خیبر کی فتح آسان نہ تھی۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کے مطابق، اس سے پہلے بعض صحابہ کو جھنڈا دیا گیا مگر کامیابی نہ ہوئی۔ رات کے اندھیرے میں نبی کریم ﷺ نے اعلان کیا، ایک ایسا جملہ جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا:
“کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں۔” (صحیح بخاری: 3701، صحیح مسلم: 2406)
اگلی صبح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس اعزاز کے منتظر تھے۔ نبی ﷺ نے پوچھا: “علی کہاں ہیں؟” بتایا گیا کہ ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ آپ ﷺ نے انہیں بلوایا، اپنا لعابِ دہن ان کی آنکھوں پر لگایا — انہیں شفا حاصل ہوئی — اور جھنڈا انہی کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں خیبر کی فتح عطا فرمائی۔
یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ یہ اس محبت کی جھلک تھی جو نبی کریم ﷺ کو اپنے چچا زاد بھائی، داماد، اور بچپن کے ساتھی — حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ — سے تھی۔ علی رضی اللہ عنہ کو ان کی شجاعت کے باعث “اسد اللہ” (اللہ کا شیر) کہا جاتا ہے، جبکہ “باب العلم” (علم کا دروازہ) کی نسبت مشہور ضرور ہے مگر حدیثی اعتبار سے محلِ بحث روایت سے جڑی ہوئی ہے — جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
نسب اور بچپن — نبی ﷺ کی گود میں پرورش
مشہور روایات میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر ہوئی۔ تاہم اس روایت کی صحت کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف موجود ہے؛ بعض علماء نے اسے قبول کیا جبکہ بعض، جیسے امام نووی، نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ان کے والد ابو طالب، نبی کریم ﷺ کے چچا اور سرپرست تھے۔ جب مکہ میں شدید قحط پڑا، تو نبی ﷺ نے اپنے چچا کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے علی کو اپنے گھر لے لیا۔ یوں علی رضی اللہ عنہ کا بچپن براہِ راست نبی کریم ﷺ کی نگرانی اور تربیت میں گزرا۔

جب نبوت کا آغاز ہوا تو علی رضی اللہ عنہ کی عمر تقریباً دس سال تھی۔ وہ ان چند ابتدائی لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا — اکثر روایات کے مطابق وہ پہلے بچے تھے جنہوں نے ایمان لایا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ بچپن ہی سے رسول اللہ ﷺ کی تربیت میں رہے اور ابتدائی عمر ہی میں اسلام قبول کیا — ایک ایسی پرورش جو ان کے بعد کے کردار پر گہرا اثر چھوڑ گئی۔
علی رضی اللہ عنہ کا ایک مشہور لقب “ابو تراب” (یعنی مٹی سے نسبت رکھنے والا) بھی تھا، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لقب انہیں خود نبی کریم ﷺ نے، پیار سے، عطا کیا تھا۔ ایک روایت کے مطابق نبی ﷺ نے انہیں گھر میں نہ پا کر تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ وہ مسجد میں زمین پر لیٹے سو رہے ہیں اور ان کے کپڑوں پر مٹی لگی ہوئی ہے۔ نبی ﷺ نے مسکراتے ہوئے انہیں جگایا اور فرمایا: “اٹھو، اے ابو تراب!” (صحیح بخاری: 441، 6204) — حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ لقب بہت محبوب تھا، اس لیے وہ اسے سب ناموں پر فوقیت دیتے تھے۔ یہ چھوٹا سا واقعہ اس بے تکلف، خاندانی محبت کی عکاسی کرتا ہے جو نبی کریم ﷺ اور علی رضی اللہ عنہ کے درمیان بچپن سے موجود تھی۔
“اے علی! تمہارا میرے ساتھ وہی مقام ہے جو ہارون کا موسیٰ کے ساتھ تھا”
غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا۔ علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات ناگوار گزری کہ وہ جہاد میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔ اس پر نبی ﷺ نے ایک ایسا جملہ کہا جو ہمیشہ کے لیے ان کے مقام کی گواہی بن گیا:
“کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا مقام میرے نزدیک وہی ہو جو ہارون کا موسیٰ کے نزدیک تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟” (جامع ترمذی: 3724، صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی مختلف الفاظ سے مروی)
ایک اور موقع پر، جب معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں کسی نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کریں، تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے یہی حدیث اور خیبر والا واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ یہ تین باتیں مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں کہ میں نے یہ نبی ﷺ سے خود سنیں۔
یہاں ایک اہم امانتداری کی بات: ایک اور مشہور حدیث — “من کنت مولاہ فعلی مولاہ” (جس کا میں مولا ہوں، علی اس کے مولا ہیں) — غدیرِ خم کے موقع پر نبی ﷺ سے منقول ہے۔ جامع ترمذی (حدیث: 3713) میں امام ترمذی نے اسے “حسن غریب” قرار دیا ہے (نہ کہ صحیح)۔ اس حدیث کے مفہوم اور سیاسی/جانشینی کے معنی پر مکاتبِ فکر کے درمیان قدیم اختلاف موجود ہے۔ اہلِ سنت کے نزدیک اس کا مفہوم علی رضی اللہ عنہ سے محبت، قربت اور ان کے مقام کی توثیق ہے — جبکہ کچھ دیگر مکاتبِ فکر اسے سیاسی جانشینی کے معنی میں لیتے ہیں۔ ہم یہاں محبت و منقبت کے پہلو پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔

صلح حدیبیہ کا وہ لمحہ جب نبی ﷺ نے خود قلم اٹھایا
ایک نہایت کم بیان کیا جانے والا مگر مکمل طور پر مستند واقعہ (صحیح بخاری: 3184، صحیح مسلم: 1783) صلح حدیبیہ کے موقع پر پیش آیا۔ معاہدے کی تحریر علی رضی اللہ عنہ لکھ رہے تھے۔ جب انہوں نے “محمد، اللہ کے رسول” لکھا، تو قریش کے نمائندے نے اعتراض کیا کہ اگر وہ نبی ﷺ کو رسول مانتے تو لڑائی ہی کیوں کرتے — انہوں نے مطالبہ کیا کہ صرف “محمد بن عبداللہ” لکھا جائے۔
نبی ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ لفظ “اللہ کے رسول” مٹا دیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے، شدید محبت اور عقیدت کے جذبے سے مغلوب ہو کر، انکار کر دیا اور کہا: “اللہ کی قسم، میں یہ کبھی نہیں مٹاؤں گا۔” اس پر نبی کریم ﷺ نے خود اس مقام کو مٹایا اور “محمد بن عبداللہ” لکھوایا۔ یہ اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کی نبی ﷺ سے محبت اس قدر گہری تھی کہ وہ آپ ﷺ کے متعلق کوئی بھی معزز لفظ اپنے ہاتھ سے مٹانے پر رضامند نہ ہوئے — ایک واقعہ جو عام طور پر معیاری مضامین میں شامل نہیں کیا جاتا۔
“میں علم کا شہر ہوں، اور علی اس کا دروازہ”
علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت میں صرف تلوار کی طاقت نہیں تھی — وہ قرآن و فقہ کے سب سے بڑے ماہرین میں شمار ہوتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں یمن کا قاضی مقرر کیا۔ روایت کے مطابق روانگی کے وقت نبی ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی، اور علی رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں کہ اس دعا کے بعد انہیں کبھی دو فریقوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں شک نہیں ہوا۔ یہ روایت مختلف کتبِ حدیث میں کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ آئی ہے، اس لیے اسے عمومی مفہوم کے طور پر ہی پیش کیا جا رہا ہے۔
