پاکستان بمقابلہ سوویت یونین: وہ خفیہ جنگ جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا
یہ کوئی روایتی جنگ نہیں تھی جس میں دو ممالک کی افواج سرحدوں پر آمنے سامنے کھڑی ہوں۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جو نقشوں پر کہیں نظر نہیں آتی، مگر جس نے بیسویں صدی کی سب سے بڑی سپر پاور — سوویت یونین (Soviet Union) — کو گھٹنوں پر لا کھڑا کیا۔ یہ پاکستان اور سوویت یونین کے درمیان لڑی جانے والی خاموش، خفیہ جنگ کی کہانی ہے — ایک ایسی جنگ جس نے افغانستان کو کھنڈر بنا دیا، پاکستان کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا، اور جس کے زخم آج، چالیس سال بعد بھی، دونوں ممالک میں تازہ ہیں۔
خلاصہ — کب، کہاں، کیوں؟
کب: دسمبر 1979 سے فروری 1989 تک — پورے دس سال۔
کہاں: افغانستان کی سرزمین پر، مگر اس کی اصل کمانڈ اور سپلائی لائن پاکستان کے شہر پشاور اور ISI کے ہیڈکوارٹرز سے چلتی تھی۔
کیوں: سوویت یونین نے اپنی کٹھ پتلی کمیونسٹ حکومت بچانے کے لیے افغانستان پر قبضہ کیا۔ پاکستان کے لیے یہ سرحد پر موجود ایک وجودی خطرہ تھا، جبکہ امریکہ کے لیے یہ سرد جنگ میں کمیونزم کو روکنے کا موقع تھا — دونوں مقاصد نے مل کر پاکستان کو اس خفیہ جنگ کا مرکزی کردار بنا دیا۔
کیسے لڑی گئی: پاکستان اور امریکہ نے براہ راست فوج بھیجنے کی بجائے افغان مجاہدین کو ہتھیار، رقم اور تربیت فراہم کی — یعنی یہ ایک “پراکسی وار” (Proxy War) تھی۔
ایسا حملہ جس نے سب کچھ بدل دیا
دسمبر انیس سو اناسی میں، سوویت یونین نے اپنے کمیونسٹ اتحادی افغان حکومت کی “مدد” کے بہانے افغانستان پر فوجی حملہ کر دیا۔ حقیقت میں یہ ایک منصوبہ بند قبضہ تھا — سوویت ٹینک اور فوجی کابل میں داخل ہوئے، افغان صدر حفیظ اللہ امین کو اسی کے محل میں قتل کر دیا گیا، اور اس کی جگہ ایک سوویت نواز کٹھ پتلی حکومت بٹھا دی گئی۔ پاکستان کے لیے یہ ایک وجودی خطرہ تھا — ایک سپر پاور اب براہ راست اس کی مغربی سرحد پر کھڑی تھی۔
آپریشن سائیکلون: تاریخ کا سب سے بڑا خفیہ آپریشن

پاکستان کے فوجی صدر ضیاء الحق (Zia-ul-Haq) نے فوری طور پر ایک فیصلہ کیا جو آنے والی چار دہائیوں کے لیے پورے خطے کی تقدیر بدل دینے والا تھا: امریکہ کی CIA اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر، پاکستان کی خفیہ ایجنسی ISI کے ذریعے، افغان مجاہدین کو ہتھیار، تربیت اور رقم فراہم کرنا شروع کر دی۔ اسے “آپریشن سائیکلون” (Operation Cyclone) کا نام دیا گیا — اور یہ CIA کی پوری تاریخ کا سب سے مہنگا اور سب سے بڑا خفیہ آپریشن بن گیا، جس پر تین ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ امریکہ نے یہ ہتھیار براہ راست مجاہدین کو نہیں دیے — ہر ڈالر اور ہر بندوق ISI کے ہاتھوں سے گزر کر افغانستان پہنچی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان، ایک “درمیانے درجے” کا ملک، دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کے خلاف ایک مکمل خفیہ جنگ کا “براہ راست آپریٹر” بن گیا — یہ فیصلہ کرتا تھا کہ کون سا گروہ کتنے ہتھیار پائے گا، اور کون سا تربیتی کیمپ کہاں لگے گا۔
یہ وہ واحد موقع تھا جب سرد جنگ کے دوران امریکہ نے کسی سپر پاور کے خلاف براہ راست اپنی افواج کی بجائے مکمل طور پر ایک تیسرے ملک (پاکستان) کی خفیہ ایجنسی پر انحصار کیا۔
