رات کا سناٹا، اور اچانک ایک بادشاہ خوابگاہ میں دہشت سے اٹھ بیٹھتا ہے۔ دل زور زور سے دھڑک رہا ہے، سانسیں اکھڑی ہوئی ہیں۔ مشہور روایت کے مطابق، اس نے ابھی ابھی خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا — سنہرے بالوں والے دو اجنبیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، ایک آواز جو سیدھی دل میں اتر گئی: “محمود، مجھے ان سے بچاؤ۔” یہ کوئی عام خواب نہیں تھا۔ یہ وہ رات تھی جس نے سلطان نور الدین زنگی کو نیند سے محروم کر دیا، اور جس کے بعد تاریخ نے ایک ایسا سنسنی خیز باب رقم کیا جو صدیوں بعد بھی لوگوں کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔
سلطان نور الدین زنگی— تین بار دہرایا جانے والا خواب

557 ہجری کی ایک رات، شام کے حکمران سلطان نور الدین محمود زنگی تہجد پڑھ کر سو رہے تھے جب مشہور روایت کے مطابق انہوں نے یہ ہولناک خواب دیکھا۔ گھبرا کر اٹھے، وضو کیا، نماز پڑھی، اور دوبارہ لیٹ گئے — مگر خواب دوبارہ آ گیا، اسی تصویر، اسی آواز کے ساتھ۔ تیسری بار جب یہی منظر دہرایا گیا، تو سلطان کو یقین ہو گیا کہ یہ کوئی معمولی خواب نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ فجر کے بعد انہوں نے اپنے وزیر جمال الدین الموصلی کو بلایا اور سارا ماجرا بیان کیا۔ وزیر نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کہا: “جہاں پناہ، اب یہاں بیٹھنے کا وقت نہیں — مدینہ روانہ ہو جائیں۔”
سولہ دن کا سفر، اور ایک عجیب ضیافت

سلطان نے وقت ضائع نہ کیا۔ ایک بھاری بھرکم قافلہ، بے پناہ دولت اور سواروں کا لشکر لے کر شام سے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ روایات کے مطابق یہ فاصلہ محض سولہ دنوں میں طے کیا گیا — ایک ایسی رفتار جو اس دور میں تقریباً ناممکن سمجھی جاتی تھی۔ مدینہ پہنچتے ہی سلطان نے مسجدِ نبوی میں حاضری دی، نماز ادا کی، اور پھر ایک حیران کن حکم جاری کیا: شہر کے تمام راستے بند کر دیے جائیں، کوئی بھی شہر سے باہر نہ جا سکے۔ اس کے بعد سلطان نے پورے مدینہ کے باشندوں کے لیے ایک عظیم الشان ضیافت اور خیرات کا اہتمام کیا — دراصل یہ ایک بہانہ تھا تاکہ ہر فرد ان کے سامنے سے گزرے اور وہ خواب والے دو چہروں کو پہچان سکیں۔
وہ دو اجنبی جنہوں نے خیرات لینے سے انکار کیا
دن گزرتے گئے، شہر کا ہر باشندہ سلطان کے سامنے سے گزر چکا تھا، مگر وہ چہرے نظر نہ آئے۔ سلطان بےچین ہو گئے — “ناممکن ہے کہ سب آ چکے ہوں، دوبارہ تلاش کرو۔” آخرکار کسی نے بتایا کہ دو ایسے پرہیزگار افراد بھی ہیں جو کبھی کسی دعوت یا خیرات میں شریک نہیں ہوتے۔ وہ راتوں کو تہجد پڑھتے، دن میں پیاسوں کو پانی پلاتے اور بے پناہ خیرات کرتے — بظاہر مثالی، پارسا انسان۔ جیسے ہی وہ دونوں سلطان کے سامنے لائے گئے، سلطان کا خون جم گیا۔ یہی وہ چہرے تھے جو مشہور روایت کے مطابق انہوں نے خواب میں دیکھے تھے۔
قالین کے نیچے وہ سرنگ جو روضہءِ اقدس تک جاتی تھی
