شائع کردہ Oxford University Press، سنہ 1994۔
[13] قانون دان Raphael Lemkin کا مضمون — “Soviet Genocide in the Ukraine”، سنہ 1953۔
[14] Commission on the Ukraine Famine, Report to Congress (US Government Printing Office, 1988).
[15] مدونین Marco Carynnyk، Lubomyr Y. Luciuk اور Bohdan S. Kordan کی مرتب کردہ کتاب — The Foreign Office and the Famine: British Documents on Ukraine and the Great Famine of 1932–1933، شائع کردہ Limestone Press، سنہ 1988۔ نیز صحافیوں Gareth Jones اور Malcolm Muggeridge کے مضامین، Manchester Guardian، مارچ 1933۔
[16] مؤرخہ S. J. Taylor کی تصنیف — Stalin’s Apologist: Walter Duranty, the New York Times’s Man in Moscow، شائع کردہ Oxford University Press، سنہ 1990۔ نیز Walter Duranty کا مضمون — “Russians Hungry But Not Starving”، The New York Times، 31 مارچ 1933۔
[17] Nicolas Werth, “The Great Ukrainian Famine of 1932–33”, Online Encyclopedia of Mass Violence (Sciences Po, 2008).
[18] Hiroaki Kuromiya, “The Soviet Famine of 1932–1933 Reconsidered”, Europe-Asia Studies 60, no. 4 (2008).
[19] Mark B. Tauger, “The 1932 Harvest and the Famine of 1933”, Slavic Review 50, no. 1 (1991).
[20] Catherine Merridale, “The 1937 Census and the Limits of Stalinism”, Journal of Contemporary History 29, no. 2 (1994).
[21] Andrea Graziosi, Lettere da Kharkov: la carestia in Ucraina e nel Caucaso del Nord nei rapporti dei diplomatici italiani, 1932–33 (Einaudi, 1991).

Leave a Reply