تاریخ نامہ
ہر واقعہ، ہر کہانی

صدام حسین: امریکہ کا بنایا خطرناک ہتھیار اور1عبرتناک انجام

Spread the love

 وہ آدمی جو کبھی امریکہ کا اتحادی تھا، کبھی اس کا سب سے بڑا دشمن

صدام حسین کا کلوز اپ تصویر
صدام حسین vs امریکہ: دوستی سے دشمنی تک کا سفر

ایک وقت تھا جب واشنگٹن کے ایوانوں میں صدام حسین کا نام عزت سے لیا جاتا تھا۔ امریکی سفیر ان کے ساتھ مسکرا کر ہاتھ ملاتے، امریکی ہتھیار ان کی فوج کو مضبوط کرتے، امریکی خفیہ معلومات ان کی جنگی حکمتِ عملی کا حصہ بنتیں۔ لیکن پھر ایک دن آیا جب وہی امریکہ، جس نے کبھی ان کا ہاتھ تھاما تھا، ان کے تعاقب میں پوری فوج لے آیا، انہیں ایک تاریک، تنگ سوراخ سے گھسیٹ کر نکالا، اور بالآخر پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا۔ یہ کہانی ہے صدام حسین کی — عراق کے اس حکمران کی جس نے اپنے عروج میں امریکہ کا ساتھ دیا، اور اپنے زوال میں اسی کے خلاف آخری سانس تک ڈٹا رہا۔

“میں عراق کا صدر ہوں، اور میں اپنے ملک اور اپنی قوم کی عزت کے لیے موت کو قبول کرتا ہوں۔” — صدام حسین، پھانسی سے کچھ دیر پہلے

 ایک قاتلانہ حملہ، ایک فرار، اور تخت تک کا خونی راستہ

صدام حسین 1937 میں عراق کے شہر تکریت کے قریب ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن مشکلات میں گزرا، اور نوجوانی میں ہی وہ بعث پارٹی کی سیاست میں شامل ہو گئے — ایک عرب قوم پرست تحریک جو خطے میں مغربی اثر و رسوخ کے خلاف تھی۔ 1959 میں، محض 22 سال کی عمر میں، صدام اس وقت کے عراقی وزیراعظم پر قاتلانہ حملے کی سازش میں شریک ہوئے۔ حملہ ناکام رہا، صدام زخمی حالت میں مصر فرار ہوئے، اور وہیں جلاوطنی میں اپنی سیاسی تربیت مکمل کی۔

1968 میں بعث پارٹی نے عراق میں اقتدار سنبھال لیا، اور صدام آہستہ آہستہ پارٹی کے اندر طاقت کے مرکز بنتے گئے، یہاں تک کہ 1979 میں انہوں نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا — اپنے ہی ساتھیوں میں سے کئی کو “غدار” قرار دے کر سرِعام پھانسی دلوا کر۔

 جب صدام امریکہ کا “دوست” تھا

1972 میں صدام نے عراق کی تیل کی صنعت — عراق پیٹرولیم کمپنی — کو غیر ملکی (بیشتر مغربی) کمپنیوں سے چھین کر مکمل طور پر قومی تحویل میں لے لیا۔ یہ پہلا قدم تھا جس نے ظاہر کیا کہ یہ آدمی اپنے ملک کے وسائل پر کسی بھی بیرونی طاقت کا کنٹرول برداشت نہیں کرے گا۔

لیکن پھر تاریخ کا ایک عجیب موڑ آیا۔ 1980 میں صدام نے ایران پر حملہ کر دیا، اور امریکہ، جو ایرانی انقلاب اور خمینی سے خوفزدہ تھا، نے کھل کر صدام کی حمایت شروع کر دی — ہتھیار، خفیہ معلومات، اور سفارتی حمایت، سب کچھ۔ آٹھ سالہ خونریز ایران-عراق جنگ میں امریکہ نے صدام کو اس وقت بھی سپورٹ جاری رکھا جب یہ رپورٹس آنے لگیں کہ عراقی فوج کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب صدام اور امریکہ ایک ہی میز پر بیٹھتے تھے، ایک ہی دشمن کے خلاف۔