امریکی کانگریس مین جس نے اکیلے فنڈنگ کئی گنا بڑھا دی

اس خفیہ جنگ کے پیچھے ایک اور کردار ہے جسے بہت کم لوگ جانتے ہیں — امریکی کانگریس مین چارلی ولسن (Charlie Wilson)، ٹیکساس سے تعلق رکھنے والا ایک متنازعہ مگر بااثر سیاستدان۔ ولسن نے کانگریس کی خفیہ کمیٹیوں میں اثر و رسوخ استعمال کر کے آپریشن سائیکلون کی فنڈنگ کو چند ملین ڈالر سالانہ سے بڑھا کر سالانہ چھ سو ملین ڈالر تک پہنچا دیا۔ اس نے ذاتی طور پر پاکستان اور مصر کا دورہ کیا، اور اسرائیل سے پکڑے گئے سوویت ساختہ ہتھیار بھی مجاہدین تک پہنچوائے تاکہ سوویت یونین کو یہ ثابت کرنا مشکل ہو کہ ہتھیار کہاں سے آ رہے ہیں۔ اس کی کہانی اتنی ڈرامائی تھی کہ بعد میں اس پر ایک ہالی وڈ فلم “Charlie Wilson’s War” (2007) بھی بنائی گئی۔
اسٹنگر میزائل جس نے آسمان کا رخ بدل دیا
جنگ کے ابتدائی سالوں میں سوویت فضائیہ کے ہیلی کاپٹر گن شپس — خاص طور پر خوفناک “ایم آئی-24 ہائنڈ” (Mi-24 Hind) — مجاہدین کے لیے ناقابلِ شکست ثابت ہو رہے تھے۔ انیس سو چھیاسی میں، امریکہ نے آخرکار جدید ترین “اسٹنگر” (Stinger) میزائل مجاہدین کو دینے کی اجازت دی، جو ISI کے کیمپوں کے ذریعے تربیت یافتہ جنگجوؤں تک پہنچائے گئے۔ ان کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے میزائلوں نے سوویت فضائی بالادستی کا خاتمہ کر دیا — سینکڑوں ہیلی کاپٹر اور طیارے تباہ ہوئے، اور یہ اس جنگ کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہوا۔

وہ خوفناک “کھلونا بم” جو بچوں کے لیے بنائے گئے
سوویت افواج نے افغانستان میں ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جنہیں آج جنگی جرائم کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ سوویت فوج نے فضا سے بکھیرنے کے لیے “پی ایف ایم-1” نامی چھوٹی بارودی سرنگیں استعمال کیں، جن کی تتلی نما شکل، ہوا میں توازن کے لیے بنائی گئی تھی — مگر اسی رنگین، کھلونا نما شکل کی وجہ سے افغان بچے اکثر انہیں کھلونا یا پرندہ سمجھ کر اٹھا لیتے۔ اگرچہ ماہرین کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا یہ ڈیزائن جان بوجھ کر بچوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا یا محض اتفاقی طور پر ایسا اثر پیدا ہوا، مگر نتیجہ ہر دو صورت میں یکساں طور پر تباہ کن تھا۔ لاکھوں افغان بچے اپاہج ہو گئے یا ہلاک ہوئے، اور آج بھی، چالیس سال بعد، افغانستان کے کھیتوں میں یہ بارودی سرنگیں دفن پڑی ہیں جو ہر سال نئی جانیں لیتی ہیں۔
سوویت فوج نے پورے دیہات کو نشانِ عبرت بنانے کے لیے “قالینی بمباری” (Carpet Bombing) کی، فصلیں جلائیں، اور نہری نظام کو تباہ کیا تاکہ گاؤں کے گاؤں مکمل طور پر ناقابلِ رہائش ہو جائیں — اس حکمتِ عملی کو مغربی مبصرین “مائیگرٹری جینوسائیڈ” (Migratory Genocide) کہتے ہیں، یعنی لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کرنے کی حکمتِ عملی۔
