سلطان صلاح الدین ایوبی: ایک دہائی کی سیاست جس نے حطین کو ممکن بنایا
فاتح صرف میدانِ جنگ میں نہیں بنا — وہ اس سے پہلے مصر، حلب اور موصل کی پیچیدہ سیاست میں بنا
ابتدائیہ — فتح کی اصل کہانی کہیں اور ہے
صلاح الدین ایوبی کا ذکر عموماً اس مختصر انداز میں کیا جاتا ہے: وہ آئے، انہوں نے حطین میں صلیبیوں کو شکست دی، بیت المقدس فتح کیا، اور رچرڈ شیردل سے مقابلہ کیا — ختم۔ یہ بیان سادہ اور مختصر ہے، اس لیے عام تاریخی تعارف میں آسانی سے سما جاتا ہے؛ تاہم، اس سے پوری تاریخی تصویر سامنے نہیں آتی۔
درحقیقت، 1187ء کی کامیابی کسی یکایک رونما ہونے والے معجزے کا نتیجہ نہیں تھی۔ یہ تقریباً اٹھارہ سال کی سیاسی شطرنج کا نتیجہ تھی — ایسی شطرنج جس میں صلاح الدین کو صلیبیوں سے کہیں زیادہ وقت، توانائی اور خون اپنے ہی مسلمان ہمسایوں کے ساتھ خرچ کرنا پڑا: حلب کے زنگی امرا، موصل کے خودمختار حکمران، یمن کی بغاوتیں، اور خود مصر کے اندر فاطمی بحالی کی خفیہ سازشیں۔ اگر آپ صرف حطین اور بیت المقدس کی کہانی جانتے ہیں، تو آپ دراصل ایسی فلم کا صرف آخری بیس منٹ دیکھ رہے ہیں جس کی پوری کہانی ڈھائی گھنٹے کی ہے۔
اس تحریر میں ہم ان واقعات کے باہمی تعلق کو ترتیب وار سمجھنے کی کوشش کریں گے — ایک نوجوان کتابوں کے شوقین سے لے کر، ایک محاصرے کے دوران بستر کے قریب رکھے زہر آلود خنجر تک، ایک ایسے شہر تک جو حطین کے بعد بھی صلاح الدین کے سامنے ڈٹا رہا، اس صبح تک جب مسجدِ اقصیٰ میں تقریباً نوے سال بعد دوبارہ اذان گونجی، اور اس حیران کن سیاسی تجویز تک جس میں رچرڈ شیردل کی بہن کا نکاح صلاح الدین کے بھائی سے کر کے مسجد اقصیٰ کو مل کر چلانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
اہم تاریخوں کی ترتیب
- 1168-69ء: مصر پر فرینک-فاطمی بحران، شیرکوہ کی آخری مہم۔
- 1169ء: شیرکوہ کا انتقال — صلاح الدین راتوں رات مصر کے وزیر بنے۔
- 1170ء: خلیجِ عقبہ پر ایلہ کی فتح۔
- 1171ء: فاطمی خلافت کا انجام، اور اس کی بحالی کی درپردہ کوششیں۔
- 1173-74ء: یمن کی مہم — زبید، عدن اور صنعاء ایوبی اثر میں۔
- 1174ء: نور الدین زنگی کی وفات — 700 سواروں کا دمشق سفر۔
- 1175-76ء: ء: حماۃ کے علاقے میں زنگی لشکر کے خلاف فیصلہ کن معرکہ، نیز فدائیانِ کوہ (نزاریوں) کی جانب سے دو مرتبہ قتل کی کوشش۔
- 1177ء: معرکہ منتگساد کی ذلت آمیز شکست۔
- 1179ء: مرج عیون کی فتح — شکست کا بدلہ — اور جیکب فورڈ کے قلعے کی تباہی۔
- 1182ء: شام، اردن کے پار اور ساحلی علاقوں کی بڑی مہم۔
- 1183ء: حلب کا سقوط — شام کا اتحاد مکمل۔
- 1185-86ء: موصل کے ساتھ سیاسی مصالحت۔
- 1187ء: معرکہ کریسون، طبریہ کا بحران، حطین کی جنگ، رینالڈ کی سزائے موت، بیت المقدس کی فتح۔
- 1189-91ء: عکہ کی لمبی گھیرا بندی اور اس کا ہتھیار ڈالنا، اور صور کا ڈٹے رہنا۔
- 1191ء: معرکہ ارسوف — رچرڈ کی فتح۔
- 1191-92ء: رچرڈ کی شادی کی تجویز — الاعادل اور جوآن کا مجوزہ اتحاد۔
- 1192ء: یافا کی جنگ، اور صلحِ رملہ۔
- 1193ء: دمشق میں وفات۔
مصر کا خونی کھیل — ایک ملک، تین طاقتیں
1160ء کی دہائی کے آخری برسوں میں مصر پر کسی ایک قوت کی مکمل گرفت نہیں تھی؛ اس کی سیاست شطرنج کی ایسی بساط بن چکی تھی جس پر بیک وقت تین کھلاڑی چالیں چل رہے تھے۔ ایک جانب فاطمی خلافت کمزور پڑ چکی تھی، جس کا اصل اقتدار خود اس کے اپنے وزیروں کی رسہ کشی میں الجھا ہوا تھا۔ فاطمی وزیر شاور، اقتدار بچانے کی کوشش میں، کبھی دمشق کے نور الدین زنگی سے مدد مانگتا، اور جب وہ مدد اس کے لیے خطرہ بننے لگتی تو فوراً پلٹ کر یروشلم کے صلیبیوں سے ہاتھ ملا لیتا — ایسا کھلاڑی جو دونوں طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا اور دونوں کو دھوکا دیتا۔
دوسری قوت یروشلم کی صلیبی ریاست تھی، جو مصر کی بے پناہ دولت اور تجارتی اہمیت کو اپنے زیرِ اثر لانے کے لیے بار بار حملہ آور ہوتی رہی۔ اور تیسری طرف شام سے نور الدین زنگی کی افواج تھیں، جنہیں اسد الدین شیرکوہ کمان کر رہے تھے، اور جن کا دعویٰ تھا کہ وہ مصر کو صلیبیوں کے قبضے میں جانے سے بچانا چاہتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ اسے اپنے زیرِ اثر لانے کے خواہاں تھے۔ اسکندریہ اور قاہرہ نے بارہا گھیراؤ، سازشیں اور اچانک بدلتی وفاداریاں بھگتیں۔ تمام تر سازشوں کا مرکز ایک ہی سوال تھا کہ بالآخر مصر پر کس کا غلبہ ہوگا — فاطمیوں کا، صلیبیوں کا یا شام سے آنے والے لشکر کا؟
اسی سیاسی انتشار کے دوران، شیرکوہ کے لشکر میں، ایک نسبتاً کم عمر، کم اہم کرد افسر بھی موجود تھا — یوسف بن ایوب، جسے دنیا بعد میں صلاح الدین کے نام سے جانے گی۔ بعض روایات کے مطابق جوانی میں ان کا دل جنگ سے زیادہ کتابوں، فقہ اور ادب میں لگتا تھا، اور جب شیرکوہ نے انہیں اس مہم پر ساتھ چلنے کو کہا، تو وہ زیادہ شوق سے تیار نہیں ہوئے۔ اسی فضا میں — جہاں فریب، بدلتے رشتے اور ہر وقت کا خطرہ روزمرہ کی بات تھے — انہوں نے سیاست اور جنگ، دونوں کے ابتدائی سبق سیکھے۔
1169ء میں جب شیرکوہ کا اچانک، غیر متوقع انتقال ہوا — کہا جاتا ہے کہ ایک بھاری دعوت کھانے کے بعد ان کی طبیعت اچانک بگڑی — تو اسی الجھی ہوئی صورتحال کے درمیان ایک فیصلہ کرنا پڑا: مصر کا اگلا وزیر کون ہو؟ کئی زیادہ سینئر، زیادہ تجربہ کار امیدوار موجود تھے۔ مگر آخرکار یہ قرعہ اسی نسبتاً گمنام نوجوان کے نام نکلا۔ بعض روایات کے مطابق خود فاطمی خلیفہ کے درباریوں نے سوچا کہ ایک نوجوان، کم تجربہ کار شخص ان کے لیے زیادہ آسانی سے قابو میں آنے والا ثابت ہو گا — جس شخص کو مصر کی خطرناک سیاست میں سب سے کم خطرناک سمجھا گیا، وہی اچانک اس ملک کی طاقت کا مرکز بن گیا۔ وہ غلط تھے، اور انہیں یہ چند ہی برسوں میں معلوم ہو گیا۔
وزارت کا منصب حاصل کرنا منزل نہیں تھا؛ اصل آزمائش اب شروع ہونی تھی: فاطمی دربار میں پرانے وفادار امرا، ناراض فوجی گروہ، اور وہ لوگ موجود تھے جو ایک اجنبی، باہر سے آئے ہوئے سنی کمانڈر کو اپنے شیعہ نظام کے سب سے بڑے عہدے پر دیکھ کر مطمئن نہیں تھے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ کیا وہ وزیر بن گیا — سوال یہ تھا: کیا وہ زندہ رہ کر وزیر رہ بھی سکے گا؟