روایت کے مطابق، پوچھ گچھ پر دونوں نے کہا کہ وہ مراکش سے حج کے لیے آئے تھے اور روضہءِ رسول کے پڑوس میں رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن سلطان کے تیز حسِ ادراک نے فیصلہ کیا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ ان کے گھر کی تلاشی لی گئی۔ فرش پر بچھے قالین کو ہٹایا گیا تو نیچے لکڑی کا ایک تختہ چھپا ملا۔ تختہ اٹھایا گیا تو نیچے ایک تاریک سرنگ نمودار ہوئی — ایسی سرنگ جو براہِ راست روضہءِ اقدس کی طرف کھودی جا رہی تھی۔ سالوں کی خاموش محنت، ہر رات چند انچ آگے، دن میں معصوم چہرے کے پیچھے چھپی ایک خوفناک سازش۔ روایت کے مطابق پوچھ گچھ میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ روم کے عیسائی جاسوس تھے، عربی زبان اور ثقافت سیکھ کر بھیجے گئے تھے، تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اقدس کو چرا کر روم لے جائیں۔ سلطان نے فوری طور پر دونوں کو قتل کروا دیا اور شکرانے کے سجدے میں گر پڑے۔

تصحیح نوٹ برائے شفافیت: یہ روایت مشہور مؤرخ نور الدین علی السمہودی نے اپنی کتاب “وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ” میں نقل کی ہے، جو سلطان نور الدین زنگی کی وفات کے تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد پیدا ہوئے۔ چونکہ روایت کی کوئی مستند سند موجود نہیں، اس لیے علمائے حدیث اسے تاریخی طور پر غیر مصدقہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم یہ واقعہ صدیوں سے مسلم روایت اور مورخین کی کتب میں معروف چلا آ رہا ہے، اس لیے اسے ایک مشہور تاریخی حکایت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، نہ کہ ایک مستند ثابت شدہ واقعہ کے طور پر۔
حفاظتی تدابیر: قبرِ اقدس کے گرد ناقابلِ تسخیر حصار
اس واقعے کے بعد سلطان نور الدین زنگی نے یہ فیصلہ کیا کہ ایسی سازش دوبارہ کبھی ممکن نہ ہو۔ ان کے حکم پر روضہءِ اقدس کے چاروں طرف ایک نہایت گہری خندق کھدوائی گئی — اتنی گہری کہ زمین کے اندر سے کسی سرنگ کا گزرنا ناممکن ہو جائے۔ اس خندق کو پھر پگھلے ہوئے سیسے سے بھر دیا گیا، تاکہ وہ ٹھوس ہو کر ایک ناقابلِ تسخیر دیوار کی شکل اختیار کر لے جسے نہ کدال سے توڑا جا سکے، نہ کسی اور اوزار سے۔ یہ اس دور کی انجینئرنگ کے اعتبار سے ایک غیر معمولی اقدام تھا، اور مؤرخین کے مطابق یہی حصار صدیوں تک روضہءِ رسول کی حفاظت کی بنیاد بنا رہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حفاظتی انتظامات کا یہ سلسلہ نور الدین زنگی کی وفات کے بعد بھی جاری رہا۔ 1188ء میں، یعنی نور الدین کی وفات کے تقریباً چودہ سال بعد، صلاح الدین ایوبی کے دورِ حکومت میں ان کے وزیر جمال الدین الاصفہانی نے روضے کے گرد صندل اور آبنوس کی لکڑی سے ایک نفیس جالی (شبکہ) نصب کروائی، جس کی اونچائی مسجد کی چھت تک تھی۔ اسی جالی پر مصر سے بھیجا گیا سفید ریشمی پردہ لٹکایا گیا جس پر سورہ یٰسین سرخ ریشم سے کڑھی ہوئی تھی۔ بعد میں یہ لکڑی کی جالی ایک آتشزدگی میں جل گئی، تو 1289ء میں اسے لوہے سے دوبارہ بنایا گیا اور 1481ء میں سلطان اشرف قایتبای نے اس کے گرد ایک تیسری، پانچ کونوں والی دیوار بھی تعمیر کروائی۔ اس سے پہلے، امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز نے 91 ہجری میں پہلی مستقل دیوار خانہ کعبہ کے پتھروں سے ملتے جلتے پتھروں سے تعمیر کروائی تھی۔ یوں نور الدین زنگی کی خندق، صدیوں کی حفاظتی تہوں میں سب سے پہلی اور فیصلہ کن کڑی بنی۔