مزید یہ کہ امریکی حکومت نے سوویت افواج پر افغانستان میں کیمیائی ہتھیار — جسے “زرد بارش” (Yellow Rain) کہا گیا — استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا۔ مقامی افراد نے پیلے رنگ کے مادے کی بارش کی گواہی دی جو مبینہ طور پر زہریلی گیس یا حیاتیاتی ہتھیار پر مشتمل تھی، اگرچہ بعد میں کچھ سائنسدانوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اصل میں شہد کی مکھیوں کا فضلہ ہو سکتا تھا — یہ بحث آج تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکی۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
اس جنگ کے دوران چالیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین پاکستان میں داخل ہوئے — یہ تاریخ کے سب سے بڑے مہاجرین بحرانوں میں سے ایک تھا، اور آج بھی لاکھوں افغان پاکستان میں مقیم ہیں۔
پشاور: ایک پرامن سرحدی شہر جو جنگ کا مرکز بن گیا
اس جنگ نے پاکستان کے سرحدی شہر پشاور کی شکل ہی بدل ڈالی۔ یہ شہر راتوں رات دنیا بھر کے صحافیوں، جاسوسوں، ہتھیاروں کے سمگلروں، اور جنگجوؤں کا مرکز بن گیا۔ یہاں درجنوں تربیتی کیمپ قائم ہوئے جہاں نہ صرف افغان بلکہ مصر، سعودی عرب، الجزائر اور دیگر ممالک سے آنے والے نوجوان بھی مذہبی اور عسکری تربیت حاصل کرنے پہنچے — یہی وہ بین الاقوامی جنگجو نیٹ ورک تھا جو بعد میں دنیا بھر میں پھیلنے والی عسکریت پسند تحریکوں کی بنیاد بنا۔ پشاور کے بازاروں میں کھلے عام امریکی ساختہ ہتھیار بکتے تھے، اور شہر کی معیشت مکمل طور پر جنگ کی معیشت میں تبدیل ہو گئی۔
وہ قیمت جو پاکستان نے چکائی
پاکستان نے سوویت یونین کو شکست دینے میں کلیدی کردار ادا کیا، مگر اس “فتح” کی قیمت آنے والی دہائیوں میں پاکستان کو خود چکانی پڑی۔
لاکھوں افغان مہاجرین کی آمد نے پشاور اور بلوچستان کی معیشت اور سماجی ڈھانچے پر بے پناہ دباؤ ڈالا۔ جنگ کے لیے فراہم کیے گئے ہتھیار اور رقم کا ایک بڑا حصہ افغانستان کی سرحد پار کر کے پاکستان کے اندر بھی پھیل گیا — کلاشنکوف بندوقیں، جو پہلے پاکستانی معاشرے میں نایاب تھیں، اب عام ہو گئیں، اور اسی وجہ سے اس دور کو “کلاشنکوف کلچر” کہا جاتا ہے۔
جنگ کی مالی معاونت کے لیے افیون کی کاشت اور ہیروئن کی سمگلنگ کو، بعض حلقوں کے مطابق، نظر انداز کیا گیا یا بعض اوقات خفیہ طور پر استعمال بھی کیا گیا — اس سے پہلے پاکستان میں ہیروئن کے عادی افراد کی تعداد تقریباً صفر تھی، مگر جنگ کے اختتام تک یہ تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔ ISI کے تربیتی کیمپوں میں دنیا بھر سے آنے والے نوجوان جنگجوؤں کو نظریاتی اور عسکری تربیت دی گئی — انہی کیمپوں میں سے ایک سعودی نوجوان، اسامہ بن لادن (Osama bin Laden) نے سرگرمیاں شروع کیں، جو بعد میں القاعدہ کی بنیاد بنیں۔
جس جنگ کو پاکستان اور امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف “فتح” قرار دیا، اسی جنگ نے وہ بنیاد رکھی جس نے بعد میں افغانستان میں طالبان کو جنم دیا اور پاکستان کو دہائیوں تک دہشتگردی کی لپیٹ میں رکھا۔
سوویت فوجیوں کی اپنی جہنم
یہ جنگ صرف افغانوں یا پاکستانیوں کے لیے تباہ کن نہیں تھی — سوویت فوجی خود بھی ایک خوفناک تجربے سے گزرے۔ نوجوان روسی سپاہی، جن میں سے اکثر کی عمر اٹھارہ سال بھی نہیں تھی، ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیے گئے جسے وہ کبھی سمجھ نہیں پائے — نہ دشمن نظر آتا تھا، نہ اگلا حملہ کہاں سے ہوگا کوئی اندازہ ہوتا تھا۔ ہزاروں سوویت فوجی ہلاک ہوئے، اور واپس آنے والوں میں سے بہت سے شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوئے — روس میں آج بھی اس نسل کو “افغانتسی” (Afgantsy) کہا جاتا ہے، وہ فوجی جو افغانستان کی جنگ سے کبھی مکمل طور پر واپس نہیں آ سکے۔