 وہ فیصلہ جس نے دوستی کو دشمنی میں بدل دیا

1990 میں صدام نے وہ قدم اٹھایا جس نے پوری دنیا کو چونکا دیا: کویت پر مکمل فوجی حملہ اور قبضہ۔ یہ فیصلہ صدام کی خودمختاری کی سوچ کا ہی توسیع تھا — وہ کویت کے تیل کے ذخائر کو عراق کا حق سمجھتے تھے۔ لیکن اس بار امریکہ نے مختلف رد عمل دیا۔ صدر جارج بش سینئر نے ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دیا، اور 1991 میں “آپریشن ڈیزرٹ سٹارم” کے ذریعے عراقی افواج کو کویت سے مار بھگایا۔ یہ صدام کی پہلی بڑی ہزیمت تھی — لیکن انہوں نے مکمل شکست تسلیم کرنے یا اقتدار چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا۔

 بارہ سال کی معاشی ناکہ بندی — اور نہ جھکنے کی ضد

1991 سے 2003 تک، اقوامِ متحدہ کی سخت ترین معاشی پابندیاں عراق پر مسلط رہیں۔ لاکھوں عراقی شہری خوراک اور ادویات کی قلت کا شکار ہوئے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بار بار مطالبہ کیا کہ صدام مبینہ کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیار مکمل طور پر ختم کریں اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو مکمل رسائی دیں۔ صدام نے جزوی تعاون کیا، لیکن مکمل جھکنے سے انکار کرتے رہے — ان کا مؤقف تھا کہ یہ مطالبات محض ان کی حکومت گرانے کا بہانہ ہیں۔

 2003 — جب امریکی فوجیں بغداد میں داخل ہوئیں

امریکی فوجیوں کے ہاتھوں صدام حسین کی سپائیڈر ہول سے گرفتاری، عراق
ایک وقت کا طاقتور حکمران… آج ایک گڑھے میں چھپنے پر مجبور۔ یہ ہے صدام کا انجام۔

مارچ 2003 میں امریکہ نے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار (WMDs) موجود ہیں، عراق پر مکمل فوجی حملہ کر دیا — اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر۔ تین ہفتوں کے اندر بغداد گر گیا، صدام کا مجسمہ فردوس چوک میں گرا دیا گیا، اور وہ خود روپوش ہو گئے۔ آٹھ مہینے تک دنیا کی سب سے طاقتور فوج ایک ایسے آدمی کو ڈھونڈتی رہی جو کبھی ان کا اتحادی تھا۔ آخرکار، 13 دسمبر 2003 کو، امریکی فوجیوں نے صدام کو ان کے آبائی شہر تکریت کے قریب ایک تنگ، زیرِ زمین سوراخ (“سپائیڈر ہول”) سے گرفتار کیا — وہ آدمی جس نے کبھی پورے عراق پر حکومت کی تھی، اب زمین کے ایک گڑھے میں چھپا ہوا ملا۔

گرفتاری کے وقت امریکی فوجی جنرل نے وہ مشہور جملہ کہا: “خواتین و حضرات، ہم نے اسے پکڑ لیا ہے۔”

 عدالت میں پہلی پیشی — ایک دفاعی تقریر یا آخری للکار؟

جولائی 2004 میں، جب صدام کو پہلی بار عدالت میں پیش کیا گیا، وہ ایک ایسے شخص کی طرح نظر آئے جو ابھی بھی خود کو عراق کا صدر سمجھتا تھا۔ ہتھکڑیاں کھلواتے ہی، بغیر کسی سوال کے، انہوں نے خود اعلان کیا: “میں صدام حسین ہوں، عراق کا صدر۔” جب ان پر کرد نسل کشی اور کویت پر حملے کے الزامات پڑھے گئے، تو صدام نے نہ معافی مانگی، نہ خاموشی اختیار کی — بلکہ سیدھا جج کی آنکھوں میں دیکھ کر للکارا: “یہ سب بش کا ڈرامہ ہے، اصل مجرم وہی ہے۔” کمرہ عدالت میں سناٹا چھا گیا۔

سزائے موت سنائے جانے کے لمحے میں بھی صدام نے سر نہیں جھکایا۔ جب ججوں نے فیصلہ پڑھنا شروع کیا، صدام قرآن اٹھائے کھڑے ہو گئے اور بلند آواز میں پکارا: “عراق زندہ باد! عراقی قوم زندہ باد! غداروں پر لعنت!” — یہ الفاظ ٹی وی پر پوری دنیا نے سنے۔