ایک اور نہایت مشہور قول — “انا مدینۃ العلم و علی بابہا” (میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے) — امت میں صدیوں سے زبان زدِ عام ہے۔ یہ روایت مشہور ضرور ہے، لیکن اس کی سند کے بارے میں محدثین کے درمیان اختلاف ہے؛ بعض نے اسے کمزور قرار دیا جبکہ بعض اہلِ علم نے اس کے بعض طرق کو قابلِ اعتبار سمجھا۔ اسے علی رضی اللہ عنہ کے علمی مقام کی ایک مشہور تاریخی شہادت کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے، نہ کہ ایک متفقہ صحیح حدیث کے طور پر۔
اسد اللہ — میدانِ جنگ کا شیر
غزوہ بدر میں علی رضی اللہ عنہ نے ابتدائی معرکوں میں نمایاں بہادری کا مظاہرہ کیا۔ غزوہ احد میں، جب مسلمانوں کی صفیں بکھر گئیں، علی رضی اللہ عنہ ان چند جانثاروں میں شامل تھے جو نبی ﷺ کے گرد ڈٹے رہے۔
جنگِ بدر میں، جو اسلام کی پہلی بڑی معرکہ آرائی تھی، مشرکینِ مکہ کی طرف سے تین پہلوان — عتبہ، شیبہ اور ولید — مقابلے کے لیے میدان میں آئے۔ ان کے مقابلے پر نبی ﷺ نے حمزہ، عبیدہ اور علی رضی اللہ عنہم کو بھیجا۔ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے حریف ولید بن عتبہ کو مقابلے میں شکست دی اور قتل کیا، اور پھر حمزہ رضی اللہ عنہ کی مدد کو بھی پہنچے۔ یہ روایت صحیح مسلم اور دیگر معتبر کتبِ سیرت میں مروی ہے۔
مگر ان کی سب سے مشہور بہادری غزوہ خندق میں سامنے آئی۔ عرب کا مشہور و مہیب جنگجو، عمرو بن عبدِ وُد، جسے “ہزار سواروں کے برابر” کہا جاتا تھا، مسلمانوں کی خندق پار کر کے مقابلے کے لیے للکارتا رہا۔ کسی صحابی میں ہمت نہ ہوئی کہ آگے بڑھے، سوائے علی رضی اللہ عنہ کے۔ تاریخی روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس موقع پر اپنی تلوار ذوالفقار انہیں عطا کی — یہ ایک معروف تاریخی روایت ہے، تاہم اسے صحیح حدیث کے درجے میں پیش نہیں کرنا چاہیے۔ سخت مقابلے کے بعد علی رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عبدِ ود کو قتل کر دیا۔ بعض تاریخی و سیرت کی روایات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس وار کی غیر معمولی فضیلت بیان کی گئی ہے، تاہم اس سلسلے میں منقول مشہور قول کی سند مضبوط نہیں، اس لیے اسے صحیح حدیث کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
غزوہ بدر سے غزوہ احد تک: ذوالفقار کا سفر
ذوالفقار کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہے اور اس کی تاریخ بھی اہل سیرت کے ہاں معروف ہے۔ مؤرخین کے مطابق یہ تلوار غزوہ بدر (2ھ / 624ء) میں مسلمانوں کے ہاتھ مالِ غنیمت کے طور پر آئی تھی۔ یہ اسلحہ ایک مشرک کے استعمال میں تھا جو میدانِ بدر میں مارا گیا۔ ایک سال بعد غزوہ احد (3ھ / 625ء) میں جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلوار ٹوٹ گئی تو سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہی ذوالفقار انہیں عطا فرمائی۔ اسی معرکے کے بعد مسلمانوں میں ایک جملہ مشہور ہوا جو بعد میں ادب و خطاطی کا حصہ بن گیا:
“لَا فَتَى إِلَّا عَلِيّ، لَا سَيْفَ إِلَّا ذُو الْفَقَار”