فاطمی خلافت کا انجام — اور اس کی بحالی کی درپردہ کوششیں
1171ء میں صلاح الدین نے تقریباً دو صدیوں سے قائم فاطمی خلافت کے خاتمے کا عملی قدم اٹھایا۔ طریقہ خود بھی دلچسپ تھا: انہوں نے کسی خونریز بغاوت کے بجائے، ایک خطیب کو حکم دیا کہ جمعہ کے خطبے میں فاطمی خلیفہ کا نام چھوڑ کر، بغداد کے عباسی خلیفہ کا نام لیا جائے — ایسی علامتی تبدیلی جو زبان سے ادا ہونے والے چند الفاظ میں دو سو سالہ خلافت کا خاتمہ کر گئی۔ خود فاطمی خلیفہ العاضد اسی دوران شدید بیمار تھے، اور ان کی موت کی خبر خود ان تک پہنچنے سے پہلے ہی یہ تبدیلی نافذ کر دی گئی۔

محض اعلان سے معاملہ مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔ فاطمی دور کے وفادار امرا، درباری، اور خاص طور پر سوڈانی اور دیگر افریقی دستوں پر مشتمل فاطمی افواج کے لیے اس تبدیلی کو قبول کرنا آسان نہ تھا، کیونکہ ان کا روزگار اور مقام براہِ راست فاطمی اقتدار سے وابستہ تھا۔ روایات بتاتی ہیں کہ خلافت ختم ہونے کے بعد بھی کئی سال تک فاطمی نظام کو لوٹانے کے درپردہ منصوبے بنتے رہے، اور صلاح الدین کو ان میں سے بعض کو سختی کے ساتھ ختم کرنا پڑا۔ ایک سے زائد بار تو خود قاہرہ میں ہتھیار اٹھانے کا اندیشہ سر اٹھا گیا، جسے صلاح الدین کی اپنی وفادار فوج نے دبایا۔ یہ سب اس لیے ضروری تھا تاکہ مصر ان کے اقتدار کے لیے ایک مستحکم، قابلِ اعتماد بنیاد بن سکے — نہ کہ ایسا محاذ جو کسی بھی وقت پیچھے سے ان پر وار کر سکے، جب وہ شمال میں شام کی طرف متوجہ ہوں۔
بحیرۂ احمر کا دروازہ — ایلہ اور یمن
شام کی مہمات سے پہلے صلاح الدین نے جنوبی اور مشرقی سمت کو مستحکم کرنا اہم سمجھا — ایسی بصیرت جو ان کی طویل مدتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہے۔ 1170ء میں انہوں نے خلیجِ عقبہ کے کنارے ایلہ کے قلعے پر قبضہ کیا۔ اگرچہ یہاں کوئی عظیم جنگ نہیں لڑی گئی، اس مقام کی عسکری اور جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ تھی: یہ مقام مصر، حجاز اور بحیرۂ احمر کے تجارتی و فوجی راستوں کی حفاظت کی کنجی تھا۔ اگر اس جگہ پر دشمن قابض ہو جاتا، تو حاجیوں کے قافلے اور تجارتی جہاز، دونوں ہی ہر وقت خطرے کی زد میں رہتے۔
اس کے فوراً بعد انہوں نے اپنے بھائی تورانشاہ کو ایک وسیع فوجی و سیاسی مہم پر یمن کی طرف روانہ کیا۔ چند ہی مہینوں میں زبید، عدن اور صنعاء جیسے اہم تجارتی اور فوجی مراکز ایوبی اثر میں آ گئے — عدن، جو بحیرۂ احمر اور بحیرۂ عرب کے سنگم پر واقع ایک نہایت منافع بخش بندرگاہ تھی، خاص طور پر اہم تھی، کیونکہ اس کی کسٹم آمدنی نے بعد میں صلاح الدین کی شامی مہمات کی مالی اعانت میں بھی کردار ادا کیا۔ یہ ایسی مہم تھی جو شاید “کم معروف” کے زمرے میں سب سے اوپر آتی ہے — کیونکہ اس اقدام کا مقصد صلیبیوں سے کوئی براہِ راست ٹکراؤ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ جب صلاح الدین شمال کی طرف شام میں الجھیں، تو ان کا جنوبی دروازہ، اور حجاز تک کا راستہ، محفوظ اور منافع بخش دونوں رہے۔
وہ رات کا سفر جو کسی فلمی منظر سے کم نہیں
1174ء کا ایک دن۔ دمشق سے ایک تھکا ہوا، گرد آلود قاصد مصر پہنچا اور ایسی خبر سنائی جس نے پورے خطے کی سیاست کو ہلا دیا: نور الدین زنگی، وہ حکمران جس کے زیرِ سایہ صلاح الدین نے اپنا کیریئر شروع کیا تھا، اچانک انتقال کر گئے ہیں، اور ان کا جانشین ایک گیارہ سالہ بچہ، الصالح اسماعیل، ہے۔ یوں شام میں طاقت کی جگہ خالی ہو گئی تھی، اور ہر بااثر امیر اور ہر گورنر اسے پُر کرنے کے موقع کی تلاش میں تھا۔
اکثر حکمران اس موقع پر محتاط راستہ اپناتے — پہلے اپنی مکمل فوج جمع کرتے، رسد کا بندوبست کرتے، اتحادی تلاش کرتے، اور مہینوں بعد ایک محفوظ، طاقتور پیش قدمی کرتے۔ صلاح الدین نے یہ نہیں کیا۔ روایات کے مطابق انہوں نے پوری فوج کے اکٹھا ہونے کا انتظار نہیں کیا اور ایک مختصر دستے کو ساتھ لے کر — بعض مؤرخین کے نزدیک یہ تقریباً 700 چنے ہوئے سوار تھے — برق رفتاری سے دمشق کا رخ کیا۔ اس تعداد کو پوری طرح پرکھنے کے لیے مختلف مآخذ کا آپس میں موازنہ کرنا پڑے گا، تاہم اصل تصویر صاف ہے: یہ ایک محتاط، مکمل تیاری کے ساتھ کی جانے والی مہم نہیں بلکہ ایک تیز، جرات مندانہ جوا تھا۔
راستہ دشمن اور غیر یقینی وفاداریوں والے علاقوں سے گزرتا تھا — ایسے علاقے جہاں کوئی بھی مقامی گورنر، نور الدین کے خاندان سے وفاداری جتاتے ہوئے، صلاح الدین کے چھوٹے دستے پر حملہ کر سکتا تھا۔ اگر کسی مخالف امیر کو بروقت خبر ہو جاتی، اگر راستے میں کوئی بڑا لشکر ان کا راستہ روک لیتا، تو یہی سفر ان کا آخری سفر بن سکتا تھا، اور صلیبی جنگوں کے سب سے بڑے ہیرو کے طور پر ان کا نام تاریخ میں کبھی نہ آتا۔ مگر یہاں تقدیر — یا شاید ان کی بے باکی — ان کے ساتھ رہی۔ وہ صحیح سلامت دمشق پہنچے، اور شہر کے دروازے، بغیر کسی روک ٹوک کے، ان کے لیے کھول دیے گئے۔
محض فوجی طاقت کافی نہیں تھی — انہیں یہ بھی ثابت کرنا تھا کہ وہ نور الدین کا جائز جانشین ہے، کوئی موقع پرست غاصب نہیں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے ایک سیاسی قدم اٹھایا جسے بعد کے کئی مؤرخین نور الدین کے خاندان سے جوڑنے کی ایک شعوری کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں: انہوں نے نور الدین کی بیوہ، عصمت الدین خاتون، سے نکاح کر لیا۔ اس نکاح کے پیچھے خالصتاً سیاسی مقصد تھا یا نہیں، یہ ایک تشریح ہے نہ کہ قطعی ثابت شدہ حقیقت — لیکن اس کا عملی اثر واضح تھا: صلاح الدین اب نور الدین کے اپنے خاندان کا حصہ تھے، اور جو امرا یہ کہہ سکتے تھے کہ “یہ اجنبی، باہر سے آیا ہوا فاتح ہے”، ان کی زبان بند ہو گئی۔
زنگیوں کے ساتھ خونریز حساب — حماۃ کے سینگ