 عید کی صبح، ایک پھندہ، اور ایک سلطنت کا خاتمہ

گرفتاری کے بعد صدام پر عراقی خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا — الدجیل نامی گاؤں کے 148 شیعہ باشندوں کے قتل کے الزام میں، جو 1982 میں ان پر ایک قاتلانہ حملے کے بعد کیا گیا انتقامی اقدام تھا۔ نومبر 2006 میں صدام کو سزائے موت سنائی گئی۔ 30 دسمبر 2006 کی صبح، عید الاضحیٰ کے موقع پر، صدام حسین کو بغداد میں پھانسی دے دی گئی۔ ان کے آخری الفاظ میں انہوں نے اپنے ملک اور قوم کی عزت کے لیے موت قبول کرنے کی بات کی — ایک ایسا انجام جو ان کی زندگی بھر کی ضد اور اپنی شرائط پر جینے کی خواہش کا آخری مظہر تھا۔

عراق کا پہلے اور بعد
صدام کے دور کا خوشحال عراق۔ 2003 کی جنگ کے بعد کا تباہ حال عراق۔

 وہ چہرہ جو تاریخ کی کتابوں میں چھپا رہ گیا — سہولیات بھی، سفاکی بھی

صدام حسین کو صرف ایک آمر یا صرف ایک مزاحم کے طور پر دیکھنا، تصویر کا آدھا حصہ دیکھنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں عراقی عوام کو ایسی سہولیات بھی ملیں جو خطے کے بیشتر ممالک میں خواب تھیں، اور ساتھ ہی ایسے مظالم بھی ہوئے جنہیں تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

عوام کو ملنے والی سہولیات

مفت اور معیاری تعلیم — صدام کے دور میں عراق کی خواندگی کی شرح عرب دنیا میں سب سے بلند تھی، اور 1980 کی دہائی میں یونیسکو نے عراق کو خواندگی مہم پر ایوارڈ سے نوازا۔ ہر بچے کے لیے تعلیم مفت اور لازمی تھی۔

مفت علاج معالجہ — پورے ملک میں یونیورسل ہیلتھ کیئر کا نظام موجود تھا، جہاں شہریوں کو کسی معاوضے کے بغیر معیاری طبی سہولیات میسر تھیں۔

خواتین کو بااختیار بنانا — بعث پارٹی کی سیکولر پالیسی کے تحت خواتین کو تعلیم، ملازمت، اور سیاسی شرکت میں وہ رسائی ملی جو اس وقت کے کئی عرب ممالک میں ناپید تھی۔

جدید انفراسٹرکچر — 1970 کی دہائی کے تیل کی آمدنی کے دور میں سڑکیں، بجلی، اور پانی کی فراہمی کا نظام تیزی سے جدید بنایا گیا، اور خوراک کی رعایتی تقسیم کا نظام (رَیشن کارڈ سسٹم) عام آدمی کی بنیادی ضروریات پوری کرتا رہا۔

 وہ مظالم جنہیں تاریخ نہیں بھلا سکتی

حلبجہ کیمیائی حملہ (1988) — صدام کی حکومت نے اپنی ہی کرد آبادی کے خلاف زہریلی گیس استعمال کی، جس میں ہزاروں بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے لمحوں میں ہلاک ہو گئے — تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک۔

الدجیل قتلِ عام (1982) — ایک ناکام قاتلانہ حملے کے انتقام میں، شیعہ گاؤں الدجیل کے 148 باشندوں کو بلا امتیاز موت کے گھاٹ اتار دیا گیا — وہی مقدمہ جو بالآخر صدام کی پھانسی کی بنیاد بنا۔

صدام حسین کے دور کے مظالم کی خفیہ فائلیں اور خون آلود تصاویر
حلبجہ، الدجیل اور سیاسی قتل: یہ ہیں وہ خفیہ دستاویزات جو صدام کے دور کے سیاہ ترین دنوں کی گواہی دیتی ہیں۔

سیاسی مخالفین کا قتل — بعث پارٹی کے اندر بھی اور باہر بھی، ہزاروں مخالفین کو بغیر منصفانہ ٹرائل کے پھانسی دی گئی یا لاپتہ کر دیا گیا۔ آزادیِ اظہار اور آزاد میڈیا کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا۔

یہی وہ تضاد ہے جو صدام حسین کی شخصیت کو باقی تمام لیڈروں سے الگ کرتا ہے: ایک ہاتھ میں تعمیر، دوسرے ہاتھ میں تباہی۔

 دنیا نے صدام کے بارے میں کیا کہا؟

صدام حسین کی شخصیت پر دنیا بھر کے رہنماؤں اور جرنیلوں نے اپنی رائے دی — کچھ نے انہیں ایک خطرناک آمر قرار دیا، کچھ نے ان کی عسکری صلاحیت کا مذاق اڑایا:

“صدام حسین نہ تو کوئی عظیم فوجی منصوبہ ساز تھا، نہ فوجی امور کا ماہر اور نہ ہی وہ اصل معنوں میں جنرل تھا۔” — جنرل نارمن شوارزکوف، خلیجی جنگ کے امریکی کمانڈر

“عراق کا سابق آمر اب اس انصاف کا سامنا کرے گا جو اس نے لاکھوں لوگوں کو دینے سے انکار کیا۔” — صدر جارج ڈبلیو بش، صدام کی گرفتاری کے بعد، دسمبر 2003

“جہاں اس کی حکومت کا مطلب دہشت، تقسیم اور سفاکی تھا، اب اس کی گرفتاری اتحاد اور امن کا آغاز بنے۔” — ٹونی بلیئر، برطانوی وزیراعظم، صدام کی گرفتاری کے بعد

 ہمارے لیے سبق

صدام حسین کی کہانی کاسترو سے یکسر مختلف انجام رکھتی ہے، اور یہی فرق سب سے بڑا سبق ہے۔ جہاں کاسترو مسلسل اتحاد اور نظریاتی وضاحت کے ساتھ ڈٹے رہے، وہیں صدام کا سفر تضادات سے بھرا رہا — کبھی امریکہ کے ساتھ، کبھی اس کے خلاف، اپنی رعایا پر ظلم بھی، اور بیرونی طاقت کے سامنے مزاحمت بھی۔

پہلا سبق: کسی بڑی طاقت سے وقتی دوستی، اصولی مؤقف کی جگہ نہیں لے سکتی۔ صدام نے جب امریکہ کا ساتھ دیا تو وہ محفوظ رہے؛ جیسے ہی ان کے مفادات ٹکرائے، وہی دوستی دشمنی میں بدل گئی۔ بیرونی طاقتوں پر انحصار کبھی مستقل تحفظ نہیں دیتا۔

دوسرا سبق: اندرونی ظلم اور بیرونی مزاحمت ایک ساتھ قوم کی حقیقی طاقت نہیں بنا سکتے۔ صدام کی حکومت میں اندرونی جبر نے وہ قومی اتحاد کمزور کر دیا جو بیرونی حملے کے وقت سب سے زیادہ درکار تھا۔

تیسرا سبق: انجام اکثر اس بات کا آئینہ ہوتا ہے کہ مزاحمت کس بنیاد پر کھڑی تھی — انصاف پر، یا محض اقتدار پر۔ امتِ مسلمہ کے لیے یہ ایک واضح یاد دہانی ہے کہ کسی بھی مزاحمت کی طاقت اور تقدس اسی وقت برقرار رہتے ہیں جب وہ عوام کے حقیقی مفاد اور انصاف سے جڑی ہو، نہ کہ صرف ایک فرد کے اقتدار سے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات 

سوال 1: صدام حسین کو پھانسی کب اور کیوں دی گئی؟
جواب: صدام حسین کو 30 دسمبر 2006 کو الدجیل گاؤں کے 148 باشندوں کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پر پھانسی دی گئی۔

سوال 2: صدام حسین کبھی امریکہ کا اتحادی کیوں تھا؟
جواب: 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران امریکہ نے ایرانی انقلاب کے خوف سے صدام حسین کی حکومت کو ہتھیار اور خفیہ معلومات فراہم کیں۔

سوال 3: صدام حسین کو کیسے گرفتار کیا گیا؟
جواب: 13 دسمبر 2003 کو امریکی فوجیوں نے صدام حسین کو تکریت کے قریب ایک زیرِ زمین “سپائیڈر ہول” سے گرفتار کیا۔

سوال 4: کویت پر عراقی حملہ کب ہوا؟
جواب: صدام حسین نے اگست 1990 میں کویت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں 1991 میں خلیجی جنگ شروع ہوئی۔

 حوالہ جات (References)

  • National Security Archive, George Washington University — U.S.-Iraq relations and the Iran-Iraq War declassified documents
  • The Iraq War: A Military History — Williamson Murray & Robert Scales
  • Saddam Hussein trial records — Iraqi High Tribunal, Al-Dujail case verdict (2006)
  • U.S. Department of Defense records on Operation Red Dawn (December 13, 2003 capture)
  • United Nations Security Council Resolution records on Iraq sanctions (1991–2003)

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.