حوالہ: نور الدین علی السمہودی، وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ — روضہءِ اقدس کی تعمیراتی تاریخ اور حفاظتی تہوں کی تفصیل
وہ نوجوان جو تخت پر بیٹھتے ہی “عادل بادشاہ” کہلایا
سلطان نور الدین زنگی کی کہانی 1146ء کی ایک الم ناک رات سے شروع ہوتی ہے، جب ان کے والد عماد الدین زنگی کو ایک غلام نے نیند کی حالت میں قتل کر دیا۔ محض اٹھائیس برس کی عمر میں نور الدین کو حلب کی باگ ڈور سنبھالنی پڑی۔ لیکن جس چیز نے انہیں فوراً ممتاز کیا وہ ان کا انصاف تھا — روایت ہے کہ ایک عام عورت کی شکایت پر انہوں نے اپنے ہی ایک بااثر درباری سے ناجائز قبضہ کی گئی زمین واپس دلوائی، بغیر کسی رعایت کے۔ ان کے دربار میں قائم “دار العدل” میں خود سلطان ہفتے میں کئی بار بیٹھ کر عام لوگوں کی فریاد سنتے — ایک ایسا رواج جو اس دور کے بادشاہوں میں نایاب تھا۔
وہ جرنیل جس نے صلیبیوں کے خواب چکنا چور کیے
سلطان نور الدین زنگی محض ایک خوابوں کے پیچھے چلنے والا بادشاہ نہیں تھا — وہ اپنے دور کا سب سے زیرک اور بہادر سپہ سالار بھی تھا۔ 1118ء میں پیدا ہونے والے نور الدین نے اپنے والد عماد الدین زنگی کی وفات کے بعد حلب کی حکومت سنبھالی، اور مسلسل کوششوں سے شام کے بکھرے ہوئے علاقوں کو ایک جھنڈے تلے اکٹھا کیا۔ 1149ء میں معرکہ عِنَب میں نور الدین نے صلیبی افواج کو عبرتناک شکست دی اور انطاکیہ کے حکمران ریمونڈ کو قتل کر دیا — یہ فتح صلیبی ریاستوں کے حوصلے توڑنے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ اس کے بعد دمشق کی فتح (1154ء) کے ساتھ نور الدین نے پورے شام کو ایک وحدت میں پرو دیا، جو صلاح الدین ایوبی کی بعد کی فتوحات کی بنیاد بنی۔
وہ مشہور جملہ جس نے دشمن کو بھی حیران کر دیا
سلطان نور الدین زنگی کی شخصیت کا ایک اور پہلو اس وقت سامنے آیا جب یروشلم کے صلیبی حکمران بالڈون سوم کا انتقال ہوا۔ اس کے مشیروں نے سلطان کو مشورہ دیا کہ یہ کمزوری کا لمحہ ہے، فوراً حملہ کر دیا جائے۔ لیکن نور الدین نے ایک ایسا جواب دیا جو تاریخ میں آج تک یاد رکھا جاتا ہے: “ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے غم میں شریک ہوں اور رحم کھائیں، کیونکہ انہوں نے ایک ایسا حکمران کھویا ہے جیسا اب دوبارہ نہیں ملے گا۔” مسیحی مؤرخ ولیم آف ٹائر نے بھی نور الدین کی تعریف میں لکھا کہ وہ ایک عادل، بہادر اور دانا حکمران تھا۔ یہی وہ اخلاقی برتری تھی جس نے دشمن کو بھی نور الدین کی عزت کرنے پر مجبور کیا۔
وہ بادشاہ جو فقیروں کی طرح رہتا تھا