“دمشق مل گیا” کا جملہ سن کر یوں لگتا ہے کہ پورا شام بغیر کسی رکاوٹ کے صلاح الدین کی جھولی میں آ گرا تھا۔ لیکن زمینی حالات اس سے کہیں زیادہ خونیں اور الجھے ہوئے تھے۔ نور الدین کے اپنے زنگی رشتہ دار، جو حلب اور موصل پر قابض تھے، صلاح الدین کو ایک وفادار نائب کے بجائے ایک غاصب کے طور پر دیکھتے تھے — ایسا شخص جس نے اپنے مرحوم آقا کے نابالغ وارث کی سرپرستی کے بہانے، درحقیقت اقتدار خود ہتھیا لیا تھا۔ انہوں نے صلاح الدین کو للکارنے کے لیے فوجیں جمع کرنی شروع کر دیں۔
1175ء میں، حماۃ کے قریب ایک پہاڑی سلسلے کے مقام پر، جسے “قرون حماۃ” (حماۃ کے سینگ) کہا جاتا ہے، صلاح الدین اور زنگی افواج کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ ہوا۔ یہ کوئی چھوٹی جھڑپ نہیں تھی — یہ ایسی جنگ تھی جس کا نتیجہ طے کرنے والا تھا کہ آیا صلاح الدین واقعی شام کا نیا حکمران ہے، یا محض ایک عارضی، جلد کچلا جانے والا باغی۔ صلاح الدین کی فتح نے ان کی حیثیت کو اتنا مضبوط کر دیا کہ بغداد کے عباسی خلیفہ نے باضابطہ طور پر انہیں شام اور مصر کا جائز حکمران تسلیم کر لیا — ایسی سیاسی و مذہبی توثیق جس نے ان کی حیثیت کو محض ایک فوجی غاصب سے بڑھا کر ایک جائز، شرعی سلطان میں بدل دیا، اور جس کے بعد ان کے خلاف کھڑے ہونے والے امرا کو خود اپنے ہی عوام کے سامنے اپنی مخالفت کا جواز پیش کرنا مشکل ہو گیا۔
وہ خفیہ فرقہ جس کے قاتل دو بار ان کے قریب پہنچے
شام میں اقتدار مستحکم کرتے ہوئے صلاح الدین کا سامنا ایسی طاقت سے ہوا جو کسی فوج سے کہیں زیادہ خوفناک تھی — کیونکہ اس کے خلاف تلوار یا ڈھال کوئی دفاع نہیں تھی۔ نزاری اسماعیلی تحریک، جسے ان کے مخالفین “حشاشین” کہتے تھے، کا شامی مرکز میسیاف کا وہ قلعہ تھا جہاں راشد الدین سنان حکومت کرتے تھے — ایسا پراسرار شخص جسے صلیبی مؤرخین خوف کے عالم میں “پہاڑ کا بوڑھا” کہتے تھے، اور جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کے فدائی اس کے ایک اشارے پر خود کو بھی قتل کر سکتے تھے۔
ان کے فدائی، جو موت سے بے پروا ہو کر اپنے مشن پر نکلتے، برسوں تک اپنا اصل مقصد چھپائے، کسی درباری، کسی محافظ، یا کسی خادم کے بھیس میں اپنے ہدف کے قریب ترین حلقے میں داخل ہو جاتے تھے۔ پہلی کوشش، 1175ء: بعض روایات کے مطابق حلب کے محاصرے کے دوران ایک فدائی ان کے گرد موجود افراد میں گھل مل جانے میں کامیاب ہو گیا اور چھپائے ہوئے خنجر سے وار کر کے انہیں زخمی کر دیا — کامیابی بس چند قدم کی دوری پر تھی، مگر ایک پاس کھڑے محافظ نے عین موقع پر آگے بڑھ کر خالی ہاتھ سے خنجر روک لیا اور ان کی جان محفوظ رہی۔

دوسری کوشش، 1176ء: اگلے برس نزاریوں نے پھر زور آزمایا، اس مرتبہ میسیاف کے آس پاس صلاح الدین کے اپنے خیمے میں۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک صبح جب وہ جاگے تو ان کے بستر کے قریب ایک خنجر اور ایک دھمکی آمیز پیغام پڑا ملا — گویا یہ پیغام دینے کے لیے کہ “ہم جب چاہیں، تمہیں ختم کر سکتے ہیں۔” اس تفصیل کی مخصوص جزئیات (جیسے خنجر کی نوعیت، یا ساتھ رکھی ہوئی گرم روٹیوں کی روایت جو بعض کہانیوں میں ملتی ہے) مختلف روایتوں میں مختلف طرح سے ملتی ہیں، لہٰذا انہیں قطعی حقیقت سمجھنے کے بجائے ایک عام طور پر دہرائی جانے والی روایت ہی سمجھنا مناسب ہے۔ اس رات کے بعد ان کی نیند پھر کبھی پہلے جیسی بے فکر نہ ہو سکی — کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے خیمے کے گرد ایک حفاظتی دائرہ بنوا لیا جس میں صرف انتہائی قابلِ اعتماد محافظ ہی داخل ہو سکتے تھے۔
اس کے بعد کے مرحلے میں صلاح الدین نے میسیاف کا باقاعدہ محاصرہ کیا، جس میں انہوں نے قلعے کے باغات اور زرعی زمینوں کو تباہ کرنا شروع کیا تاکہ نزاریوں کو معاشی طور پر دباؤ میں لایا جا سکے۔ مگر چند ہی دنوں میں، بغیر کسی واضح فوجی وجہ کے، صلاح الدین نے اچانک محاصرہ اٹھا کر واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ اس اچانک، غیر متوقع فیصلے کی وجہ تاریخ میں واضح طور پر بیان نہیں ہوتی، مگر کئی مؤرخین کا خیال ہے کہ یہ راشد الدین سنان کے ساتھ کسی خفیہ، رات کی تاریکی میں ہونے والے مصالحتی مذاکرات کا نتیجہ تھا۔ دو ایسی طاقتیں جو ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کر چکی تھیں، آخرکار ایک ساتھ کھڑی ہو گئیں — کیونکہ دونوں کا اصل دشمن اب صلیبی افواج بن چکا تھا۔
وہ دن جب فاتح شکست کھا کر اونٹ پر بھاگا
1177ء میں رملہ کے قریب منتگساد کے مقام پر، صلاح الدین کی بڑی فوج کو یروشلم کے نوعمر اور علیل بادشاہ بالڈوِن چہارم — جو کوڑھ کے مرض میں گرفتار تھے اور تاریخ میں “کوڑھی بادشاہ” کے لقب سے مشہور ہیں — کی ایک نسبتاً چھوٹی فوج نے اچانک حملہ کر کے بری طرح شکست دے دی۔ یہ ناکامی ان کے لیے غیر معمولی طور پر سخت دھچکا ثابت ہوئی، کیونکہ بالڈوِن ایک نوجوان، جسمانی طور پر کمزور بادشاہ تھا، جسے اکثر صلیبی کمانڈر خود بھی سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے۔
اس شکست کی وجہ بھی دلچسپ ہے: صلاح الدین کی فوج، فتح کے یقین میں، اپنی صفیں بکھیر کر لوٹ مار اور چھاپہ مار کارروائیوں میں منتشر ہو چکی تھی۔ عین اسی لمحے، جب فوج سب سے زیادہ بے ترتیب تھی، بالڈوِن کی صلیبی فوج نے، صلیبِ مقدس کا ایک ٹکڑا آگے کیے، اچانک حملہ کر دیا۔ فوج بکھر گئی، صفیں ٹوٹ گئیں، اور خود صلاح الدین کی جان خطرے میں پڑ گئی۔ بعض روایات کے مطابق وہ اپنی شکست خوردہ فوج سے الگ ہو کر ایک تیز رفتار اونٹ (یا اونٹنی) پر سوار ہو کر مصر کی جانب نکل گئے۔ “دن رات بلا توقف سفر” والی بات ایک مشہور روایت ہے، جس کی مستند تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے — مگر بنیادی واقعہ، یعنی ایک بڑی شکست اور صلاح الدین کا بمشکل جان بچا کر نکلنا، تاریخی طور پر خاصا مستند ہے۔
یہ تصویر اس فاتحانہ تصور سے مختلف ہے جو عام طور پر صلاح الدین کے بارے میں پیش کیا جاتا ہے — یہ ایسا انسان تھا جو تھکن، خوف اور شکست کے احساس کے ساتھ ریت پر بھاگ رہا تھا، یہ جانتے ہوئے کہ اگر پکڑا گیا تو اس کی پوری سیاسی حیثیت، شاید اس کی جان بھی، ختم ہو جائے گی۔
شکست کا بدلہ — مرج عیون کی فتح