سوویت یونین کا زوال اور جنگ کا خاتمہ
دس سال کی خونریز جنگ، تقریباً پندرہ ہزار ہلاک سوویت فوجیوں، اور اربوں ڈالر کے نقصان کے بعد، سوویت یونین نے انیس سو نواسی میں افغانستان سے مکمل انخلا کر لیا۔ یہ شکست صرف ایک عسکری ناکامی نہیں تھی — بہت سے مؤرخین اسے سوویت یونین کے مکمل زوال کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک سمجھتے ہیں۔ ایک ایسی سپر پاور جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتی تھی، اسے ایک غریب، پہاڑی ملک میں پاکستان کی مدد سے تربیت یافتہ مجاہدین نے شکست دے دی — اور دو سال بعد، انیس سو اکیانوے میں، سوویت یونین خود بکھر کر پندرہ ممالک میں تقسیم ہو گیا۔
وہ خاموش ڈیل جس کا کسی کو علم نہیں
اس جنگ کا ایک ایسا زاویہ بھی ہے جو شاذ و نادر ہی زیرِ بحث آتا ہے۔ اسی دوران پاکستان اپنے جوہری پروگرام پر خفیہ انداز میں کام کو آگے بڑھا رہا تھا۔۔ امریکی کانگریس کے قوانین کے تحت، کسی بھی ایسے ملک کو امداد دینا ممنوع تھا جو جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہو — مگر چونکہ پاکستان کی مدد کے بغیر سوویت یونین کے خلاف جنگ جیتنا ناممکن تھا، امریکی صدور، خاص طور پر رونالڈ ریگن کی انتظامیہ، ہر سال کانگریس کو یہ سرٹیفکیٹ دیتی رہی کہ پاکستان جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا — حالانکہ خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس اس کے برعکس کہتی تھیں۔ جیسے ہی انیس سو نواسی میں سوویت یونین کا انخلا مکمل ہوا اور پاکستان کی “افادیت” ختم ہوئی، انیس سو نوے میں امریکہ نے فوری طور پر پریسلر ترمیم (Pressler Amendment) کے تحت پاکستان پر پابندیاں عائد کر دیں — یہ ایک واضح ثبوت تھا کہ یہ اتحاد اصولوں پر نہیں بلکہ خالص مفاد پر مبنی تھا۔
وہ جنگجو جسے سب سے زیادہ ہتھیار ملے
ISI کے ذریعے تقسیم ہونے والے ہتھیاروں اور رقم کا سب سے بڑا حصہ گلبدین حکمتیار (Gulbuddin Hekmatyar) کے گروہ کو ملا — ایک ایسا کمانڈر جسے مغربی صحافی اور خود بہت سے افغان اسے سب سے زیادہ سفاک اور غیر مستحکم رہنما سمجھتے تھے۔ ISI نے اسے ترجیح دی کیونکہ وہ نظریاتی طور پر پاکستان کے قریب تھا، مگر بعد میں یہی حکمتیار خانہ جنگی کے دوران کابل پر بلا امتیاز راکٹ برسانے کے لیے بدنام ہوا، جس میں ہزاروں عام شہری مارے گئے۔ یہ فیصلہ آج بھی تجزیہ کاروں کے نزدیک اس بات کی سب سے بڑی مثال ہے کہ کس طرح قلیل المدتی حکمتِ عملی نے طویل المدتی تباہی کی بنیاد رکھی۔
دو ہزار ایک میں امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد، وہی نیٹ ورک اور نظریات، جو کبھی سوویت یونین کے خلاف امریکہ اور پاکستان نے خود پروان چڑھائے تھے، پاکستان کے اپنے اندر ایک نئی، خونریز شکل میں لوٹ آئے — تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کی صورت میں۔ اگلے دو عشروں میں پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف اپنی جنگ میں ستر ہزار سے زیادہ شہری اور فوجی جانیں گنوائیں۔