سلطان نور الدین زنگی کی سلطنت مصر و شام تک پھیلی ہوئی تھی، مگر ان کی ذاتی زندگی نہایت سادہ تھی۔ روایات بتاتی ہیں کہ وہ خود سادہ لباس پہنتے، بیت المال کا پیسہ ذاتی استعمال میں لانے سے احتراز کرتے، اور اپنی ذاتی کمائی سے مسجدیں اور رفاہی ادارے تعمیر کرواتے۔ انہوں نے دمشق میں مشہور “بیمارستان نوری” نامی ہسپتال قائم کیا جو صدیوں تک طب کی تعلیم اور علاج کا مرکز رہا۔ اس کے علاوہ درجنوں مدرسے اور “دار العدل” یعنی انصاف کا گھر تعمیر کروایا، جہاں عام آدمی بھی بلا امتیاز بادشاہ کے سامنے اپنی فریاد پیش کر سکتا تھا۔
میراث: صلاح الدین کے عروج کی بنیاد
1174ء میں سلطان نور الدین زنگی کا انتقال ہوا، مگر ان کا سب سے بڑا کارنامہ ابھی مکمل ہونا باقی تھا۔ انہی کے دورِ حکومت میں ان کے فوجی کمانڈر اسد الدین شیرکوہ اور ان کے بھتیجے — جو تاریخ میں صلاح الدین ایوبی کے نام سے مشہور ہوئے — نے مصر میں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔ نور الدین کے بچھائے ہوئے راستے پر چل کر ہی صلاح الدین نے بعد میں مصر و شام کو ایک پرچم تلے جمع کیا اور یروشلم کو صلیبیوں سے آزاد کروایا۔ یوں نور الدین زنگی کا خواب — ایک متحد اسلامی محاذ جو صلیبیوں کے خلاف کھڑا ہو سکے — ان کی وفات کے گیارہ سال بعد، صلاح الدین کے ہاتھوں مکمل ہوا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صلاح الدین ایوبی، جنہیں دنیا آج بھی سب سے بڑے مسلمان ہیرو کے طور پر یاد کرتی ہے، نے کبھی نور الدین زنگی کے احسانات کو نہیں بھلایا۔ وہ اکثر اپنے استاد کا ذکر نہایت عزت سے کیا کرتے تھے، اور جب انہوں نے مصر و شام کو متحد کیا، تو اسی نظام اور اداروں کو مزید مضبوط کیا جو نور الدین نے پہلے ہی قائم کر رکھے تھے — مدارس، ہسپتال، اور انصاف کے ادارے۔ یوں ایک ایسا خواب جو ایک رات کی دہشت سے شروع ہوا تھا، دو نسلوں کی محنت سے ایک پوری تہذیب کی بنیاد بن گیا۔ آج جب تاریخ دان بیت المقدس کی آزادی کا ذکر کرتے ہیں تو صلاح الدین کا نام تو سب کو یاد ہے، مگر وہ بنیاد بھولی نہیں جا سکتی جو نور الدین زنگی نے، ایک خوفناک خواب کے بعد، اپنی عاجزی، انصاف اور بہادری سے رکھی تھی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوال
Q1: سلطان نور الدین زنگی نے خواب میں کیا دیکھا تھا؟
A1: مشہور روایت کے مطابق سلطان نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو اجنبیوں کی طرف اشارہ کرتے دیکھا اور مدد طلب کرنے کی آواز سنی، جس کے بعد وہ فوراً مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔
Q2:سلطان نور الدین زنگی کی سب سے بڑی کامیابی کیا تھی؟
A2: انہوں نے شام کے بکھرے علاقوں کو متحد کیا، صلیبیوں کو شکست دی، اور صلاح الدین ایوبی کے لیے وہ راستہ ہموار کیا جس پر چل کر بعد میں یروشلم آزاد کروایا گیا۔
Q3: کیا خواب اور سرنگ والا واقعہ تاریخی طور پر ثابت شدہ ہے؟
A3: یہ روایت السمہودی کی کتاب سے لی گئی ہے جو نور الدین زنگی کی وفات کے کافی عرصے بعد پیدا ہوئے، اور اس کی کوئی مستند سند موجود نہیں، اس لیے اسے مشہور تاریخی حکایت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
شفافیت کا نوٹ: اس واقعے کی سب سے قدیم معروف روایت بعد کے مؤرخین کے ذریعے نقل ہوئی ہے اور اس کی متصل سند موجود نہیں، اس لیے اسے حدیث کی طرح ثابت شدہ واقعہ قرار نہیں دیتے۔

Leave a Reply