منتگساد کی ذلت کے بعد صلاح الدین کے لیے سب سے بڑا سوال یہ تھا: کیا ان کی فوجی ساکھ ہمیشہ کے لیے مجروح ہو چکی ہے؟ کیا ان کے زیرِ اثر امرا اب ان کی قیادت پر شک کرنے لگیں گے؟ جواب 1179ء میں آیا۔ مرج عیون کے مقام پر صلاح الدین نے صلیبی فوج کو ایک فیصلہ کن، تباہ کن شکست دی، جس نے ان کی فوجی حیثیت کو دوبارہ، اور پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی سے، بحال کر دیا۔ اسی مہم کے دوران انہوں نے جیکب کے پل پر زیرِ تعمیر صلیبی قلعے “چاستلیت” کا محاصرہ بھی کیا — یہ قلعہ دمشق کی طرف جانے والے اہم راستے پر تعمیر ہو رہا تھا اور صلاح الدین کے لیے ایک براہِ راست تزویراتی خطرہ تھا۔
گھیراؤ کے دوران صلاح الدین نے قلعے کے محافظوں کے سامنے امان کی شرط رکھی — ہتھیار رکھ دو تو جان بچ جائے گی۔ لیکن محافظوں نے، غالباً جلد مدد پہنچنے کی توقع پر انہوں نے یہ پیشکش مسترد کر دی۔ بالآخر جب قلعہ فتح ہو گیا تو زندہ بچ جانے والے محافظوں کو موت کی سزا دی گئی۔ یہ واقعہ ان کی تاریخ کے اس خاص پہلو کو نمایاں کرتا ہے جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے: ان کی نرمی ایک سیاسی اور عسکری حکمتِ عملی کا حصہ تھی، ایک غیر مشروط، ہر حال میں برقرار رہنے والی عادت نہیں — جب انہیں لگا کہ مزاحمت نے ان کی پیشکش کی توہین کی ہے، تو ان کا ردعمل سخت تھا۔
1182ء — شام سے ساحل تک ایک بڑی مہم
اگلے چند برسوں میں صلاح الدین نے ایک وسیع، مسلسل مہم چلائی جو بلادِ شام، اردن کے پار کے علاقوں، گلیلی اور بیروت تک پھیلی۔ اسی مہم کا ایک حصہ بیلوویر کے قلعے کے خلاف معرکہ بھی تھا۔ یہ کسی ایک معرکے پر مبنی منصوبہ نہیں تھا، بلکہ مخالف قوت پر مسلسل دباؤ قائم رکھنے کی تدبیر تھی — صلیبی سلطنت کے گرد گھیرا آہستہ آہستہ، مگر مستقل مزاجی سے تنگ کرنے کا ایک صبر آزما عمل، جو ظاہر کرتا ہے کہ 1187ء کی فتح کسی اچانک طوفان کی طرح نہیں آئی، بلکہ برسوں کی مسلسل، تھکا دینے والی، اکثر غیر ڈرامائی مہمات کا نتیجہ تھی۔
حلب — وہ شہر جس کے بغیر حطین ممکن نہیں تھا
شام کی سیاست میں سب سے بڑی باقی ماندہ رکاوٹ حلب تھا — ایسا شہر جو اپنی مضبوط دیواروں اور سخت گیر زنگی حکمرانوں کی وجہ سے برسوں تک صلاح الدین کی گرفت سے باہر رہا۔ یہ شہر خود کو شام کی “اصل، جائز” زنگی وراثت کا محافظ سمجھتا تھا، اور صلاح الدین کو باہر سے آنے والا مصری فاتح سمجھتا تھا، جس کا شام کی مٹی سے کوئی حقیقی رشتہ نہیں۔

1183ء میں سیاسی و فوجی دباؤ کی ایک لمبی مہم، کئی بے نتیجہ مذاکرات، اور آخر کار ایک کامیاب سمجھوتے کے بعد حلب صلاح الدین کے زیرِ نگیں آ گیا۔ اس کامیابی کو معمولی سمجھنا درست نہیں — یہ شام کے اتحاد کا آخری بڑا، سب سے مشکل ٹکڑا تھا۔ حلب کے بغیر، صلاح الدین کے پاس وہ مکمل، متحد شمالی محاذ کبھی نہ ہوتا جو 1187ء میں صلیبیوں کے خلاف ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر استعمال ہوا — کیونکہ حلب کی افرادی قوت اور اس کی تزویراتی پوزیشن، دونوں، حطین کی مہم کے لیے ناگزیر ثابت ہوئیں۔
موصل — آخری ٹکڑا جو جگہ پر بیٹھا
حلب کے بعد بھی شمالی عراق میں موصل کے زنگی حکمران ایک خودمختار قوت کے طور پر موجود رہے، اور وہ بھی صلاح الدین کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خائف تھے۔ 1185-86ء میں صلاح الدین نے، مسلسل فوجی دباؤ، کئی محاصروں، اور ساتھ ساتھ چلتے سیاسی مذاکرات کے امتزاج سے، موصل کو بھی اپنے زیرِ اثر لانے میں کامیابی حاصل کی — اگرچہ یہ باقاعدہ الحاق نہیں تھا بلکہ زیادہ تر ایک سیاسی سمجھوتہ اور نمائشی تابعداری تھی، جس کے تحت موصل کے حکمران نے خطبے اور سکّے میں صلاح الدین کی برتری مان لی۔
اس طرح، تقریباً ایک دہائی کی مسلسل، صبر آزما سیاست مکمل ہوئی: مصر، شام اور شمالی عراق، پہلی بار، ایک ہی قیادت کے تحت ایک محاذ کے طور پر کھڑے تھے۔ اب جا کر صلاح الدین پوری توجہ اس دشمن کی طرف مرکوز کر سکتے تھے جس کے خلاف کارناموں کی بدولت ان کا نام ہمیشہ کے لیے تاریخ میں زندہ رہنے والا تھا۔
لیکن ایک سوال باقی رہتا ہے: ایک شخص جو پندرہ سال تک مسلسل میدانِ جنگ میں رہا، گھوڑے کی پیٹھ پر محاصروں سے محاصروں تک سفر کرتا رہا — کیا اس کے پاس واقعی اتنا وقت تھا کہ وہ اپنے پیچھے، تلوار کے علاوہ، کچھ اور بھی چھوڑ جائے؟
تلوار کے ساتھ قلم
فاطمی خلافت کا باقاعدہ خاتمہ تو ایک جملے میں ہو گیا تھا — خطبے سے ایک نام ہٹا کر دوسرا لکھ دیا گیا۔ مگر وہ پوری نسل، جس نے دو صدیاں اسماعیلی شیعہ عقیدے کے سائے میں گزاری تھیں، ایک رات میں اپنی سوچ نہیں بدل سکتی تھی۔ صلاح الدین نے اس الجھن کا حل لشکر کے بجائے درس گاہوں میں ڈھونڈا — قاہرہ میں سنی مدارس کا ایک نیٹ ورک کھڑا کیا، جس کے اخراجات کے لیے مستقل وقف جائیدادیں مختص کیں، تاکہ یہ ادارے ان کی اپنی زندگی کے بعد بھی چلتے رہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو انہیں محض ایک کامیاب جرنیل سے الگ کرتا ہے: ایک فوج ایک نسل میں شکست کھا سکتی ہے، مگر ایک مضبوطی سے رکھی گئی نظریاتی بنیاد نسلوں تک قائم رہتی ہے۔
وہ شہزادہ جس نے مکہ اور مدینہ پر حملے کا خواب دیکھا
جب مسلم محاذ مکمل طور پر متحد ہو گیا تو سامنے ایک ایسا حریف باقی رہ گیا جو کسی بھی امن معاہدے کا پاس نہیں رکھتا تھا، یعنی کرک کے صلیبی قلعے کا حکمران رینالڈ آف شاتیون، جس کی نظر میں اس کی حدود سے گزرنے والا ہر تجارتی اور زیارتی قافلہ ایک آسان اور نفع بخش شکار تھا۔ اس نے بارہا مسلمان قافلوں کو لوٹا اور قتل کیا، حتیٰ کہ جب دونوں فریقوں کے درمیان باقاعدہ صلح موجود ہوتی۔ ہر نئی خلاف ورزی کے ساتھ صلاح الدین کے صبر کا پیمانہ مزید بھرتا گیا، مگر وہ، سیاسی وجوہات کی بنا پر، فوری طور پر مکمل جنگ کا اعلان کرنے سے گریز کرتے رہے۔