ترجمہ: “علی کے سوا کوئی جوان نہیں، اور ذوالفقار کے سوا کوئی تلوار نہیں”یہ قول عربی ادب اور اسلامی تاریخ میں بہت مقبول ہوا اور آج بھی اسلامی خطاطی میں نظر آتا ہے۔ البتہ اس نعرے کو نبی کریم ﷺ کا فرمان ثابت کرنے والی روایت جامع ترمذی (3727) میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، لیکن محدثین نے اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔ امام ترمذی خود فرماتے ہیں کہ یہ حدیث “غریب” ہے۔اسی طرح بعض بعد کی کتب میں ذوالفقار کے آسمانی نزول کا ذکر ملتا ہے، لیکن یہ روایات اہل سنت کی مستند سیرت و تاریخ کی کتابوں میں نہیں پائی جاتیں اور زیادہ تر متاخر ادبی مصادر میں مذکور ہیں۔ اس لیے مستند تاریخی بیانیہ یہی ہے کہ ذوالفقار بدر کے مالِ غنیمت میں سے تھی اور احد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا کی گئی۔ جبکہ مذکورہ نعرے کو ایک مشہور تاریخی و ادبی قول سمجھا جائے، نہ کہ ثابت شدہ حدیث
لیلۃ المبیت — نبی ﷺ کے بستر پر سونے والی رات
ہجرت کی وہ خطرناک رات، جب مکہ کے سردار نبی کریم ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیے بیٹھے تھے تاکہ صبح ہوتے ہی آپ ﷺ کو قتل کر دیں — اسی رات نبی ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ ان کے بستر پر ان کی چادر اوڑھ کر سو جائیں، تاکہ قریش کو یہ گمان رہے کہ نبی ﷺ ابھی گھر میں موجود ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے بغیر کسی خوف کے یہ خطرناک ذمہ داری قبول کی، جانتے ہوئے کہ صبح تلواریں ان پر بھی چل سکتی ہیں۔ اسی رات کو تاریخ میں “لیلۃ المبیت” کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ سیرت اور تفسیر کی معروف روایات میں بیان ہوا ہے، تاہم اس کی تفصیلات کے مختلف درجات ہیں، اس لیے اسے صحیح بخاری/مسلم جیسے قطعی حدیثی واقعے کے بجائے ایک معروف سیرتی واقعہ سمجھنا چاہیے۔
صبح جب مشرکین نے بستر پر علی رضی اللہ عنہ کو پایا اور دیکھا کہ نبی ﷺ نکل چکے ہیں، تو انہیں شدید مایوسی ہوئی کہ ان کا منصوبہ ناکام ہو چکا تھا۔
سخاوت کی انتہا — اہلِ بیت کی تین دن کی قربانی
علی رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک نہایت کم بیان کیا جانے والا پہلو ان کی انتہائی سخاوت ہے۔ بعض تفسیری روایات میں سورۃ الانسان (76:8-9) کی تفسیر کے ضمن میں اہلِ بیت کی سخاوت کے حوالے سے ایک مشہور واقعہ منقول ہے: کہا جاتا ہے کہ علی، فاطمہ اور ان کے گھرانے نے، خود روزہ رکھتے ہوئے، اپنا افطار مسلسل ایک فقیر، ایک یتیم اور ایک قیدی کو دے دیا۔ یہ واقعہ مفسرین کی کتابوں میں بیان ہوا ہے، تاہم اس کی سند اور اس مخصوص آیت سے اس کے تعلق پر اہلِ علم میں اختلاف موجود ہے، اس لیے اسے ایک مستند تاریخی واقعہ کے بجائے ایک مشہور تفسیری روایت کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے۔
اسی دور میں نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے نہایت سادگی سے ہوا — نہ کوئی بڑا جہیز، نہ نمود و نمائش۔ اسی گھرانے سے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے، جن کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا: “حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔” (جامع ترمذی: 3768)
جب علی رضی اللہ عنہ نے اکیلے ایک بت خانہ فتح کیا
عام طور پر علی رضی اللہ عنہ کی بہادری کا ذکر نبی ﷺ کے ہمراہ کی گئی جنگوں تک محدود رہتا ہے — مگر ایک کم مشہور واقعہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں تنِ تنہا (اپنی موجودگی کے بغیر) ایک لشکر دے کر قبیلہ بنو طے کے مشہور بت “الفُلس” کو تباہ کرنے بھیجا۔ لشکر کی تعداد مختلف سیرتی روایات میں مختلف بیان ہوئی ہے (کچھ میں ڈیڑھ سو، کچھ میں تین سو سواروں کا ذکر ملتا ہے)، اس لیے کسی ایک قطعی عدد پر انحصار مناسب نہیں۔ اس مہم کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عرب کی تاریخ کے مشہور ترین سخی، حاتم طائی، کا بیٹا عدی بن حاتم اسی واقعے سے متاثر ہو کر بعد میں اسلام لے آیا اور ایک ممتاز صحابی بنا۔