مکمل نقصانات: کس کا کتنا نقصان ہوا؟
دس سالہ جنگ کے اختتام پر جب حساب لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ اس “فتح” کی قیمت ہر فریق نے مختلف انداز میں چکائی — کچھ نے جانیں دیں، کچھ نے مستقبل کی تباہی خریدی۔
| فریق | جانی نقصان | دیگر نقصان |
|---|---|---|
| سوویت یونین | تقریباً 15,000 فوجی ہلاک | اربوں ڈالر کا نقصان، عالمی ساکھ کو دھچکا، دو سال بعد ملک کا مکمل ٹوٹ جانا |
| افغانستان | 10 لاکھ سے 20 لاکھ شہری ہلاک | 60 لاکھ سے زیادہ مہاجرین، ملک کھنڈر بنا، دہائیوں کی خانہ جنگی اور طالبان کا عروج |
| پاکستان | براہِ راست جنگی جانی نقصان کم، مگر بعد کی دہشتگردی میں 70,000+ ہلاکتیں | 40 لاکھ+ مہاجرین کا بوجھ، کلاشنکوف و ہیروئن کلچر، بعد میں امریکی پابندیاں |
فائدہ کس کو ہوا؟ قلیل المدت میں امریکہ اور پاکستان دونوں کو فائدہ ہوا — سوویت یونین کو شکست ہوئی اور دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر امریکہ ابھرا، جبکہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوائی اور امریکی و سعودی امداد سے فوجی طاقت مضبوط کی۔ مگر طویل المدت میں یہ “فتح” الٹی پڑ گئی — افغانستان کبھی مستحکم نہ ہو سکا، اور پاکستان کو خود اسی جنگ سے جنم لینے والی عسکریت پسندی کا سامنا کرنا پڑا۔
خطرات جو پاکستان نے خود اپنی سرزمین پر جھیلے
یہ خفیہ جنگ صرف افغانستان کی سرحد کے اندر محدود نہیں رہی — سوویت یونین اور اس کی افغان خفیہ ایجنسی “خاد” (KHAD) نے پاکستان کو براہِ راست دھمکیاں دیں اور اس کی سرزمین پر دہشتگردی کی مہم شروع کر دی۔ امریکی سفیر کے ذریعے سوویت یونین نے باضابطہ طور پر پاکستان کو خبردار کیا کہ اگر مجاہدین کی حمایت جاری رہی تو اسے “سبق سکھایا جائے گا”۔
ماسکو کی جانب سے، امریکی سفارتخانے کے ذریعے، پاکستانی حکام کو واضح پیغام بھجوایا گیا: “جنرل ضیاء کو بتا دو، اگر مداخلت بند نہ ہوئی، تو ہم اسے ایسا سبق سکھائیں گے جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔” جنرل ضیاء الحق کا جواب مختصر مگر پرعزم تھا: “ہم اپنے مسلمان بھائیوں کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، چاہے قیمت کچھ بھی ہو۔”
یہ محض زبانی دھمکی نہیں تھی۔ “خاد” نے، کے جی بی کی تربیت اور نگرانی میں، پاکستان کے اندر منظم بم دھماکوں کی مہم شروع کر دی۔ صرف انیس سو ستاسی میں پاکستان بھر میں ایک سو ستائیس دہشتگردی کے واقعات ہوئے جن میں دو سو چونتیس افراد ہلاک ہوئے۔ اپریل انیس سو اٹھاسی میں اسلام آباد کے قریب اوجھڑی کیمپ کے اسلحہ ڈپو میں ایک زبردست دھماکہ ہوا جس میں سو سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے — راکٹ اور گولے پورے شہر میں بارش کی طرح گرتے رہے۔ افغان فضائیہ نے پاکستانی سرحدی علاقوں پر متعدد بار سکڈ میزائل داغے، جن میں پینتیس سے زیادہ پاکستانی شہری ہلاک ہوئے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
مارچ انیس سو اکیاسی میں، ایک پاکستانی طیارے کو بائیں بازو کی عسکریت پسند تنظیم “الذوالفقار” نے اغوا کیا، جسے مبینہ طور پر خاد اور کے جی بی کی حمایت حاصل تھی — یہ اغوا کئی دن جاری رہا اور آخرکار پاکستانی حکومت کو پچاس قیدی رہا کرنے پر مجبور کر دیا۔