1183ء کے آس پاس اس نے ایسا قدم اٹھایا جس نے پوری مسلم دنیا کو لرزا دیا: اس نے بحیرہ احمر پر جہازوں کا ایک بیڑا تیار کروایا، جسے پہلے ٹکڑوں کی صورت میں خشکی کے راستے بحیرۂ احمر کے کنارے لے جایا گیا اور وہاں دوبارہ جوڑا گیا — یہ نہایت مہنگی اور پیچیدہ فوجی کارروائی تھی۔ اس بیڑے کا ہدف حجاز کی سرزمین پر یلغار تھا۔ یہ مہم تاریخ میں درج شدہ واقعہ ہے؛ البتہ “روضۂ مبارک کی بے حرمتی کی دھمکی” کی مخصوص تفصیل مختلف روایتوں میں مختلف درجے کی مستند ٹھہرتی ہے، اور اسے اسی احتیاط کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ بنیادی خطرہ، یعنی اسلام کے مقدس ترین مقامات کی طرف ایک مسلح بیڑے کی پیش قدمی، اپنی جگہ ایک سنگین اور دستاویزی واقعہ ہے۔ صلاح الدین کے بھائی العادل کی قیادت میں مسلمان افواج نے اس بیڑے کو حجاز تک پہنچنے سے پہلے ہی روک کر تباہ کر دیا، اور پکڑے گئے جنگجوؤں میں سے بعض کو، بعض روایات کے مطابق، خاص طور پر منیٰ میں قربانی کے دنوں میں سزائے موت دی گئی — ایک علامتی سزا۔
1187ء کے آغاز میں رینالڈ نے آخری بار، اور اس بار ناقابلِ درگزر طریقے سے، صلح کا معاہدہ پامال کیا — اس نے مسلمانوں کے ایک بڑے تجارتی قافلے کو لوٹ لیا، جس میں صلاح الدین کے اپنے خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد بھی تھے، اور قیدیوں کو چھوڑنے سے دو ٹوک انکار کر دیا، حالانکہ خود صلاح الدین نے، اور بعض روایات کے مطابق یروشلم کے بادشاہ گائے نے بھی، قافلے کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ رینالڈ کا جواب تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر کسی سے اجازت نہیں مانگتا۔ یہی وہ آخری توہین تھی جس نے جنگ کو ناگزیر بنا دیا۔ صلاح الدین نے قرآن پر قسم کھائی کہ اگر وہ کبھی رینالڈ کو اپنے ہاتھ میں پائیں گے، تو خود اپنے ہاتھ سے اسے قتل کریں گے۔
کریسون کا معرکہ — حطین سے پہلے کی چنگاری
1187ء کے اوائل میں ہی، حطین سے کچھ عرصہ پہلے، ایک چھوٹا مگر اہم معرکہ ہوا — کریسون کا معرکہ — جس میں صلاح الدین کے دستوں نے ایک چھوٹے صلیبی فوجی دستے کو شکست دی، جس میں ٹیمپلر اور ہسپتالیہ راہب-جنگجوؤں کی بڑی تعداد مارے گئے، بشمول ٹیمپلر گرینڈ ماسٹر کے قریبی ساتھی۔ اس ہار سے صلیبی سلطنت کی عسکری قیادت پہلے ہی ڈگمگا گئی، اور بادشاہ گائے آف لوزینیان اور رینالڈ کے درمیان اندرونی کشیدگی اور بڑھ گئی — اس پس منظر کو جانے بغیر حطین کی تباہ کن غلطی سمجھ میں نہیں آتی۔
حطین — پیاس، دھوکہ، اور ایک سلطنت کا ٹوٹنا
جولائی 1187ء۔ صلاح الدین نے طبریہ شہر کا محاصرہ کر لیا — جانتے ہوئے کہ یہ ایک جال ہے جو صلیبی فوج کو کھلے میدان میں نکال لائے گا۔ طبریہ کی حکمران، کاؤنٹیس ایشیوا، ریمنڈ آف طرابلس کی بیوی تھیں، اور وہ خود شہر کے اندر محصور تھیں۔ یروشلم کی صلیبی قیادت میں شدید اختلاف پیدا ہوا۔
ریمنڈ آف طرابلس، جو میدانِ جنگ کے سب سے تجربہ کار صلیبی امرا میں سے ایک تھے اور جن کی اپنی بیوی طبریہ میں محصور تھی، نے ایک حیران کن مشورہ دیا: فوری حملے کے بجائے صبر کرو۔ بعض روایات کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے گرنے کو برداشت کر لیں گے، مگر پوری فوج کو پیاس میں مروانا گوارا نہیں کریں گے — کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جولائی کی شدید گرمی میں ہزاروں سپاہیوں اور گھوڑوں کو پانی کے بغیر طویل سفر پر نکالنا تباہی کو دعوت دینا ہے۔ لیکن رینالڈ اور گرینڈ ماسٹر آف دی ٹیمپلر جیسے جنگ پسند امرا نے کمزور، فیصلہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار بادشاہ گائے کو قائل کر لیا کہ فوری طور پر طبریہ کی مدد کے لیے پیش قدمی کی جائے۔
یہی وہ فیصلہ تھا جس کا صلاح الدین کو انتظار تھا۔ انہوں نے پہلے سے تمام قریبی پانی کے ذرائع پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ جب صلیبی فوج، ہزاروں پیادہ اور گھڑسوار، جھلستی گرمی میں، بغیر پانی کے، حطین کی پہاڑیوں کی طرف بڑھی، تو صلاح الدین کے دستوں نے انہیں گھیر لیا، خشک جھاڑیوں کو آگ لگا دی تاکہ دھواں اور گرمی ان کی پیاس اور بے بسی کو مزید بڑھا دے، اور مسلسل تیر اندازی سے ان کی صفوں کو توڑتے رہے۔ صلیبی فوج، پیاس اور تھکن سے نڈھال، حطین کے دو پہاڑی سینگوں کے درمیان محصور ہو کر بکھر گئی۔ کئی سپاہی، پاگل پن کی حد تک پیاسے، اپنی ہی صفوں سے نکل کر مسلمان دستوں کی طرف بھاگے، صرف اس امید پر کہ انہیں پانی کا ایک گھونٹ مل جائے۔
جنگ کے ایک نازک موڑ پر، جب بادشاہ گائے اپنی باقی ماندہ فوج کے ساتھ ایک پہاڑی پر آخری مزاحمت کی تیاری کر رہے تھے، صلاح الدین کے بھتیجے تقی الدین عمر نے، بعض روایات کے مطابق، اپنے دستوں کو جلد بازی میں آگے بڑھا دیا — ایسا اقدام جو، اگر بروقت سنبھالا نہ جاتا، صلیبی فوج کو فرار کا موقع دے سکتا تھا۔ آخرکار جنگ فیصلہ کن طور پر صلاح الدین کے حق میں ختم ہوئی: بادشاہ گائے، رینالڈ، اور کئی بڑے صلیبی رہنما قید کر لیے گئے، اور “صلیبِ حقیقی” — صلیبیوں کا مقدس ترین نشان — صلاح الدین کے ہاتھ آ گیا۔

بعض روایات کے مطابق جب قیدی صلاح الدین کے خیمے میں لائے گئے، پیاس اور تھکن سے نڈھال بادشاہ گائے کو ٹھنڈا گلاب جل پلایا گیا۔ گائے نے پیالہ رینالڈ کی طرف بڑھایا، مگر صلاح الدین نے فوراً مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشکش بادشاہ کی طرف سے تھی، رینالڈ کی طرف سے نہیں — اس لیے وہ خود رینالڈ کو کوئی امان نہیں دے رہے۔ اس کے بعد کے مرحلے میں، بعض روایات کے مطابق، صلاح الدین نے رینالڈ سے پوچھا کہ اس نے بار بار معاہدے کیوں توڑے، اور جب رینالڈ نے بے پروائی سے جواب دیا، تو صلاح الدین نے خود اپنی تلوار سے اس کا سر قلم کر دیا — اس طرح انہوں نے اپنی کھائی ہوئی قسم کو پورا کیا۔ صرف ایک ہی دن میں صلیبی مملکتِ یروشلم کی فوجی طاقت تقریباً ختم ہو گئی۔
حطین کے بعد — ایک سلطنت چند ہفتوں میں کیسے بکھر گئی
حطین کی تباہی کے بعد یروشلم کی صلیبی سلطنت کے پاس اپنے شہروں کی حفاظت کے لیے عملی طور پر کوئی فوج نہیں بچی تھی۔ صلاح الدین نے اس موقع کو ضائع نہیں کیا۔ اگلے چند ہفتوں میں، تقریباً بلا مزاحمت، عکہ، ناصرہ، قیساریہ، یافا، صیدا، بیروت اور متعدد دیگر ساحلی اور اندرونی شہر یکے بعد دیگرے ان کے قبضے میں آتے چلے گئے۔ ہر شہر کے سامنے صلاح الدین کا پیغام ایک ہی تھا: ہتھیار ڈال دو اور امان پاؤ، یا مزاحمت کرو اور فتح کے بعد کی سختی کا سامنا کرو۔ زیادہ تر گورنروں نے، حطین کی خبر سن کر، پہلا راستہ چنا۔ یہ پیش قدمی غیر معمولی تیزی اور تنظیم کے ساتھ آگے بڑھی جس نے صرف چند ہفتوں میں یروشلم کی سلطنت کو تقریباً نقشے سے مٹا دیا۔