خلفائے راشدین کے دور میں علی رضی اللہ عنہ کا کردار
حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ادوار میں علی رضی اللہ عنہ ان کے قریبی مشیر رہے۔ ان کی رائے کو خاص وزن دیا جاتا تھا، خاص طور پر فقہی اور قضا کے معاملات میں۔ نبی ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا تھا: “علی سب سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والے ہیں” — یہ قول بعض روایات میں آتا ہے، تاہم اس کی سند پر بھی محدثین میں کلام موجود ہے، اس لیے اسے احتیاط کے ساتھ نقل کرنا چاہیے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد، مدینہ کے مسلمانوں نے علی رضی اللہ عنہ سے خلافت سنبھالنے کی درخواست کی۔ وہ ابتدا میں ہچکچائے، مگر بالآخر 35 ہجری میں مدینہ کے نازک حالات کے درمیان مسلمانوں کی بیعت سے خلافت سنبھالی۔
خلیفہ بنتے ہی علی رضی اللہ عنہ نے اپنے پیشِ رو کے دورِ حکومت میں پیدا ہونے والی بعض انتظامی بے قاعدگیوں کی اصلاح شروع کر دی، خاص طور پر بیت المال کی منصفانہ تقسیم کے معاملے میں۔ انہوں نے تمام مسلمانوں کے لیے مساوی حقوق کا اصول قائم کیا، چاہے وہ اونچے رتبے کے صحابی ہوں یا عام آدمی۔ ان کا مشہور قول تھا:
“لوگو! تمہارا حق مجھ پر یہ ہے کہ میں تم سے کوئی چیز نہ چھپاؤں سوائے اللہ کے راز کے، اور میرا حق تم پر یہ ہے کہ تم بیعت پوری کرو اور نصیحت میں کوتاہی نہ کرو۔” — نہج البلاغہ، خطبہ 34 (سندی حیثیت پر بحث موجود ہے)
وہ کارنامہ جو کم لوگ جانتے ہیں — عربی گرامر کی بنیاد
اسلام کی تیزی سے پھیلتی سرحدوں کے ساتھ ساتھ عربی زبان میں غیر عربوں کی وجہ سے تلفظ اور قواعد کی غلطیاں بڑھنے لگیں — یہاں تک کہ قرآن پڑھنے میں بھی اعراب کی غلطیاں سامنے آنے لگیں۔ روایت کے مطابق، علی رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگرد ابو الاسود الدؤلی کو بلایا اور ایک پرچی پر لکھ کر دیا: “کلام اسم، فعل اور حرف پر مشتمل ہے” — یہی جملہ عربی گرامر (نحو) کا سب سے پہلا بنیادی اصول بنا۔ یوں علی رضی اللہ عنہ کو عربی زبان کے قواعد کی بنیاد رکھنے کا سہرا بھی دیا جاتا ہے — ایک ایسا کارنامہ جو ان کی تلوار اور تقویٰ کے قصوں کے سائے میں اکثر گم ہو جاتا ہے۔ یہ روایت تاریخی و لغوی مصادر میں معروف ہے، اگرچہ اس کی مکمل تفصیلات پر لغت کے مؤرخین میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔
مالک اشتر کے نام خط — انصاف پر ایک شاہکار تحریر
جب علی رضی اللہ عنہ نے مالک اشتر کو مصر کا گورنر مقرر کیا، تو انہیں ایک نہایت تفصیلی اور جامع خط لکھا جو حکمرانی، انصاف اور رعایا کے حقوق پر مبنی تھا۔ اس خط میں انہوں نے مالک اشتر کو نصیحت کی کہ عوام کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آئیں، کیونکہ رعایا یا تو دین میں بھائی ہیں یا تخلیق میں برابر کے انسان۔ یہ خط آج بھی سیاسی فلسفے اور حکمرانی کی تاریخ میں ایک شاہکار تحریر سمجھا جاتا ہے، اور اسے غیر مسلم اسکالرز اور جدید طرزِ حکمرانی پر لکھنے والوں نے بھی اہمیت دی ہے۔ واضح رہے کہ نہج البلاغہ کی تمام روایات کی سندی حیثیت پر علماء میں بحث موجود ہے، اس لیے اسے ایک تاریخی طور پر منسوب، بامعنی تحریر کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے۔
جنگِ جمل — ایک المناک فتنہ، نہ کہ دشمنی
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت نے پوری امت کو صدمے اور اضطراب میں ڈال دیا۔ قاتلوں کی شناخت اور فوری قصاص کا مطالبہ زور پکڑتا گیا، جبکہ علی رضی اللہ عنہ، خلیفہ کی حیثیت سے، نظم و ضبط بحال کر کے معاملے کو قانونی طریقے سے حل کرنا چاہتے تھے — کیونکہ اس وقت مدینہ میں انتشار اتنا زیادہ تھا کہ فوری کارروائی مزید خونریزی کا سبب بن سکتی تھی۔
حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما — دونوں جلیل القدر صحابی اور جنت کی بشارت پانے والوں میں شامل — اور امّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس تاخیر پر بے چین ہو گئے اور قاتلوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ لے کر بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ کسی ذاتی عناد یا علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں نہیں تھا، بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص لینے کے جذبے سے تھا — ایک ایسا مطالبہ جو خود علی رضی اللہ عنہ کے دل میں بھی موجود تھا، فرق صرف وقت اور طریقہ کار کا تھا۔
علی رضی اللہ عنہ خود بھی بصرہ پہنچے، اور دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست بات چیت ہوئی۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان صلح کی کوششیں کامیاب ہونے کے قریب تھیں، مگر پھر حالات اچانک بگڑ گئے اور لڑائی شروع ہو گئی۔ بعض روایات اس کے لیے ایسے عناصر کو ذمہ دار قرار دیتی ہیں جو صلح نہیں چاہتے تھے، تاہم اس تفصیل کو قطعی تاریخی حقیقت کے طور پر بیان کرنا مشکل ہے کیونکہ اس واقعے کی ابتدائی تاریخی روایات میں تفصیلات مختلف ہیں۔
یہ اسلامی تاریخ کی پہلی خانہ جنگی (فتنہ) تھی، اور امتِ مسلمہ کے لیے ایک نہایت دردناک باب۔ اہلِ سنت کے علماء نے اس واقعے کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اجتہادی اختلاف کے تناظر میں بیان کیا ہے اور صحابہ کے بارے میں زبان کو احتیاط، ادب اور حسنِ ظن کا پابند رکھنے کی تاکید کی ہے۔

جنگ کے بعد علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نہایت عزت و احترام کا معاملہ کیا۔ انہیں ایک باعزت فوجی دستے کے ساتھ، جس کی قیادت ان کے بھائی محمد بن ابی بکر اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، مدینہ واپس بھجوایا گیا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے میدان سے واپس لوٹنے اور بعد میں شہادت پانے کی تفصیلات مختلف تاریخی مصادر میں مختلف انداز سے بیان ہوئی ہیں، اس لیے یہاں صرف اتنا کہنا مناسب ہے کہ وہ باقاعدہ لڑائی میں شریک ہونے سے پہلے ہی میدانِ جنگ چھوڑ چکے تھے۔
جنگِ جمل ہمیں سکھاتی ہے کہ نیک نیت لوگ بھی، اگر افہام و تفہیم کی جگہ جلد بازی اور بدگمانی کو جگہ دیں، تو کیسے ایک بڑے سانحے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ واقعہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت میں کوئی کمی نہیں لاتا — بلکہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بہترین لوگ بھی انسان تھے، اور امت کو انتشار سے بچانے کے لیے صبر اور تحمل کتنا ضروری ہے۔
جنگِ صفین اور خوارج کا ظہور
جنگِ جمل کے بعد علی رضی اللہ عنہ کا اگلا بڑا چیلنج شام کے گورنر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے سامنے آیا، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے مطالبے پر بیعت میں تاخیر کر رہے تھے۔ یہ تنازع جنگِ صفین کی صورت میں سامنے آیا، جو کئی ماہ جاری رہا اور بالآخر ثالثی (تحکیم) پر منتج ہوئی۔
اسی ثالثی کے فیصلے سے ناراض ہو کر علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کا ایک حصہ الگ ہو گیا اور بعد میں خوارج کے نام سے معروف ہوا۔ یہ گروہ بالآخر علی رضی اللہ عنہ کی جان کے درپے ہو گیا۔