سب سے پراسرار واقعہ سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو پیش آیا، جب جنرل ضیاء الحق کا طیارہ بہاولپور کے قریب پراسرار طور پر گر کر تباہ ہو گیا، جس میں وہ خود، کئی اعلیٰ فوجی افسران اور امریکی سفیر بھی ہلاک ہوئے۔ اس حادثے کی وجہ آج تک ایک معمہ ہے — کچھ اسے تخریب کاری قرار دیتے ہیں جس میں کے جی بی، خاد، یا دیگر خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے، جبکہ باضابطہ تحقیقات کبھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں۔
وہ سبق جو آج بھی نظر انداز کیا جاتا ہے
یہ کہانی طاقت کے استعمال اور اس کے نتائج کی ایک زندہ مثال ہے۔ پاکستان نے ایک سپر پاور کو شکست دے کر عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوائی، مگر جس حکمتِ عملی سے یہ فتح حاصل کی گئی — کٹھ پتلی جنگجو گروہ بنانا، مذہبی جذبات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا، اور بین الاقوامی طاقتوں کے کھیل میں ایک “پراکسی” بن جانا — اسی حکمتِ عملی نے آنے والے برسوں میں پاکستان کے اندر ہی عسکریت پسندی کی جڑیں مضبوط کر دیں۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جسے دنیا کی بہت سی حکومتیں آج بھی نظر انداز کرتی ہیں: کسی اور کی جنگ لڑنے کی قیمت، خواہ وہ فتح ہی کیوں نہ ہو، اکثر اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جتنی نظر آتی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پاکستان اور سوویت یونین کی جنگ کتنے سال چلی؟
یہ خفیہ جنگ دس سال چلی — دسمبر 1979 سے فروری 1989 تک، جب سوویت یونین نے افغانستان سے مکمل انخلا کیا۔
2. آپریشن سائیکلون کیا تھا؟
یہ CIA، سعودی عرب اور پاکستان کی ISI کے تعاون سے چلنے والا خفیہ آپریشن تھا جس کے ذریعے افغان مجاہدین کو ہتھیار اور تربیت فراہم کی گئی — CIA کی تاریخ کا سب سے بڑا اور مہنگا خفیہ آپریشن۔
3. اس جنگ میں کتنا جانی نقصان ہوا؟
سوویت یونین کے تقریباً 15,000 فوجی، افغانستان کے 10 سے 20 لاکھ شہری، اور بعد میں پاکستان کو دہشتگردی میں 70,000 سے زیادہ جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔
4. اس جنگ نے پاکستان کو کیا نقصان پہنچایا؟
40 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین، کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر کا پھیلاؤ، اور بعد میں تحریکِ طالبان پاکستان جیسی عسکریت پسند تحریکوں کا جنم۔
ہمارے لیے سبق:
قرآن پاک میں بارہا یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ ظلم اور فساد کا انجام، خواہ وہ وقتی کامیابی ہی کیوں نہ دے، آخرکار ظالم پر ہی واپس پلٹتا ہے۔ سوویت یونین کا زوال اور پاکستان کا بعد ازاں دہشتگردی کی لپیٹ میں آنا، دونوں اسی اصول کی تاریخی مثالیں ہیں۔
حوالہ جات
- Steve Coll — “Ghost Wars: The Secret History of the CIA, Afghanistan, and Bin Laden”
- George Crile — “Charlie Wilson’s War”
- CIA Freedom of Information Act (FOIA) Reading Room — Operation Cyclone Records
- Rodric Braithwaite — “Afgantsy: The Russians in Afghanistan 1979–89”
- Human Rights Watch — Landmines in Afghanistan Reports

Leave a Reply