تاہم، تمام شہروں نے مزاحمت ترک نہیں کی۔
صور — وہ شہر جس نے حطین کے بعد بھی صلاح الدین کو روک دیا
جب صلیبی ریاست ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی، انہی دنوں ساحلی شہر صور میں ایک نیا صلیبی امیر کونراڈ آف مونٹفیرات اتفاقیہ طور پر بذریعہ بحری جہاز آن پہنچا۔ بعض روایات کے مطابق جب اس کے جہاز نے عکہ کی بندرگاہ کے قریب لنگر ڈالا، تو اسے معلوم نہیں تھا کہ شہر پہلے ہی صلاح الدین کے ہاتھ آ چکا ہے — ایک مسلمان کشتی نے اسے خبردار کیا، اور وہ بروقت موڑ کر صور کی طرف نکل گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے شہر کی دفاعی کمان سنبھالی، مایوس شہریوں میں نیا جوش بھرا، اور مزاحمت کا اعلان کر دیا۔
صلاح الدین نے صور کا محاصرہ کیا، مگر شہر کی مضبوط قدرتی پوزیشن — ایک تنگ زمینی پٹی سے جڑا جزیرہ نما، جسے سمندر سے گھرا ہونے کی وجہ سے صرف ایک طرف سے حملہ کیا جا سکتا تھا — اور کونراڈ کی بھرپور، پرعزم مزاحمت کے باعث وہ اسے فتح نہ کر سکے۔ کئی حملے ناکام ہوئے، اور آخرکار صلاح الدین نے، سردیوں کے قریب آنے اور اپنی فوج کی تھکن کو دیکھتے ہوئے، محاصرہ اٹھا لیا۔
بظاہر محدود دکھائی دینے والی یہ ناکامی بعد کے حالات پر گہرا اثر ڈالنے والی ثابت ہوئی۔ صور ہی وہ آخری ساحلی ٹھکانا تھا جو ہاتھ سے نہ نکلا، اور آگے چل کر یہی بندرگاہ یورپ سے آنے والی تیسری صلیبی مہم کی فوجوں کے لیے اترنے اور نئے سرے سے صف بندی کرنے کی محفوظ پناہ گاہ بنی۔ اگر صور بھی ہاتھ سے نکل جاتا، تو ممکن تھا کہ تیسری صلیبی جنگ اس صورت میں کبھی سامنے ہی نہ آتی۔
بیت المقدس — اور وہ صبح جب مسجدِ اقصیٰ میں دوبارہ اذان گونجی
ستمبر 1187ء میں صلاح الدین نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا۔ شہر کے دفاع کی قیادت ایک صلیبی امیر، بالیان آف ایبلن، کر رہے تھے، جو حطین کی جنگ سے بمشکل بچ نکلے تھے اور صرف ایک حفاظتی پاس کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے تھے کہ اپنی بیوی کو لے کر چلے جائیں گے — مگر شہر کے بے یارومددگار باشندوں کی درخواست پر رک گئے اور دفاع کی کمان سنبھال لی۔ شہر میں فوجی طاقت تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن ہزاروں عام لوگ، جن میں مرد، خواتین، بچے اور دوسرے شہروں سے ہجرت کر کے آنے والے پناہ گزین شامل تھے، وہیں پناہ لیے ہوئے تھے۔
کئی دن کی بھاری بمباری اور دیوار توڑنے کی کوششوں کے بعد، جب شہر کی دیوار میں شگاف پڑنا شروع ہوا، تو بالیان نے خود صلاح الدین کے پاس ایک پیغام بھیجا، جس کا مضمون کئی مؤرخین کے ہاں تقریباً یکساں ملتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق پیغام کا خلاصہ کچھ یوں تھا:

بالیان نے سلطان کو خبردار کیا کہ شہر میں بے حساب لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں جو اس آس پر لڑائی سے رکے ہوئے ہیں کہ انہیں جان بخشی مل جائے گی۔ لیکن اگر انہیں یقین ہو گیا کہ موت سے بچاؤ ممکن نہیں، تو وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے بیوی بچوں کو ختم کر دیں گے، اپنی دولت اور املاک کو آگ لگا دیں گے، قبۃ الصخرہ اور مسجدِ اقصیٰ سمیت تمام مقدس مقامات ڈھا دیں گے، اپنے پاس موجود پانچ ہزار مسلمان قیدیوں کو قتل کر دیں گے اور مویشیوں تک کو نہ چھوڑیں گے۔ اس کے بعد وہ آخری آدمی تک سلطان کی فوج سے لڑیں گے، اور سلطان کے حصے میں نہ مال آئے گا نہ کوئی قیدی — صرف ایک اجڑا ہوا شہر۔
اس دھمکی نے صلاح الدین کو سچ مچ الجھن میں ڈال دیا: ان کی سب سے بڑی خواہش، یعنی بیت المقدس کی مقدس عمارتوں کو صحیح سلامت واپس لینا، اسی بربادی کی نذر ہو سکتی تھی۔ بعض روایات کے مطابق صلاح الدین نے اپنے مشیروں سے مشورہ کیا، اور آخرکار مذاکرات کا راستہ اپنایا۔
2 اکتوبر 1187ء کو شہر نے پرامن طور پر ہتھیار ڈال دیے — ایسی تاریخ جو، اتفاق سے، اسی مہینے کے قریب تھی جب تقریباً نوے سال پہلے، 1099ء میں، صلیبیوں نے خود بیت المقدس فتح کرتے وقت ایک خوفناک قتلِ عام کیا تھا، جس میں روایات کے مطابق ہزاروں مسلمان اور یہودی باشندے قتل کر دیے گئے تھے۔ صلاح الدین نے وہی غلطی نہیں دہرائی۔ عام شہریوں کو فدیہ ادا کر کے جان بخشی کا حق دیا گیا، اور ان کے لیے جو فدیہ ادا نہ کر سکے، صلاح الدین اور ان کے بھائی العادل نے اپنی جیب سے بے شمار لوگوں کی رہائی کی رقم ادا کی۔

اور پھر وہ لمحہ آیا جس کا پورا عالمِ اسلام نوے سال سے انتظار کر رہا تھا۔ جس مسجدِ اقصیٰ کو صلیبیوں نے اپنے زمانۂ تسلط میں گرجا اور ٹیمپلر شورویروں کا صدر مقام بنا رکھا تھا، اسے از سرِ نو پاکیزہ کیا گیا — در و دیوار اور فرش کو عرقِ گلاب سے دھویا گیا، صلیبی نشانات اتار دیے گئے، اور وہ منبر، جسے نور الدین زنگی نے برسوں پہلے اسی دن کے لیے، امید کے ساتھ، حلب میں پہلے سے تیار کروا رکھا تھا — مگر اپنی زندگی میں خود بیت المقدس کی فتح دیکھنے سے پہلے ہی انتقال کر گئے تھے — مسجد میں نصب کیا گیا۔ جمعہ کے دن، پہلی بار نوے سال میں، مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں اذان کی آواز گونجی، اور نماز باجماعت ادا کی گئی۔ اس کامیابی کی اہمیت محض فوجی غلبے تک محدود نہیں تھی — یہ ایسی علامتی بحالی تھی جس کا انتظار ایک پوری نسل نے کیا تھا۔
عکہ کا طویل محاصرہ اور ایک المناک قتلِ عام
بیت المقدس کی فتح نے یورپ کو جھنجھوڑ دیا، اور اس کا ردعمل تیسری صلیبی جنگ کی صورت میں آیا۔ عکہ شہر، جو حطین کے بعد صلاح الدین کے ہاتھ آیا تھا، اب دوبارہ محاذِ جنگ بن گیا — یورپی افواج نے شہر کا محاصرہ کر لیا، اور یہ محاصرہ تقریباً دو سال تک جاری رہا، جس کے دوران محاصرہ کرنے والی صلیبی فوج خود بھی باہر سے صلاح الدین کی امدادی فوج کے گھیرے میں رہی — ایک عجیب صورتحال جس میں محاصرہ کرنے والے خود محصور تھے۔