صفین میں علی رضی اللہ عنہ کے الفاظ
جنگِ صفین کے دوران بھی علی رضی اللہ عنہ کا کردار نہایت باوقار رہا۔ وہ لڑائی سے پہلے تک ہر ممکن مصالحت کی کوشش کرتے رہے، اور اپنے سپاہیوں کو سختی سے ہدایت دیتے کہ وہ پہل نہ کریں، زخمیوں پر وار نہ کریں، اور بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کریں۔ تاریخ الطبری میں ان کی یہ ہدایت محفوظ ہے:
“تم میں سے کوئی جنگ شروع نہ کرے جب تک وہ خود شروع نہ کریں.. اور جو بھاگ جائے اسے قتل نہ کرو، اور جو زخمی ہو اسے ختم نہ کرو۔” — تاریخی روایات میں منقول، تاریخ الطبری کے واقعاتِ صفین کے ذیل میں
ان واقعات سے یہ پہلو سامنے آتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ خانہ جنگی کو پسندیدہ صورتِ حال نہیں سمجھتے تھے اور ممکن حد تک مصالحت کی کوشش کرتے رہے۔
شہادت — مشہور قول کے مطابق 21 رمضان، 40 ہجری
خوارج کے ایک گروہ نے علی، معاویہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم کو بیک وقت قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، تاکہ امت کا انتشار مکمل ہو جائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ منصوبہ عبدالرحمٰن بن ملجم نے عملی شکل دی، جبکہ دیگر دو ساتھیوں نے معاویہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو نشانہ بنایا — معاویہ رضی اللہ عنہ زخمی ہو کر بچ گئے، جبکہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اس دن موجود نہ تھے اور ان کی جگہ ایک دوسرے شخص کو غلطی سے قتل کر دیا گیا۔
فجر کے وقت کوفہ کی مسجد میں عبدالرحمٰن بن ملجم نے، مشہور روایات کے مطابق زہر آلود تلوار سے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر پر وار کیا۔ دو دن زخموں کی تاب لاتے رہے، اور مشہور قول کے مطابق 21 رمضان 40 ہجری کو ان کی روح پرواز کر گئی۔ اپنی وفات سے پہلے انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ اگر وہ فوت ہو جائیں تو ابن ملجم کو صرف ایک ہی وار میں قصاص میں قتل کیا جائے، زیادتی نہ کی جائے — ایک ایسی ہدایت جو ان کے عدل کے کردار کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔
“اگر میں زندہ رہا تو مجھے فیصلہ کرنے دو کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے، اور اگر میں مر جاؤں تو اسے صرف ایک ہی وار سے قتل کرنا، اس کی لاش کو مثلہ نہ کرنا۔” — حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وصیت، تاریخی روایات میں منقول
میراث — علم، عدل اور تواضع کی مثال
علی رضی اللہ عنہ کی زندگی علم، عدل اور سادگی کا مجموعہ تھی۔ ان کے فرمودات آج بھی عربی ادب اور حکمت کی بنیادی کتابوں میں شامل ہیں — خاص طور پر “نہج البلاغہ” جیسی کتابوں میں ان کے خطبات و اقوال محفوظ ہیں، اگرچہ ان کی تمام روایات کی سندی حیثیت پر علماء میں بحث موجود ہے۔
ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان، بہادری اور علم — تینوں کا امتزاج ہی حقیقی قیادت کی بنیاد ہے۔ نبی کریم ﷺ کی محبت، اہلِ بیت کی عزت، اور عدل و انصاف کا وہ معیار جو انہوں نے قائم کیا، آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
علی رضی اللہ عنہ کا اپنا ایک منقول قول، جو ان کی سادگی اور نبی ﷺ سے محبت کی بہترین عکاسی کرتا ہے:
“رسول اللہ ﷺ ہمیں ہمارے مال، اولاد، والدین اور شدید پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب تھے۔” — علی رضی اللہ عنہ سے منقول قول (نہ کہ حدیثِ نبوی)