جب 1191ء میں شہر نے آخرکار ہتھیار ڈالے، تو معاہدے میں قیدیوں کے تبادلے، ایک مقررہ رقم کی ادائیگی، اور “صلیبِ حقیقی” کی واپسی طے پائی۔ لیکن ادائیگی میں تاخیر ہوئی، اور رچرڈ شیردل نے ایسا فیصلہ کیا جو تاریخ کے متنازع ترین صلیبی اقدامات میں سے ایک بنا: بعض روایات کے مطابق تقریباً 2,700 مسلمان قیدیوں کو عکہ کے باہر قتل کر دیا گیا۔ یہ قتلِ عام صلاح الدین کی فوج کے قریب، ان کی نظروں کے سامنے والے علاقے میں ہوا — اگرچہ اسے لفظی طور پر یہ کہنا کہ صلاح الدین خود، آنکھوں کے سامنے، بے بس کھڑے دیکھ رہے تھے، ایک ڈرامائی مبالغہ ہو سکتا ہے۔ بنیادی واقعہ — قیدیوں کا قتل، اور اس کا مسلمان فوج کے مورال پر گہرا اثر — تاریخی طور پر مستند ہے۔
ارسوف — جب رچرڈ نے صلاح الدین کو شکست دی
عکہ کے بعد رچرڈ نے اپنی فوج کو ساحل کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف، یافا کی طرف، نہایت منظم انداز میں آگے بڑھایا — فوج ایک قریبی، منظم بندوبست میں سفر کرتی، بیڑا ساحل کے ساتھ ساتھ رسد پہنچاتا رہتا، اور فوج کے کناروں پر ہلکے دستے صلاح الدین کی مسلسل ہراساں کرنے والی کارروائیوں کو جذب کرتے رہتے۔ صلاح الدین نے، اسی طرح جیسے حطین میں کیا تھا، مسلسل حملوں سے صلیبی فوج کو اکسانے اور اپنی صفیں توڑنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔
ارسوف کے مقام پر آخرکار ایک بڑا معرکہ ہوا — اور اس بار نتیجہ صلاح الدین کے حق میں نہیں نکلا۔ رچرڈ کی فوج نے، غیر معمولی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اشتعال انگیزیوں کے باوجود اپنی صفیں برقرار رکھیں، اور جب حملہ کرنے کا صحیح وقت آیا تو ایک منظم جوابی حملہ کیا جس نے مسلمان دستوں کو پسپا کر دیا۔
اس ہار سے اس تحریر کا بنیادی نکتہ ایک بار پھر سامنے آتا ہے: صلاح الدین بلاشبہ عظیم تھے، مگر ناقابلِ تسخیر نہیں تھے۔ منتگساد کی مانند ارسوف بھی یہی یاد دلاتا ہے کہ ان کی تاریخ فتوحات کی ایک سیدھی لکیر نہیں، بلکہ جیت اور ہار کے مسلسل تبادلے کی داستان ہے۔
وہ حیران کن تجویز — ایک انگریز شہزادی اور صلاح الدین کے بھائی کی شادی
1191-92ء کے مذاکرات کے دوران، جب دونوں فریق جنگ کی تھکن محسوس کرنے لگے، تو ایک حیران کن سیاسی تجویز سامنے آئی — ایسی تجویز جو آج بھی کئی لوگوں کو معلوم نہیں۔ رچرڈ شیردل نے، اپنے سفیروں کے ذریعے، صلاح الدین کے بھائی العادل کو ایک پیشکش بھیجی: اگر العادل اسلام چھوڑے بغیر بھی (ایک عجیب و غریب شرط جو بعد میں خود رچرڈ کے اپنے مذہبی مشیروں کے دباؤ میں بدل گئی) رچرڈ کی بہن، جوآن، سے شادی کرے، تو دونوں مل کر بیت المقدس اور اس کے گرد و نواح پر بادشاہ اور ملکہ کے طور پر حکومت کریں گے — ایسی مشترکہ سلطنت جس میں مسلمان اور عیسائی دونوں، نظریاتی طور پر، ایک ہی حکمران جوڑے کے ماتحت رہتے۔
صلاح الدین نے، بعض روایات کے مطابق، اس تجویز میں دلچسپی ظاہر کی اور اسے سنجیدگی سے زیرِ غور لایا — یہ ایسا سیاسی حل تھا جو برسوں کی جنگ کا خاتمہ کر سکتا تھا۔ لیکن یہ منصوبہ دو بڑی رکاوٹوں سے ٹکرا گیا: جوآن، جو پہلے سسلی کی ملکہ رہ چکی تھیں، نے سختی سے انکار کر دیا کہ وہ کسی مسلمان حکمران سے شادی کریں گی، اور دوسری طرف عیسائی مذہبی رہنماؤں اور صلیبی کیمپ کے کٹر عناصر نے بھی اس اتحاد کی شدید مخالفت کی۔ یوں یہ منصوبہ، اپنی تمام تر کشش کے باوجود، کاغذ سے آگے نہ بڑھ سکا، اور دونوں فریق ایک بار پھر میدانِ جنگ میں آ کھڑے ہوئے۔
یافا، اور وہ صلح جس میں دونوں فاتح بھی تھے اور دونوں ناکام بھی
1192ء میں یافا شہر کے گرد ایک بار پھر شدید لڑائی ہوئی — پہلے صلاح الدین کی افواج نے شہر پر دوبارہ قبضہ کیا، پھر رچرڈ نے سمندر کے راستے اچانک آ کر، تقریباً تنِ تنہا ساحل پر قدم رکھا اور برق رفتار جوابی حملے سے شہر دوبارہ چھین لیا — یہ واقعہ رچرڈ کی ذاتی دلیری کے مشہور قصوں میں شمار ہوتا ہے۔ دونوں فریق، تقریباً پانچ سال کی مسلسل جنگ کے بعد، تھک چکے تھے، اور کسی فیصلہ کن نتیجے کے بغیر، مذاکرات کی میز پر آنے پر رضامند ہوئے۔
صلحِ رملہ (یا صلحِ یافا) کے تحت طے پایا کہ بیت المقدس مسلمانوں کے پاس رہے گا، مگر عیسائی زائرین کو بغیر ہتھیار کے شہر میں داخل ہونے اور عبادت کرنے کی اجازت ہو گی۔ صلیبیوں نے ساحلی پٹی کا ایک تنگ، مگر اہم حصہ — صور سے یافا تک — اپنے پاس برقرار رکھا۔ رچرڈ کبھی بیت المقدس واپس نہ لے سکے، جس کے لیے وہ پورے یورپ سے سفر کر کے آئے تھے — کہا جاتا ہے کہ جب وہ شہر کے قریب پہنچے، تو انہوں نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ اس شہر کو دیکھنے کے لائق نہیں جسے وہ آزاد نہ کروا سکے۔ اور صلاح الدین بھی صلیبیوں کو ساحل سے مکمل طور پر بے دخل نہ کر سکے۔
یہاں ایک ضروری وضاحت کرنا مناسب ہوگا: روایت میں مشہور ہے کہ صلاح الدین نے بیمار رچرڈ کو پھل اور برف بھجوائی، اور ایک موقع پر ایک نیا گھوڑا بھی۔ یہ واقعات غالباً درست ہیں، مگر ایک غلط فہمی سے بچنا ضروری ہے: کئی مستند تاریخی جائزوں کے مطابق صلاح الدین اور رچرڈ کی کوئی مصدقہ، براہِ راست، آمنے سامنے ملاقات کبھی ثابت نہیں ہوئی۔ ان کا بیشتر رابطہ، بشمول یہ تحائف اور شادی کی تجویز، درمیانی سفیروں کے ذریعے ہوتا تھا — خاص طور پر صلاح الدین کے بھائی العادل کے توسط سے، جو دونوں فریقوں کے درمیان بار بار مذاکرات کار کے طور پر سامنے آئے، اور جن کے ساتھ رچرڈ کے ذاتی اور سیاسی تعلقات صلاح الدین سے کہیں زیادہ براہِ راست تھے۔
آخری دن — ایک سلطان، ایک خالی خزانہ، اور ایک قرض شدہ کفن
صلاح الدین کے قریبی ساتھی اور سوانح نگار قاضی بہاء الدین ابن شداد نے اپنی تحریروں میں بار بار ان کی بیماریوں اور جسمانی کمزوری کا ذکر کیا ہے۔ 1193ء کے اوائل میں، دمشق میں، ایک بخار نے انہیں جکڑ لیا جو پہلے جیسا نہیں تھا۔ بعض روایات کے مطابق، ان کی زندگی کے آخری دنوں میں ابن شداد ان کے پاس قرآن کی تلاوت کرتے رہے، خاص طور پر اللہ کی رحمت اور معافی سے متعلق آیات، اور صلاح الدین، نیم بے ہوشی کی حالت میں بھی، سر ہلا کر یہ ظاہر کرتے کہ وہ سن رہے ہیں اور متفق ہیں۔
باہر وہی شہر آباد تھا جسے انہوں نے تقریباً دو دہائیاں پہلے، 700 گھڑسواروں کے ساتھ جوا کھیل کر اپنے قبضے میں لیا تھا۔ ایک معروف روایت کے مطابق، جب ان کے قریبی ساتھی ان کی وفات کے بعد ان کا ذاتی خزانہ کھولنے پہنچے، تو وہاں اتنی رقم بھی موجود نہیں تھی کہ ایک عام آدمی کے کفن کا انتظام ہو سکے — کیونکہ برسوں تک انہوں نے اپنی ہر آمدنی خیرات، فوج، اور غریبوں پر لٹا دی تھی۔ بعض روایات کے مطابق ان کے اہلِ خانہ کو ان کے کفن کے لیے رقم قرض لینا پڑی۔
اسی واقعے سے جڑی ایک اور، بعد کی صدیوں میں مقبول ہونے والی روایت بھی ملتی ہے — اگرچہ اسے ایک مصدقہ تاریخی حقیقت کے بجائے ایک اخلاقی حکایت یا بعد کی زبانی روایت کے طور پر ہی لینا چاہیے: کہا جاتا ہے کہ صلاح الدین نے اپنی موت سے پہلے حکم دیا تھا کہ ان کی تدفین کے وقت ان کا کفن ایک نیزے پر لٹکا کر دمشق کی گلیوں میں پھرایا جائے، اور ایک منادی کرنے والا پکارے: “یہ ہے وہ سب کچھ جو صلاح الدین، مشرق کا فاتح، اپنی ساری بادشاہی میں سے اپنے ساتھ لے جا رہا ہے۔” چاہے یہ مخصوص واقعہ لفظی طور پر پیش آیا ہو یا نہ آیا ہو، یہ اس حقیقت کی ایک طاقتور عکاسی ہے جسے ان کے معاصر مؤرخین نے بار بار درج کیا: ایسا انسان جس نے مصر اور شام کی وسیع دولت پر حکومت کی، اپنے پیچھے اتنی بھی رقم نہ چھوڑی جتنی اس کے اپنے جسم کو ڈھانپنے کے لیے درکار تھی۔
اور پھر، جس طرح آندھی تھمنے کے بعد ریت اِدھر اُدھر بکھر جاتی ہے، اسی طرح وہ سلطنت بھی بکھر گئی جسے جوڑنے میں انہیں قریباً بیس برس صرف ہوئے تھے۔ ان کی وفات کے فوراً بعد ایوبی سلطنت ان کے بیٹوں اور بھائی کے درمیان تقسیم ہو گئی — اگرچہ ایوبی خاندان نے اس کے بعد کے مرحلے میں بھی مزید کئی دہائیوں تک مصر اور شام کے مختلف حصوں پر حکومت جاری رکھی۔
ہمارے لیے سبق
صلاح الدین کی زندگی کا خلاصہ ایک جملے میں کرنا ہو تو اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے: ان کی اصل عظمت حطین کی ایک دوپہر میں نہیں تھی — وہ تقریباً ایک دہائی کی صبر آزما، تھکا دینے والی سیاست میں تھی جو اس دوپہر کو ممکن بنانے کے لیے خرچ ہوئی۔
- بڑی فتح سے پہلے، اندرونی اتحاد ضروری ہے: صلیبیوں کو شکست دینے سے پہلے صلاح الدین کو حلب، موصل اور حماۃ کو اپنے ساتھ لانا پڑا — بیرونی دشمن سے پہلے اندرونی صف بندی۔
- سب سے بڑا موقع اکثر سب سے بڑے خطرے کے ساتھ آتا ہے: 700 سواروں کے ساتھ دمشق کا سفر ثابت کرتا ہے کہ محتاط رہنا ہمیشہ دانشمندی نہیں۔
- شکست خاتمہ نہیں: منتگساد اور ارسوف دونوں شکستیں تھیں، مگر دونوں کے بعد صلاح الدین نے دوبارہ کھڑے ہونے کا راستہ تلاش کیا۔
- دشمن کی غلطی نہ دہرانا بھی ایک فتح ہے: بیت المقدس کی پرامن فتح، 1099ء کے قتلِ عام کے برعکس، خود ایک طاقتور پیغام تھی۔
- مکمل کامیابی کم ہی نصیب ہوتی ہے: صور کا ڈٹ جانا اور صلحِ رملہ بتاتے ہیں کہ تاریخ کی بڑی سے بڑی جنگیں بھی عموماً نامکمل اور سمجھوتے پر ختم ہوتی ہیں۔
- عظمت کا پیمانہ دولت نہیں: ایسا حکمران جو اپنی دولت خیرات میں دے کر خالی ہاتھ مرا، یاد دلاتا ہے کہ اصل میراث خزانہ نہیں، بلکہ لوگوں کے دلوں میں جگہ ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
1۔ صلاح الدین نے شام کو کیسے متحد کیا؟
یہ تبدیلی یک دم واقع نہیں ہوئی تھی — یہ تقریباً ایک دہائی (1174-1186ء) کی سیاسی، عسکری اور سفارتی کوششوں کا نتیجہ تھا، جس میں حماۃ، حلب اور موصل پر گرفت شامل تھی۔
2۔ حطین کی جنگ اتنی فیصلہ کن کیوں تھی؟
صلاح الدین نے صلیبی فوج کو پانی کے ذرائع سے کاٹ دیا، اور پیاسی، تھکی ہوئی فوج کو کھلے میدان میں گھیر کر شکست دی۔
3۔ 1187ء میں بیت المقدس کی فتح کا انداز 1099ء سے کیسے الگ تھا؟
1099ء میں صلیبیوں نے شہر میں داخل ہو کر ایک خوفناک قتلِ عام کیا تھا۔ 1187ء میں صلاح الدین نے فدیے کے نظام کے تحت ایک نسبتاً پرامن، منظم انخلا کا راستہ اپنایا۔
4۔ کیا صلاح الدین اور رچرڈ شیردل کبھی آمنے سامنے ملے تھے؟
کسی مصدقہ براہِ راست ملاقات کا ثبوت نہیں ملتا۔ ان کا بیشتر رابطہ سفیروں، خصوصاً العادل کے ذریعے ہوتا تھا۔
5۔ رچرڈ نے العادل کے لیے کیا تجویز پیش کی تھی؟
اپنی بہن جوآن کی شادی العادل سے کروا کر بیت المقدس پر مشترکہ حکومت کی تجویز — جو آخرکار دونوں طرف کی مخالفت کے باعث ناکام ہو گئی۔
6۔ کون سا شہر صلاح الدین حطین کے بعد بھی فتح نہ کر سکے؟
صور — جہاں کونراڈ آف مونٹفیرات کی مزاحمت نے بعد میں تیسری صلیبی جنگ کے لیے ایک اہم اڈہ فراہم کیا۔
7۔ صلیبی جنگیں آخر کار کیسے ختم ہوئیں؟
1192ء کی صلحِ رملہ کے تحت بیت المقدس مسلمانوں کے پاس رہا، جبکہ صلیبیوں نے ساحلی پٹی کا ایک حصہ برقرار رکھا۔
اختتامیہ
صلاح الدین ایوبی کی اصل عظمت صرف حطین کی ایک دوپہر میں نہیں تھی۔ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے تقریباً ایک دہائی تک مصر، شام اور شمالی عراق کی منتشر مسلم طاقتوں کو سیاسی، عسکری اور انتظامی طریقوں سے ایک بڑے متحد محاذ میں تبدیل کیا، پھر 1187ء میں اس اکٹھی کی گئی طاقت کو صلیبی فوج پر استعمال کیا۔ اور فتح کے بعد بھی وہ ناقابلِ شکست نہیں رہے — صور بچ گیا، رچرڈ نے ارسوف میں کامیابی حاصل کی، یافا میں دوبارہ خونریز مقابلہ ہوا، ایک انوکھی شادی کی تجویز ناکام ہوئی، اور آخرکار 1192ء میں بیت المقدس مسلمانوں کے پاس رہتے ہوئے بھی صلیبی ساحلی ریاست باقی رہی۔ یہی نامکمل، پیچیدہ، تضادات سے بھرپور حقیقت — نہ کہ کوئی سادہ، یک طرفہ فتح کی کہانی — صلاح الدین کو تاریخ کی سب سے دلچسپ اور قابلِ فہم شخصیات میں سے ایک بناتی ہے۔
حوالہ جات (References)
- قاضی بہاء الدین ابن شداد — النوادر السلطانیۃ والمحاسن الیوسفیۃ
- عماد الدین اصفہانی — صلاح الدین کے عہد کی سیاسی و عسکری تاریخ
- ابن الاثیر — الکامل فی التاریخ
- Bernard Lewis — The Assassins: A Radical Sect in Islam اور Saladin and the Assassins
- Malcolm Cameron Lyons and D. E. P. Jackson — Saladin: The Politics of the Holy War
- Steven Runciman — A History of the Crusades
- World History Encyclopedia — Saladin اور اتحادِ محاذ سے متعلق مضامین
- 1911 Encyclopaedia Britannica — Saladin

Leave a Reply