یہی وہ محبت تھی جس نے علی رضی اللہ عنہ کو بچپن سے شہادت تک — ہر مرحلے پر — نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر قائم رکھا۔ ان کا نام آج بھی، چودہ صدیاں گزرنے کے بعد، دنیا بھر کے مسلمانوں کی زبان پر بے پناہ عزت و محبت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
حوالہ جات (References)
یہ مضمون درج ذیل اہم مصادر پر مبنی ہے: صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، تاریخ الطبری، سیرت ابن ہشام اور نہج البلاغہ (منسوب روایات)۔ جہاں کسی روایت کی سند کمزور، متنازع یا مختلف فیہ ہے، اسے واضح طور پر نشان زد کیا گیا ہے — بشمول حدیثِ غدیرِ خم کے بارے میں امام ترمذی کا حکم (“حسن غریب”)، “أنا مدینۃ العلم” اور غزوۂ خندق سے متعلق بعض مشہور روایات کی سندی بحث، نہج البلاغہ کی عمومی سندی حیثیت، عربی گرامر کی بنیاد سے متعلق تاریخی روایت، سورۃ الانسان کی تفسیر سے جڑا سخاوت کا واقعہ، اور الفُلس کی مہم میں لشکر کی تعداد کے اختلاف۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خانہ کعبہ میں پیدائش، شہادت کی صحیح تاریخ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے میدانِ جنگ سے لوٹنے کی تفصیلات، اور جنگِ جمل کے تفصیلی اسباب سے متعلق روایات میں اہلِ علم کے مابین اختلاف موجود ہے، اور انہیں اسی تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ جنگِ جمل کا واقعہ خاص احتیاط اور امتِ مسلمہ کے مختلف مکاتبِ فکر کے احترام کے ساتھ، مرکزی اہلِ سنت روایت کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
سوال 1: حضرت علی رضی اللہ عنہ کون تھے؟
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی، داماد اور امتِ مسلمہ کے چوتھے خلیفہ راشد تھے۔ وہ بچپن ہی سے نبی ﷺ کی تربیت میں رہے اور ابتدائی عمر میں اسلام قبول کرنے والوں میں شامل تھے۔
سوال 2: حضرت علی رضی اللہ عنہ کو “اسد اللہ” کیوں کہا جاتا ہے؟
انہیں ان کی غیر معمولی شجاعت کی بنا پر “اسد اللہ” (اللہ کا شیر) کہا جاتا ہے، خاص طور پر غزوہ خیبر اور غزوہ خندق میں عمرو بن عبدِ ود کے خلاف ان کی بہادری کی وجہ سے۔
سوال 3: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نکاح کس سے ہوا؟
ان کا نکاح نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہوا، جس سے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے۔
سوال 4: جنگِ جمل کیا تھی؟
جنگِ جمل اسلامی تاریخ کی پہلی خانہ جنگی تھی، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد قصاص کے مطالبے پر پیدا ہونے والے اختلاف سے شروع ہوئی۔ اہلِ سنت کے علماء اسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اجتہادی اختلاف کے تناظر میں دیکھتے ہیں، نہ کہ ذاتی دشمنی کے طور پر۔
سوال 5: حضرت علی رضی اللہ عنہ کب خلیفہ بنے؟
وہ 35 ہجری میں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد، مدینہ کے مسلمانوں کی بیعت سے خلیفہ بنے۔
سوال 6: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کیسے ہوئی؟
مشہور قول کے مطابق 21 رمضان 40 ہجری کو، خارجی عبدالرحمٰن بن ملجم نے کوفہ کی مسجد میں فجر کے وقت زہر آلود تلوار سے ان پر وار کیا، جس سے دو دن بعد ان کی شہادت ہوئی۔
سوال 7: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عربی زبان سے کیا تعلق ہے؟
روایت کے مطابق، جب غیر عربوں کی وجہ سے عربی زبان میں غلطیاں بڑھنے لگیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگرد ابو الاسود الدؤلی کو عربی گرامر (نحو) کے بنیادی اصول بتائے — جو اس علم کی ابتدا سمجھی جاتی ہے۔

Leave a Reply